Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

کینیڈا میں مقیم امریکی بھی ٹرمپ کی جانب سے لیک اونٹاریو کا نام بدلنے پر برہم

کینیڈا میں مقیم امریکی بھی ٹرمپ کی جانب سے لیک اونٹاریو کا نام بدلنے پر برہم

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے لیک اونٹاریو کا نام تبدیل کرکے ’’لیک امریکہ‘‘ رکھنے کے فیصلے پر کینیڈا میں مقیم متعدد امریکی شہریوں نے شدید ناراضی کا اظہار کیا ہے ان میں سے کئی افراد نے اس اقدام کو شرمناک، مضحکہ خیز اور بچکانہ قرار دیا ہے
ریٹائرڈ قانون کے پروفیسر بین ڈیوس، جو ورجینیا سے فروری 2025 میں کینیڈا منتقل ہوئے اور اب کیوبیک میں رہتے ہیں، نے کہا کہ جھیل کا نام تبدیل کرنے کا صدارتی حکم امریکی صدر کے منصب کے شایان شان نہیں۔ ان کے مطابق یہ صرف لوگوں کی توجہ اصل مسائل سے ہٹانے کی ایک اور کوشش ہے
ڈیوس نے تاریخی حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ لیک اونٹاریو کا نام 1794 کے کیننڈیگووا معاہدے میں بھی موجود تھا، جس پر امریکی صدر جارج واشنگٹن اور مقامی اقوام کے نمائندوں نے دستخط کیے تھے ان کا کہنا تھا کہ اگر یہ نام جارج واشنگٹن کے دور میں قابل قبول تھا تو ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے بھی اسے تبدیل کرنے کی کوئی وجہ نہیں
کینیڈا میں ایک اندازے کے مطابق 10 لاکھ سے زیادہ امریکی شہری رہتے ہیں، جن میں مستقل رہائشی، دوہری شہریت رکھنے والے اور طویل مدتی اجازت ناموں پر مقیم افراد شامل ہیں۔ ان میں سے کئی امریکیوں نے ٹرمپ کے فیصلے کو مسترد کردیا ہے
نووا اسکاٹیا میں رہنے والی ڈاونا ویڈ نے کہا کہ لیک اونٹاریو کا نام تبدیل کرنا امریکی صدر کا اختیار نہیں ان کے مطابق اگر کسی مرحلے پر نام تبدیل کرنے کا اختیار موجود بھی ہوتا تو ایسا فیصلہ یکطرفہ طور پر نہیں کیا جاسکتا
یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب کینیڈا اور امریکہ کے درمیان تجارتی تنازعات اور محصولات کے معاملے پر کشیدگی بڑھ رہی ہے امریکی صدر نے کینیڈا کی خودمختاری کے حوالے سے بھی کئی متنازع بیانات دیے ہیں اور کینیڈا کو امریکہ کی 51ویں ریاست بنانے کی بات بھی کرتے رہے ہیں
کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی اور اونٹاریو کے پریمیئر ڈگ فورڈ واضح کرچکے ہیں کہ دونوں ممالک کے درمیان موجود یہ عظیم آبی خطہ کینیڈا میں لیک اونٹاریو ہی کہلائے گا، چاہے امریکہ میں اسے کوئی اور نام دیا جائے۔ امریکی صدارتی حکم کا اطلاق امریکہ کے دائرہ اختیار تک محدود ہے
امریکہ میں بھی اس فیصلے کو زیادہ عوامی حمایت حاصل نہیں ہوئی ایک حالیہ سروے میں تقریباً 1,000 امریکیوں میں سے صرف 14 فیصد نے لیک اونٹاریو کا نام تبدیل کرنے کی حمایت کی
ہیملٹن میں رہنے والے امریکی شہری کرس پالمر نے اس اقدام کو بے فائدہ اور عجلت میں کیا گیا ردعمل قرار دیا۔ انہوں نے خاص طور پر گوگل اور ایپل کی جانب سے امریکی صارفین کے لیے نقشوں میں جھیل کا نیا نام دکھائے جانے پر بھی مایوسی کا اظہار کیا
لندن، اونٹاریو میں رہنے والے کرس کُبنِسکی نے تو ٹرمپ کی جانب سے کینیڈا کو 51ویں ریاست بنانے کی باتوں سے ناراضی کے بعد اپنی امریکی شہریت بھی ترک کردی ان کا کہنا تھا کہ لیک اونٹاریو کا نام تبدیل کرنا ’’بچکانہ‘‘ اور ’’عجیب‘‘ فیصلہ ہے

قومی خبریں سے مزید