Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

دہشت گردی کسی ایک صوبے کی نہیں، پالیسیوں کے نتائج کا مسئلہ ہے، اے این پی کا مؤقف

دہشت گردی کسی ایک صوبے کی نہیں، پالیسیوں کے نتائج کا مسئلہ ہے، اے این پی کا مؤقف

عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر سینیٹر ایمل ولی خان نے کہا ہے کہ دہشت گردی کسی مخصوص صوبے یا علاقے کی پیداوار نہیں بلکہ ان ریاستی پالیسیوں کا نتیجہ ہے جنہوں نے گزشتہ کئی دہائیوں میں خیبر پختونخوا اور بلوچستان کو بدامنی کی لپیٹ میں دھکیلا۔ تاہم یہ مؤقف اے این پی کی سیاسی تشریح ہے، جسے ریاستی اداروں یا دیگر سیاسی حلقوں کے مؤقف سے الگ سمجھنا ضروری ہے
ایمل ولی خان نے دہشت گردی سے نمٹنے کے طریقہ کار میں مبینہ دوہرے معیار پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ انہیں پنجاب یا اسلام آباد کے محفوظ ہونے پر اعتراض نہیں، بلکہ سوال یہ ہے کہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے عوام کو بھی وہی امن اور تحفظ کیوں نہیں ملتا
ان کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا کے عوام گزشتہ تقریباً 5 دہائیوں سے دہشت گردی کا بھاری نقصان برداشت کر رہے ہیں انہوں نے سوال اٹھایا کہ ماضی میں عسکریت پسند تنظیموں کو کس نے قائم کیا، تربیت دی اور تزویراتی مقاصد کے لیے استعمال کیا
اے این پی رہنما نے کہا کہ ان کی جماعت کے سابق رہنماؤں خان عبدالغفار خان اور خان عبدالولی خان نے ماضی میں افغانستان کی جنگ کے اثرات پاکستان تک پہنچنے کے خدشات ظاہر کیے تھے، لیکن ان کے مؤقف کو اس وقت مختلف الزامات کے ذریعے مسترد کیا گیا
ایمل ولی خان کے مطابق اے این پی کا اعتراض یہ بھی ہے کہ پورے پاکستان کو صرف پنجاب کے تناظر میں نہیں دیکھا جانا چاہیے ان کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے عوام بھی امن، ترقی اور سیاسی استحکام کے برابر حق دار ہیں
انہوں نے موجودہ ریاستی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ماضی کی غلطیوں سے مطلوبہ سبق حاصل نہیں کیا گیا اور خیبر پختونخوا اب بھی اسلام آباد کے سیاسی اور تزویراتی مفادات کی قیمت ادا کر رہا ہے
اے این پی نے ایک مرتبہ پھر 1947 سے اب تک ملک کی سیاسی اور سلامتی کی تاریخ کا جائزہ لینے کے لیے ایک آزاد اور خودمختار حقیقت و مفاہمت کمیشن قائم کرنے کا مطالبہ کیا ہے پارٹی کے مطابق اس کمیشن کو یہ دیکھنا چاہیے کہ کن پالیسیوں کے نتیجے میں ملک کو اندرونی اور بیرونی تنازعات کا سامنا کرنا پڑا اور کن لوگوں نے آئین و قانون کی خلاف ورزی کی
تاہم دہشت گردی کی موجودہ صورتحال کو صرف ماضی کی ریاستی پالیسیوں سے جوڑنا بھی ایک مکمل تصویر نہیں پاکستان میں عسکریت پسند تنظیموں کے موجودہ حملے، ان کی تنظیمی سرگرمیاں، سرحدی حالات اور سکیورٹی چیلنجز بھی اس مسئلے کے اہم پہلو ہیں اس لیے پائیدار حل کے لیے سیاسی، سکیورٹی، معاشی اور علاقائی عوامل کو ایک ساتھ دیکھنا ضروری ہے
خیبر پختونخوا میں امن کا سوال اس لیے بھی اہم ہے کہ گزشتہ برسوں میں عام شہریوں، پولیس، فوج اور دیگر سکیورٹی اہلکاروں سمیت مختلف طبقات دہشت گردی سے متاثر ہوئے ہیں اے این پی خود بھی ماضی میں دہشت گردی کے خلاف شدید نقصان اٹھانے والی سیاسی جماعتوں میں شامل رہی ہے
اصل بحث اب یہ ہے کہ دہشت گردی کے موجودہ بحران کا ذمہ دار صرف ماضی کو قرار دے کر مسئلہ حل ہوسکتا ہے یا پاکستان کو اپنی ماضی اور موجودہ دونوں پالیسیوں کا غیر جانب دارانہ جائزہ لے کر ایسا راستہ اختیار کرنا ہوگا جس میں خیبر پختونخوا، بلوچستان اور ملک کے دیگر علاقوں کے شہریوں کو یکساں امن اور تحفظ حاصل ہو

قومی خبریں سے مزید