Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

گوادر سے خلیج تک نیا راستہ: پاکستان کے پاس بندرگاہ ہے، اب سوال یہ ہے کہ تجارت بھی آئے گی یا صرف وعدے؟

گوادر سے خلیج تک نیا راستہ: پاکستان کے پاس بندرگاہ ہے، اب سوال یہ ہے کہ تجارت بھی آئے گی یا صرف وعدے؟

پاکستان اور عمان نے گوادر پورٹ اور عمان کی صحار پورٹ کو Sister Ports بنانے پر پیش رفت شروع کردی ہے دونوں ممالک آنے والے ہفتوں میں متعلقہ وزارتوں کے ذریعے مفاہمتی یادداشت (MoU) کو حتمی شکل دینے کی کوشش کریں گے
یہ منصوبہ محض دو بندرگاہوں کی شراکت داری نہیں۔ اگر عملی شکل اختیار کرتا ہے تو گوادر کو خلیجی اور وسطی ایشیائی منڈیوں سے براہِ راست جوڑنے اور چین پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) کے لیے ایک نیا سمندری راستہ فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اس سے دونوں بندرگاہوں کے درمیان کارگو کی نقل و حرکت، ٹرانزٹ ٹائم اور علاقائی تجارت بہتر بنانے کا ہدف ہے
اصل کھیل بندرگاہ کا نہیں، استعمال کا ہے
گوادر پاکستان کے لیے برسوں سے ایک بڑے معاشی خواب کی علامت ہے لیکن بندرگاہ، سڑکیں اور زون بنا دینا کافی نہیں؛ اصل کامیابی اس وقت ہوگی جب کارگو، سرمایہ کاری، صنعت اور روزگار واقعی یہاں پہنچیں
تازہ مذاکرات میں عمانی سرمایہ کاری کو گوادر فری زون کی طرف راغب کرنے، لاجسٹکس، گوداموں اور فشریز میں مشترکہ منصوبوں کے امکانات بھی زیر بحث آئے ہیں
یعنی اگر یہ منصوبہ کامیاب ہوتا ہے تو گوادر صرف ایک بندرگاہ نہیں رہے گا بلکہ پاکستان، خلیج اور وسطی ایشیا کے درمیان تجارتی پل بن سکتا ہے
صرف سمندر نہیں، ہوا کا راستہ بھی
پاکستان اور عمان نے گوادر انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے عمان کے لیے براہِ راست فضائی رابطے پر بھی بات کی ہے مجوزہ سروس عمان کی Salam Air کے ذریعے چلانے کی تجویز زیر غور ہے، جس سے کاروباری افراد اور مسافروں کی آمدورفت میں آسانی پیدا ہوسکتی ہے
دونوں ممالک نے بندرگاہی انتظام، ڈریجنگ، ڈیجیٹل پورٹ آپریشنز اور پاکستانی پورٹ عملے کی تربیت میں تکنیکی تعاون بڑھانے پر بھی اتفاق کیا ہے
مگر پاکستان کے لیے اصل امتحان اب شروع ہوتا ہے
گوادر کو علاقائی تجارتی مرکز بنانے کے لیے صرف MoU کافی نہیں ہوگا۔
پاکستان کو یہ ثابت کرنا ہوگا کہ وہ:

  • کارگو کو تیزی اور کم لاگت سے منتقل کرسکتا ہے؛
  • سرمایہ کاروں کو قابلِ اعتماد ماحول دے سکتا ہے؛
  • گوادر فری زون میں حقیقی صنعتیں لا سکتا ہے؛
  • بندرگاہ کو CPEC اور وسطی ایشیا کے تجارتی راستوں سے مؤثر طور پر جوڑ سکتا ہے؛
  • اور سب سے بڑھ کر گوادر کے مقامی لوگوں کو اس معاشی سرگرمی کا حقیقی حصہ دار بنا سکتا ہے
    گوادر اور صحار کی شراکت داری ایک بڑا موقع ہے، لیکن پاکستان کی تاریخ میں ایسے معاشی وعدے پہلے بھی بہت ہوئے ہیں اس بار کامیابی کا پیمانہ MoU پر دستخط نہیں، بلکہ یہ ہوگا کہ گوادر سے کتنے کنٹینر نکلتے ہیں، کتنی صنعتیں لگتی ہیں، کتنی سرمایہ کاری آتی ہے اور کتنے مقامی نوجوانوں کو روزگار ملتا ہے

قومی خبریں سے مزید