ٹرمپ انتظامیہ نے ڈاک کے ذریعے ووٹنگ پر نئی پابندی کے لیے سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹا دیا، امریکی انتخابات میں وفاقی اختیار کی جنگ تیز
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے ڈاک کے ذریعے ووٹ ڈالنے کے نظام پر عائد نئی پابندیوں کو نافذ کرنے کی اجازت حاصل کرنے کے لیے ایک بار پھر امریکی سپریم کورٹ سے رجوع کر لیا ہے، جس کے بعد نومبر کے وسط مدتی انتخابات سے قبل ووٹنگ کے طریقہ کار پر وفاقی حکومت اور ریاستوں کے درمیان ایک اہم آئینی جنگ شدت اختیار کر گئی ہے
امریکی محکمہ انصاف نے جمعرات کو ہنگامی درخواست دائر کرتے ہوئے سپریم کورٹ سے مطالبہ کیا کہ بوسٹن کی وفاقی ضلعی جج اندرا تلوّانی کے اس عارضی حکم کو ختم کیا جائے جس کے ذریعے امریکی ڈاک سروس کو ٹرمپ انتظامیہ کے وضع کردہ نئے ضوابط پر عمل درآمد سے روک دیا گیا تھا،انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ نئے ضوابط کا مقصد ڈاک کے ذریعے ووٹنگ میں دھاندلی کے امکانات کو محدود کرنا اور انتخابی عمل کی سالمیت کو یقینی بنانا ہے
نئے نظام کے تحت ریاستوں کو ڈاک کے ذریعے ووٹ ڈالنے والے اہل ووٹروں کی فہرستیں امریکی ڈاک سروس کے ساتھ شیئر کرنا ہوں گی، جبکہ ڈاک کے ذریعے بھیجے جانے اور واپس آنے والے انتخابی بیلٹ کے لفافوں پر مخصوص بارکوڈز اور مقررہ ڈیزائن استعمال کرنا ہوگا،ڈاک سروس نئے مقرر کردہ معیار پر پورا نہ اترنے والے بیلٹ کی ترسیل روک سکتی ہے
یہ تنازعہ محض ڈاک کے نظام میں انتظامی تبدیلی کا معاملہ نہیں رہا بلکہ اس نے امریکی انتخابات کے آئینی اختیار کا بنیادی سوال اٹھا دیا ہے،مخالف ریاستوں اور ووٹنگ کے حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ انتخابات کے انتظام کی بنیادی ذمہ داری ریاستوں کے پاس ہے اور صدر کو انتظامی حکم کے ذریعے ریاستی انتخابی نظام میں اس نوعیت کی تبدیلیاں مسلط کرنے کا اختیار حاصل نہیں
جج تلوّانی نے بھی اپنے ابتدائی فیصلوں میں اس سوال کو مرکزی حیثیت دی ہے کہ آیا امریکی ڈاک سروس کو کانگریس کی واضح منظوری کے بغیر ریاستی انتخابی طریقہ کار پر اس طرح کے تقاضے عائد کرنے کا قانونی اختیار حاصل ہے،ان کا تازہ عارضی حکم اس وقت سامنے آیا ہے جب نومبر کے انتخابات کے لیے کئی ریاستوں میں ڈاک کے ذریعے بیلٹ بھیجنے کا عمل شروع ہونے والا ہے
ٹرمپ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ نئے ضوابط معمولی نوعیت کی انتظامی تبدیلیاں ہیں اور انتخابی دھاندلی روکنے کے لیے ضروری ہیں، جبکہ مخالفین خبردار کر رہے ہیں کہ معمولی تکنیکی غلطی، بالخصوص بارکوڈ یا لفافے کے ڈیزائن میں فرق، کسی ووٹر کے بیلٹ کی ترسیل ہی روک سکتا ہے،امریکی ڈاک سروس کے اندر سے سامنے آنے والی اطلاعات نے بھی نئے آن لائن نظام کی تیاری کی رفتار اور اس کی قابلِ اعتماد کارکردگی پر سوالات اٹھائے ہیں
اس معاملے کی حساسیت اس لیے بھی بڑھ گئی ہے کہ نومبر کے وسط مدتی انتخابات میں ایوان نمائندگان اور سینیٹ کے توازن پر فیصلہ ہونا ہے اور ڈاک کے ذریعے ووٹنگ امریکی انتخابی عمل کا ایک اہم حصہ بن چکی ہے،صدر ٹرمپ طویل عرصے سے ڈاک کے ذریعے ووٹنگ کے بارے میں انتخابی دھاندلی کے خدشات ظاہر کرتے رہے ہیں، جبکہ انتخابی ماہرین اور مخالف ریاستیں بڑے پیمانے پر دھاندلی کے دعووں کے لیے شواہد کی کمی کی نشاندہی کرتی رہی ہیں
سپریم کورٹ پہلے ہی اگست میں ٹرمپ انتظامیہ کے وسیع تر ڈاک ووٹنگ منصوبے سے متعلق ایک مقدمے میں انتظامیہ کو عبوری ریلیف دے چکی ہے، تاہم اس وقت عدالت نے امریکی ڈاک سروس کے الگ ضابطے کے خلاف عائد عدالتی رکاوٹ ختم نہیں کی تھی،اب انتظامیہ نے اسی باقی ماندہ رکاوٹ کو بھی ختم کرانے کے لیے براہ راست سپریم کورٹ کا رخ کیا ہے
یوں نومبر کے انتخابات سے محض چند ہفتے قبل امریکی عدالت عظمیٰ کے سامنے یہ سوال کھڑا ہے کہ انتخابی عمل میں وفاقی حکومت کا اختیار کہاں تک پھیل سکتا ہے اور ریاستوں کی آئینی ذمہ داری کہاں سے شروع ہوتی ہے،اس فیصلے کے اثرات صرف موجودہ انتخابات تک محدود رہنے کے بجائے مستقبل میں امریکی انتخابات کے انتظام اور ڈاک کے ذریعے ووٹنگ کے پورے نظام کی سمت بھی متعین کر سکتے ہیں





