Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

یمن میں شدید جھڑپیں، ہلاکتوں کی تعداد 129 تک پہنچ گئی

یمن میں شدید جھڑپیں، ہلاکتوں کی تعداد 129 تک پہنچ گئی

یمن میں حوثی جنگجوؤں اور حکومتی فورسز کے درمیان شدید لڑائی میں ہلاکتوں کی تعداد 129 تک پہنچ گئی ہے، جسے حالیہ برسوں کی خونریز ترین جھڑپوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔ لڑائی بحیرہ احمر کے جنوبی داخلی راستے پر واقع انتہائی اہم باب المندب آبنائے کے قریب جاری ہے
حوثیوں نے جمعرات کو ساحلی علاقوں کے قریب زمینی حملہ شروع کیا اور اس کے ساتھ راکٹ اور ڈرون حملے بھی کیے ان کا مقصد باب المندب کے قریب مزید علاقوں پر قبضہ مضبوط کرنا اور اس اہم سمندری گزرگاہ تک اپنی رسائی بڑھانا ہے
یمنی فوج کے ایک عہدیدار کے مطابق حکومتی فورسز کے 66 اہلکار ہلاک ہوئے، جبکہ حوثیوں کے قریب ذرائع نے اپنے کم از کم 62 جنگجوؤں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔ اس طرح مجموعی ہلاکتیں 129 تک پہنچ گئی ہیں
حوثیوں نے بحیرہ احمر کے قریب حکومتی فورسز کی بعض اہم بلند مقامات پر بھی قبضہ کر لیا ہے ان مقامات سے وہ ساحلی علاقوں اور سمندری راستے پر نظر رکھنے کی پوزیشن حاصل کر سکتے ہیں خاص طور پر تعز اور المخا کے اطراف میں ان کی پیش قدمی نے حکومتی فورسز کے لیے تشویش بڑھا دی ہے
حوثیوں کی حکمت عملی کا ایک اہم مقصد المخا کی بندرگاہ کو حکومتی علاقوں سے کاٹنا اور باب المندب کے قریب پہاڑی علاقوں پر قبضہ حاصل کرنا بتایا جا رہا ہے تجزیہ کاروں کے مطابق اگر حوثی باب المندب یا المخا پر مؤثر کنٹرول حاصل کر لیتے ہیں تو انہیں یمنی حکومت اور سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات میں زیادہ مضبوط پوزیشن حاصل ہو سکتی ہے
باب المندب آبنائے عالمی تجارت کے لیے انتہائی اہم ہے کیونکہ یہ بحیرہ احمر کو خلیج عدن اور بحر ہند سے ملاتی ہے اس راستے سے گزرنے والے بحری جہاز نہر سویز کے ذریعے یورپ اور ایشیا کے درمیان تجارت کرتے ہیں۔ پہلے ہی خطے میں جاری کشیدگی کے باعث بحری نقل و حرکت متاثر ہو رہی ہے، اس لیے باب المندب میں مزید کشیدگی عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے بڑا خطرہ بن سکتی ہے
یمن میں جاری لڑائی ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے جاری خانہ جنگی کا حصہ ہے۔ 2022 میں سعودی حمایت یافتہ حکومتی فورسز اور حوثیوں کے درمیان جنگ بندی سے لڑائی میں نمایاں کمی آئی تھی، تاہم موجودہ علاقائی جنگ نے یمن میں دوبارہ کشیدگی کو بھڑکا دیا ہے
دوسری جانب آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت میں بھی شدید کمی واقع ہوئی ہے۔ بحری نقل و حرکت پر نظر رکھنے والے ادارے کے مطابق صرف 4 بحری جہاز اس آبی گزرگاہ میں داخل یا خارج ہوئے، جس سے خطے میں عالمی بحری تجارت کو درپیش خطرات مزید نمایاں ہو گئے ہیں
موجودہ صورتحال میں باب المندب اور آبنائے ہرمز دونوں کی اہمیت بڑھ گئی ہے اگر یمن میں حوثیوں کی پیش قدمی مزید آگے بڑھتی ہے اور باب المندب کے ذریعے بحری جہازوں کی آمدورفت متاثر ہوتی ہے تو اس کے اثرات صرف مشرق وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی تیل، گیس اور تجارتی سامان کی ترسیل پر بھی پڑ سکتے ہیں

قومی خبریں سے مزید