امریکی جج نے ڈاک کے ذریعے ووٹنگ پر ٹرمپ انتظامیہ کی نئی پابندیاں پھر روک دیں
امریکی وفاقی جج نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی جانب سے ڈاک کے ذریعے ووٹنگ کے طریقہ کار کو سخت کرنے کے لیے بنائے گئے نئے ضابطے پر ایک بار پھر پابندی برقرار رکھتے ہوئے اسے نومبر کے کانگریسی انتخابات سے قبل نافذ کرنے سے روک دیا ہے
بوسٹن کی وفاقی ضلعی عدالت کی جج اندرا تلوَنی نے جمعہ کو یہ حکم جاری کیا،یہ حکم ڈیموکریٹک ریاستوں اور ووٹنگ کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کی درخواست پر دیا گیا ہے،اس معاملے میں ایک ریاست پہلے ہی نومبر کے انتخابات کے لیے ڈاک کے ذریعے بھیجے جانے والے بیلٹ جاری کر چکی تھی
ٹرمپ انتظامیہ کے نئے ضابطے کے تحت ریاستوں سے کہا گیا تھا کہ وہ ڈاک کے ذریعے ووٹ حاصل کرنے والے افراد کی فہرستیں امریکی محکمہ ڈاک کو فراہم کریں، جبکہ بیلٹ پیپرز پر منفرد بار کوڈ استعمال کیے جائیں،انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ ان اقدامات سے ڈاک کے ذریعے ووٹنگ میں جعل سازی اور بے ضابطگیوں کو روکا جا سکے گا
جج تلوَنی نے تاہم قرار دیا کہ انتخابات کے انعقاد کا اختیار بنیادی طور پر ریاستوں کے پاس ہے اور صرف کانگریس کی منظور کردہ قانون سازی ہی اس اختیار کو تبدیل کر سکتی ہے،ان کے مطابق انتظامیہ کو انتخابات کے قواعد تبدیل کرنے کا کوئی ازخود اختیار حاصل نہیں ہے
عدالت نے اس عملی مشکل کو بھی اہم قرار دیا کہ ملک بھر میں تقریباً 10,000 انتخابی انتظامی حلقوں کو نئے ضابطے پر عمل درآمد کے لیے اپنے نظام اور طریقہ کار میں تبدیلیاں کرنا پڑتیں، جبکہ نومبر کے انتخابات میں چند ہی ہفتے باقی ہیں
ٹرمپ انتظامیہ نے عدالت کے فیصلے کے فوراً بعد اس کے خلاف اپیل دائر کر دی ہے، جس سے یہ معاملہ ممکنہ طور پر مزید اعلیٰ عدالتوں تک پہنچے گا
اس تنازعے کی اہمیت صرف ڈاک کے ذریعے ووٹنگ تک محدود نہیں،یہ دراصل ایک بڑے آئینی سوال میں تبدیل ہو گیا ہے کہ وفاقی انتظامیہ انتخابات کے طریقہ کار میں کس حد تک یکطرفہ مداخلت کر سکتی ہے اور ریاستوں کے اپنے انتخابی اختیارات کی آئینی حدود کہاں ختم ہوتی ہیں
نومبر کے وسط مدتی انتخابات قریب ہونے کے باعث اس قانونی جنگ کا وقت بھی غیر معمولی طور پر اہم ہے،اگر ضابطہ بعد میں بحال بھی کر دیا جائے تو انتخابی انتظامیہ کے لیے مختصر مدت میں ہزاروں مقامی انتخابی نظاموں کو تبدیل کرنا ایک بڑا انتظامی مسئلہ بن سکتا ہے





