آئی ایم ایف کا تازہ ریکارڈ: پاکستان پر 8 ارب ایس ڈی آر سے زیادہ قرض، اگلی ادائیگیاں سر پر، قرض کا پہاڑ ابھی کم نہیں ہوا

آئی ایم ایف کا تازہ ریکارڈ: پاکستان پر 8 ارب ایس ڈی آر سے زیادہ قرض، اگلی ادائیگیاں سر پر، قرض کا پہاڑ ابھی کم نہیں ہوا

واشنگٹن: بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے تازہ ترین ریکارڈ نے پاکستان کی بیرونی مالیاتی صورتحال کی ایک اہم تصویر سامنے رکھ دی ہے،4 ستمبر 2026 تک پاکستان کے ذمے آئی ایم ایف کا بقایا قرض 8.026 ارب ایس ڈی آر تھا،یکم سے 4 ستمبر کے دوران پاکستان کو آئی ایم ایف سے کوئی نئی رقم جاری نہیں ہوئی اور نہ ہی اس عرصے میں قرض کی کوئی واپسی ریکارڈ کی گئی،آئی ایم ایف نے یہ تازہ مالیاتی اعداد و شمار 7 ستمبر کو جاری کیے ہیں
یہ رقم امریکی ڈالر میں تبدیل کرنے پر تقریباً 11 ارب ڈالر کے برابر بنتی ہے، اگر 4 ستمبر کی آئی ایم ایف کی ایس ڈی آر شرح استعمال کی جائے،آئی ایم ایف کی ویب سائٹ پر 4 ستمبر کے لیے 1 ایس ڈی آر کی قیمت تقریباً 1.372 ڈالر درج ہے
تازہ ریکارڈ کا زیادہ اہم پہلو یہ ہے کہ پاکستان کا آئی ایم ایف پر موجود قرض صرف موجودہ رقم تک محدود نہیں بلکہ آنے والے برسوں میں اس کی واپسی کا سلسلہ بھی جاری رہنا ہے،آئی ایم ایف کے دستیاب ادائیگی شیڈول کے مطابق 25 ستمبر کو تقریباً 29.17 ملین ایس ڈی آر اور 30 ستمبر کو مزید 6.08 ملین ایس ڈی آر کی ادائیگی مقرر ہے،اکتوبر میں مزید 111.75 ملین ایس ڈی آر کی ادائیگی جبکہ نومبر اور دسمبر میں بھی قرض، سود اور سرچارجز کی ادائیگیاں شامل ہیں، یعنی کے پاکستان کو ستمبر تک دسمبر 2026 میں آئ ایم ایف کو قرض کی واپسی کی مد میں 373 ملین ڈالرز کی ادائیگیاں کرنا ہیں
یہ اعداد و شمار اس وقت سامنے آئے ہیں جب پاکستان آئی ایم ایف پروگرام کے تحت معاشی استحکام کا مرحلہ طے کرنے کا دعویٰ کر رہا ہے،آئی ایم ایف نے مئی میں پاکستان کے پروگرام کے تیسرے جائزے کی تکمیل کے بعد تقریباً 1.1 ارب ڈالر کی رقم جاری کرنے کی منظوری دی تھی، جبکہ اس کے ساتھ موسمیاتی اور ماحولیاتی لچک کے پروگرام کے تحت تقریباً 220 ملین ڈالر بھی فراہم کیے گئے تھے،اس کے بعد دونوں پروگراموں کے تحت پاکستان کو ملنے والی مجموعی رقم تقریباً 4.8 ارب ڈالر تک پہنچ گئی تھی
لیکن تازہ اعداد و شمار ایک بنیادی حقیقت بھی واضح کرتے ہیں،نئی رقم ملنے اور مجموعی قرض کم ہونے میں فرق ہے،پاکستان کو پروگرام کے تحت رقوم مل رہی ہیں، مگر اس کے ساتھ پہلے سے لیے گئے قرض کی واپسی، سود اور اضافی چارجز بھی جاری ہیں
آئی ایم ایف کے مطابق پاکستان کے لیے اصل چیلنج صرف قرض حاصل کرنا نہیں بلکہ وہ معاشی اصلاحات جاری رکھنا ہے جن سے ملک بیرونی مالیاتی مدد پر انحصار کم کر سکے،مئی کے جائزے میں فنڈ نے ٹیکس کا دائرہ وسیع کرنے، سرکاری اداروں میں اصلاحات، توانائی کے شعبے کی مالی پائیداری، مسابقت اور پیداواری صلاحیت بڑھانے، سماجی تحفظ اور انسانی سرمائے پر اخراجات بہتر بنانے کو بنیادی ترجیحات قرار دیا تھا
آئی ایم ایف کے ایک حالیہ جائزے میں یہ بھی اندازہ لگایا گیا تھا کہ پاکستان پر فنڈ کی مجموعی مالیاتی نمائش ستمبر 2027 میں تقریباً 9.775 ارب ایس ڈی آر تک پہنچ سکتی ہے، جو پاکستان کے آئی ایم ایف کو درکار قرض کی سنگینی کو ظاہر کرتی ہے
یوں 4 ستمبر کا تازہ ترین ریکارڈ کوئی نئی قرض منظوری یا نئی قسط کی خبر نہیں، بلکہ اس سے زیادہ اہم پاکستان کے موجودہ قرض اور آئندہ ادائیگیوں کی سرکاری تصویر ہے
پاکستان کی معیشت کے لیے اصل سوال اب یہ نہیں کہ آئی ایم ایف سے اگلی رقم کب ملے گی، بلکہ یہ ہے کہ ملک کب اس مقام پر پہنچے گا جہاں اسے اپنے قرض اتارنے کے لیے مسلسل نئے قرضوں کی ضرورت نہ پڑے

قومی خبریں سے مزید