لیوٹن کے سابق کار کارکن ریفارم یوکے کی طرف کیوں جا رہے ہیں، فیکٹریوں کی بندش سے ٹوٹی امیدوں نے برطانوی سیاست کا رخ بدل دیا
برطانیہ میں نائجل فاریج کی جماعت ریفارم یوکے کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کو صرف نسل پرستی، مہاجر مخالف جذبات یا دائیں بازو کی سیاست سے سمجھنا شاید کافی نہیں، گارڈین کے تجزیے میں لیوٹن کے سابق کار کارکنوں کی زندگیوں کو سامنے رکھتے ہوئے یہ سوال اٹھایا گیا ہے کہ آخر وہ لوگ جو کبھی لیبر پارٹی اور مزدور یونینوں کو اپنے مفادات کا محافظ سمجھتے تھے، اب ریفارم یوکے میں اپنی آواز کیوں تلاش کر رہے ہیں
اس کے لیے لندن کے سیاسی مرکز ویسٹ منسٹر سے تقریباً 40 میل دور لیوٹن کا رخ کرنا پڑتا ہے، جہاں کبھی گاڑیوں کی صنعت ہزاروں خاندانوں کے معاشی مستقبل کی بنیاد تھی
لیوٹن کے ان سابق کار کارکنوں کی کہانی دراصل برطانیہ کی صنعتی زوال کی کہانی ہے،وہ لوگ جنہوں نے اپنی جوانی فیکٹریوں میں گزاری، جن کی شناخت ان کی ملازمت، یونین اور مقامی برادری سے جڑی ہوئی تھی، وقت کے ساتھ نہ صرف اپنی ملازمتوں سے محروم ہوئے بلکہ انہیں یہ احساس بھی ہوا کہ وہ ادارے جن پر انہوں نے بھروسا کیا تھا، ان کے ساتھ کھڑے نہیں ہوئے
گارجین کے مطابق یہاں ریفارم یوکے کے ووٹر اچانک پیدا نہیں ہوئے،وہ برسوں کے ادارہ جاتی ناکامی کے نتیجے میں تشکیل پا رہے ہیں
ایک طرف وہ کمپنیاں تھیں جنہوں نے کارکنوں سے برسوں کام لینے کے بعد صنعت کے زوال کے ساتھ انہیں چھوڑ دیا،دوسری طرف لیبر پارٹی تھی، جس سے ان خاندانوں کی کئی نسلوں سے سیاسی وابستگی رہی، لیکن جسے یہ کارکن اب اپنی معاشی مشکلات کا مؤثر محافظ نہیں سمجھتے،اور تیسری طرف مزدور یونینیں تھیں، جن کے بارے میں بعض سابق کارکنوں کو محسوس ہوتا ہے کہ وہ بھی بدلتی ہوئی معیشت میں پہلے جیسی طاقت نہیں رکھتیں
یہ خلا اب فاریج کی سیاست کے لیے جگہ پیدا کر رہا ہے
ریفارم یوکےان کارکنوں سے یہ نہیں کہہ رہی کہ ان کی زندگی میں سب کچھ غلط اس لیے ہوا کیونکہ وہ کم تعلیم یافتہ یا متعصب ہیں،اس کے بجائے وہ ان کے غصے کو ایک سیاسی زبان فراہم کرتی ہے اور انہیں یہ احساس دلاتی ہے کہ لندن کی سیاسی اشرافیہ نے انہیں بھلا دیا ہے
یہی وہ نکتہ ہے جومحض ریفارم یوکے کے انتخابی عروج کی کہانی سے زیادہ اہم بنا دیتا ہے
لیوٹن کے سابق کار کارکنوں کی ناراضگی میں صرف امیگریشن یا ثقافتی مسائل نہیں بلکہ عزتِ نفس، روزگار، صنعتی شناخت اور معاشی تحفظ کے خاتمے کا دکھ بھی شامل ہے،جب ایک کارکن اپنی پوری زندگی کسی صنعت کو دیتا ہے اور پھر وہ صنعت بند ہو جاتی ہے، تو نقصان صرف تنخواہ کا نہیں ہوتا،اس کے ساتھ ایک پورا سماجی ڈھانچہ، برادری اور مستقبل کا تصور بھی ٹوٹ جاتا ہے
اسی لیے فاریج کے بارے میں سوال یہ نہیں کہ ’’کوئی اب بھی اسے ووٹ کیوں دے گا؟‘‘ بلکہ زیادہ اہم سوال یہ ہے کہ وہ لوگ جنہوں نے کبھی لیبر پارٹی، یونینوں اور صنعتی اداروں پر اعتماد کیا تھا، ان کا اعتماد آخر کس نے توڑا؟
لیوٹن اس سوال کا ایک ممکنہ جواب پیش کرتا ہے
یہ برطانیہ کی بدلتی ہوئی سیاست کا وہ پہلو ہے جسے صرف انتخابی اعدادوشمار سے سمجھنا مشکل ہے،ریفارم یوکے شاید صرف ووٹ نہیں حاصل کر رہی، بلکہ ان لوگوں کی سیاسی مایوسی کو اپنے حق میں تبدیل کر رہی ہے جنہیں روایتی سیاسی نظام نے پہلے ہی اپنے سے دور کر دیا ہے





