ٹرمپ کی نئی نام بدلنے کی تجویز، ریاست نیو میکسیکو کا نام ’’نیو امریکا‘‘ رکھنے کا اشارہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نام تبدیل کرنے کی اپنی حالیہ مہم کو ایک نئی سطح پر لے جاتے ہوئے ریاست نیو میکسیکو کا نام تبدیل کرکے ’’نیو امریکا‘‘ رکھنے کا اشارہ دے دیا ہے
ٹرمپ نے اتوار کے روز سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ایک تصویر شیئر کی جس میں نیو میکسیکو کے نام میں موجود لفظ ’’میکسیکو‘‘ کو کاٹ کر اس کی جگہ ’’امریکا‘‘ لکھا گیا تھا اس طرح ریاست کا نیا نام ’’نیو امریکا‘‘ دکھایا گیا
یہ اقدام ٹرمپ کی جغرافیائی مقامات کے نام تبدیل کرنے کی حالیہ مہم کا تازہ ترین حصہ ہے اس سے قبل ان کی انتظامیہ نے خلیج میکسیکو کو ’’خلیج امریکا‘‘ اور لیک اونٹاریو کو ’’لیک امریکا‘‘ کہنے کی کوشش کی ہے۔ لیک اونٹاریو کا نام تبدیل کرنے کا اقدام کینیڈا کے ساتھ جاری تجارتی کشیدگی کے دوران سامنے آیا تھا
نیو میکسیکو کی گورنر مشیل لوجان گریشم نے ٹرمپ کی تجویز کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ ریاست کا نام کسی بحث کا موضوع نہیں ہے ان کے مطابق ریاست کی اپنی تاریخی اور ثقافتی شناخت ہے اور ایسے اقدامات عوام کو درپیش حقیقی مسائل سے توجہ ہٹانے کے مترادف ہیں
نیو میکسیکو 1912 میں امریکا کی 47ویں ریاست بنا تھا ریاست کا موجودہ نام تاریخی طور پر ہسپانوی نام ’’نیو میکسیکو‘‘ سے نکلا ہے، جو اس خطے کی طویل تاریخ اور میکسیکو کے ساتھ اس کے تاریخی تعلق کی عکاسی کرتا ہے
ٹرمپ کی جانب سے شیئر کی گئی تصویر کو وائٹ ہاؤس نے بھی دوبارہ نشر کیا، جس کے بعد یہ معاملہ مزید توجہ کا مرکز بن گیا۔ تاہم دستیاب اطلاعات کے مطابق ٹرمپ نے ابھی تک نیو میکسیکو کا نام قانونی طور پر تبدیل کرنے کا کوئی باقاعدہ حکم جاری نہیں کیا بلکہ سوشل میڈیا پر یہ تجویز اور تصور پیش کیا ہے





