ایک ریاست کا انتخاب جدید جرمنی کی بنیادیں کیوں ہلا سکتا ہے؟سیکسنی انہالٹ کا انتخاب پورے ملک کے سیاسی نظام کے لیے امتحان بن گیا
جرمنی کی مشرقی ریاست سیکسنی انہالٹ میں آج ہونے والا ریاستی انتخاب محض 21 لاکھ آبادی والی ایک ریاست کی حکومت کے انتخاب کا معاملہ نہیں رہا بلکہ اسے جدید جرمنی کے سیاسی نظام کے لیے ایک اہم امتحان کے طور پر دیکھا جا رہا ہے
دائیں بازو کی جماعت آلٹرنیٹو فار جرمنی، جسے ریاستی سطح پر جرمنی کی داخلی انٹیلی جنس ایجنسی نے انتہائی دائیں بازو کی جماعت قرار دیا ہے، رائے عامہ کے جائزوں میں 40 فیصد سے زیادہ حمایت کے ساتھ واضح برتری حاصل کیے ہوئے ہے،حکمران کرسچن ڈیموکریٹک یونین تقریباً 20 سے 23 فیصد کے ساتھ بہت پیچھے ہے
اگر آلٹرنیٹو فار جرمنی نہ صرف سب سے زیادہ ووٹ حاصل کرتی ہے بلکہ پارلیمان میں واضح اکثریت بھی حاصل کر لیتی ہے تو دوسری عالمی جنگ کے بعد یہ پہلا موقع ہوگا کہ جرمنی کی کسی ریاست کی حکومت انتہائی دائیں بازو کی ایسی جماعت کے ہاتھ میں جائے،یہی امکان اس انتخاب کو غیر معمولی اہمیت دے رہا ہے
تاہم سب سے زیادہ ووٹ حاصل کرنا اور حکومت بنانا دو الگ چیزیں ہیں،جرمنی کی بڑی جماعتیں آلٹرنیٹو فار جرمنی کے ساتھ اتحاد کرنے سے انکار کرتی رہی ہیں،اس لیے اگر اسے اکثریت نہ ملی تو سب سے زیادہ نشستیں حاصل کرنے کے باوجود حکومت بنانا اس کے لیے مشکل ہوسکتا ہے،انتخابی نظام میں 5 فیصد کی حد بھی حتمی نشستوں کی تقسیم اور ممکنہ اتحادوں کو متاثر کرے گی
اس انتخاب کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ گئی ہے کہ مشرقی جرمنی کے کئی علاقوں میں آلٹرنیٹو فار جرمنی کی حمایت تیزی سے بڑھی ہے،تجزیہ کار اس رجحان کو مہنگائی، معاشی بے اطمینانی، روزگار اور عوامی خدمات کے مسائل، امیگریشن پر تشویش اور برلن کی سیاسی اشرافیہ سے دوری کے احساس سے جوڑتے ہیں
آلٹرنیٹو فار جرمنی کی انتخابی مہم میں غیر قانونی تارکین وطن کی ملک بدری، پناہ کے نظام میں سخت تبدیلیاں، قوم پرستانہ پالیسیوں اور ریاستی اداروں میں بڑی اصلاحات جیسے مطالبات مرکزی حیثیت رکھتے ہیں،پارٹی کے سیکسنی انہالٹ کے رہنما اولریش زیگمنڈ نے واضح کہا ہے کہ وہ مکمل اکثریت حاصل ہونے کی صورت میں اپنی جماعت کی حکومت قائم کرنا چاہتے ہیں
اس انتخاب کا ایک بڑا اثر برلن میں بھی محسوس ہوسکتا ہے،اگر آلٹرنیٹو فار جرمنی ریاستی سطح پر حکومت بنانے میں کامیاب ہوگئی تو یہ نہ صرف جرمنی کی جنگِ عظیم دوم کے بعد قائم سیاسی روایت میں ایک بڑی تبدیلی ہوگی بلکہ وفاقی حکومت کے لیے بھی یہ سوال اٹھائے گا کہ ملک میں بڑھتی ہوئی دائیں بازو کی حمایت کا مقابلہ کیسے کیا جائے
اس لیے سیکسنی انہالٹ کا آج کا انتخاب اپنی آبادی سے کہیں زیادہ بڑا سیاسی پیغام رکھتا ہے،نتیجہ جو بھی ہو، یہ واضح ہوچکا ہے کہ جرمنی کی روایتی سیاسی جماعتوں، مشرقی جرمنی کے ووٹروں اور ملک کے جنگِ عظیم دوم کے بعد تشکیل پانے والے سیاسی اتفاقِ رائے کے درمیان فاصلے نمایاں ہوچکے ہیں





