ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کو 17 سال قید کی سزا پر عدالتی نظام اور وکلا سے سخت سوالات
اسلام آباد: معروف وکیل صلاح الدین احمد نے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو دی گئی 17 سال قید کی سزا پر عدالتی نظام اور وکلا برادری کے کردار پر شدید سوالات اٹھائے ہیں ان کے مطابق دونوں کی گرفتاری، مقدمے اور سزا نے انصاف، قانونی طریقہ کار اور آزادی اظہار کے بنیادی اصولوں کے بارے میں سنگین خدشات پیدا کیے ہیں
رپورٹ کے مطابق جنوری میں جج افضل منجوکا نے ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کو 17،17 سال قید کی سزا سنائی تھی عدالتی فیصلے کے مطابق ایمان مزاری کے خلاف مقدمے میں ان کی جانب سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر کی گئی 6 پوسٹس کو بنیاد بنایا گیا تھا
ان پوسٹس میں بلوچستان میں مبینہ جعلی مقابلوں، جبری گمشدگیوں اور ہلاکتوں کے خلاف آواز اٹھانے، غیر قانونی حراست اور تشدد کا نشانہ بننے والے افراد کے بارے میں اظہار خیال اور بلوچستان میں ریاستی کارروائیوں سے متعلق سوالات شامل تھے
ایمان مزاری نے خیبر پختونخوا سے متعلق بھی 2 پوسٹس کی تھیں جن میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے سابق ترجمان احسان اللہ احسان کے معاملے اور ریاستی پالیسیوں پر تنقید کی گئی تھی۔ ایک اور پوسٹ میں پشتون تحفظ تحریک کے رہنما منظور پشتین کے بھائی غازی امان اللہ کی مبینہ جبری گمشدگی پر اعتراض کیا گیا تھا
تحریر کے مطابق ہادی چٹھہ نے خود کوئی پوسٹ نہیں کی تھی بلکہ ان پر ایمان مزاری کی 4 پوسٹس دوبارہ شیئر کرنے کا الزام عائد کیا گیا۔ دونوں کو دہشت گردی سے متعلق الزامات میں سزا سنائی گئی
صلاح الدین احمد نے سوال اٹھایا کہ اگر کسی شخص کے سیاسی یا ریاستی پالیسیوں سے متعلق خیالات سے اختلاف کیا جائے تو کیا اس بنیاد پر اسے دہشت گردی کا مجرم قرار دے کر 17 سال قید کی سزا دی جانی چاہیے
انہوں نے عدلیہ اور وکلا برادری سے بھی سوال کیا کہ اگر کسی مقدمے میں قانونی کارروائی اور منصفانہ سماعت کے اصول متاثر ہوں تو قانون کے محافظ اس پر خاموش کیوں رہیں۔ ان کے مطابق وکلا کی اکثریت کی جانب سے اپنے ساتھیوں کے دفاع میں مؤثر آواز نہ اٹھانا بھی باعث تشویش ہے
اس معاملے پر پہلے بھی انسانی حقوق کے حوالے سے تشویش سامنے آ چکی ہے ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کے مقدمے اور سزا نے پاکستان میں آزادی اظہار، اختلافِ رائے اور ریاستی پالیسیوں پر تنقید کی قانونی حدود کے حوالے سے ایک اہم بحث کو جنم دیا ہے





