سندھ طاس معاہدہ ختم نہیں کیا جاسکتا، پانی کو سیاسی دباؤ کا ہتھیار بنانے کی کوششوں پر اہم قانونی فیصلہ
سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے ثالثی عدالت کے تازہ فیصلے نے واضح کر دیا ہے کہ 1960 میں طے پانے والا معاہدہ اب بھی مکمل طور پر نافذ ہے اور کوئی ایک فریق اپنی طرف سے اسے معطل نہیں کرسکتا۔ 31 اگست کو عدالت نے متفقہ طور پر بھارت کی جانب سے معاہدے کو غیر فعال قرار دینے کی کوشش مسترد کردی اور رتل پن بجلی منصوبے کی بعض تعمیرات پر عبوری پابندیاں بھی عائد کردیں
اس فیصلے کا فوری قانونی مطلب یہ ہے کہ بھارت اب بھی سندھ طاس معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریوں کا پابند ہے عدالت نے واضح کیا کہ کسی ملک کی جغرافیائی برتری اسے دریاؤں پر اپنی مرضی مسلط کرنے یا بین الاقوامی معاہدے سے یکطرفہ طور پر دستبردار ہونے کا اختیار نہیں دیتی
بھارت نے اپریل 2025 میں یہ مؤقف اختیار کیا تھا کہ جب تک پاکستان مبینہ سرحد پار دہشت گردی کی حمایت کو قابل اعتبار اور مستقل طور پر ختم نہیں کرتا، سندھ طاس معاہدہ معطل رہے گا عدالت نے دہشت گردی کے معاملے سمیت بھارت کی جانب سے پیش کیے گئے دیگر دلائل کا جائزہ لیا، جن میں خودمختاری، مبینہ معاہداتی خلاف ورزی، حالات میں تبدیلی اور مسلح تنازع شامل تھے، لیکن کسی کو بھی معاہدہ معطل یا ختم کرنے کی قانونی بنیاد تسلیم نہیں کیا
ماہرین کے مطابق اس فیصلے کی اہمیت صرف پاکستان اور بھارت تک محدود نہیں کیونکہ دنیا بھر میں پانی کی قلت بڑھ رہی ہے عالمی سطح پر پانی کی طلب 2050 تک 20 سے 25 فیصد بڑھنے کی پیش گوئی کی گئی ہے جبکہ مزید تقریباً 1 ارب افراد کو پانی کی شدید قلت کے خطرے کا سامنا ہوسکتا ہے۔ اس وقت 3 ارب سے زیادہ افراد ایسے دریائی نظاموں پر انحصار کرتے ہیں جو ایک سے زیادہ ملکوں میں بہتے ہیں
ایسے حالات میں بالائی علاقوں میں موجود ممالک کو دریاؤں کے پانی پر خاص جغرافیائی فائدہ حاصل ہوجاتا ہے بڑے ڈیم، پانی ذخیرہ کرنے کے منصوبے، پانی چھوڑنے کے اوقات اور دریائی معلومات پر اختیار کے ذریعے نچلے علاقوں میں موجود ممالک کی زراعت، بجلی کی پیداوار، سیلاب سے بچاؤ اور معیشت پر اثر ڈالا جاسکتا ہے
میکونگ دریائی نظام اس کی ایک مثال ہے جہاں بالائی علاقوں میں ڈیموں کے انتظام نے قلت کے دوران زیریں علاقوں میں پانی کے بہاؤ کو متاثر کیا ہے اسی طرح دریائے نیل پر ایتھوپیا کے بڑے پن بجلی منصوبے نے بھی پورے خطے میں پانی، ترقی اور قومی سلامتی کے معاملات کو ایک دوسرے سے جوڑ دیا ہے
ماہرین کے مطابق مستقبل کی پانی کی جنگیں ضروری نہیں کہ روایتی جنگوں کی صورت میں ہوں پانی کو دباؤ کے ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کا نیا طریقہ بنیادی ڈھانچے، پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی، تکنیکی فیصلوں اور سیاسی دباؤ کے ذریعے سامنے آسکتا ہے، جو بظاہر مسلح تصادم کی حد سے نیچے رہتا ہے
سندھ طاس معاہدے کی اہمیت اسی لیے مزید بڑھ جاتی ہے یہ معاہدہ 6 دہائیوں سے زیادہ عرصے تک جنگوں، فوجی کشیدگی اور شدید سفارتی اختلافات کے باوجود قائم رہا ہے تازہ عدالتی فیصلے نے اس اصول کو دوبارہ مضبوط کیا ہے کہ کسی سیاسی یا سلامتی کے تنازع کو پانی کے ایک بین الاقوامی معاہدے کو یکطرفہ طور پر ختم کرنے کا جواز نہیں بنایا جاسکتا
رتل منصوبے کے حوالے سے عبوری پابندیاں بھی اسی اصول کی عکاسی کرتی ہیں عدالت نے بعض تعمیراتی سرگرمیوں کو محدود کرکے یہ کوشش کی ہے کہ جاری قانونی کارروائی مکمل ہونے تک ایسے ناقابل واپسی اقدامات نہ کیے جائیں جو بعد میں پیدا ہونے والے قانونی فیصلے کو بے معنی بنا دیں
فیصلے کا بنیادی پیغام واضح ہے کہ سلامتی سے متعلق الزامات کسی پانی کے معاہدے کی زندگی کا یکطرفہ فیصلہ نہیں کرسکتے، خودمختاری پہلے سے قبول کی گئی بین الاقوامی ذمہ داریوں کو ختم نہیں کرسکتی اور بالائی علاقوں میں جغرافیائی برتری کسی ملک کو دریائی پانی کو سیاسی دباؤ کے ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کا کھلا اختیار نہیں دیتی





