یاسین ملک نے سزائے موت سے بچنے کے بجائے خود پھانسی مانگ لی، 2 ستمبر کو عدالت میں 25 صفحات کا حلف نامہ جمع، سرلا بھٹ قتل میں ملوث ہونے سے انکار

یاسین ملک نے سزائے موت سے بچنے کے بجائے خود پھانسی مانگ لی، 2 ستمبر کو عدالت میں 25 صفحات کا حلف نامہ جمع، سرلا بھٹ قتل میں ملوث ہونے سے انکار

سری نگر: نئی دہلی کی تہاڑ جیل میں قید جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کے سربراہ یاسین ملک نے ایک غیر معمولی قانونی اقدام کرتے ہوئے عدالت سے اپنے لیے سزائے موت مانگ لی ہے، جبکہ ساتھ ہی انہوں نے کشمیری پنڈت نرس سرلا بھٹ کے قتل میں ملوث ہونے سے صاف انکار کیا ہے
یاسین ملک نے یہ مؤقف 2 ستمبر 2026 کو اختیار کیا، جب انہوں نے سرینگر میں مقدمے کی سماعت کرنے والی ایڈیشنل سیشن عدالت میں 25 صفحات پر مشتمل حلف نامہ جمع کرایا،حلف نامے میں انہوں نے کہا کہ وہ سرلا بھٹ کے قتل کے مقدمے میں اپنے خلاف کارروائی کا دفاع نہیں کریں گے اور عدالت اگر انہیں قصوروار سمجھتی ہے تو انہیں سزائے موت دے سکتی ہے
یہ پیش رفت اس لیے غیر معمولی ہے کہ یاسین ملک پہلے ہی نئی دہلی کی تہاڑ جیل میں عمر قید کی سزا کاٹ رہے ہیں،انہیں 2022 میں دہشت گردی کی مالی معاونت کے مقدمے میں سزا سنائی گئی تھی، جبکہ بھارتی قومی تحقیقاتی ادارہ الگ سے ان کی عمر قید کو سزائے موت میں تبدیل کرنے کی درخواست بھی دہلی ہائی کورٹ میں کر چکا ہے
نئے مقدمے کا تعلق 1990 میں سری نگر میں کشمیری پنڈت نرس سرلا بھٹ کے قتل کے الزام سے ہے،یاسین ملک نے اپنے تازہ حلف نامے میں اس قتل میں کسی بھی کردار کی تردید کی ہے، تاہم اس کے باوجود عدالت سے کہا ہے کہ وہ مقدمے کا مقابلہ کرنے کے بجائے سزائے موت دینے کا فیصلہ کرے
یاسین ملک کا یہ مؤقف ان کے خلاف جاری مختلف مقدمات کے قانونی منظرنامے کو مزید پیچیدہ بنا سکتا ہے، کیونکہ ایک طرف وہ اپنے خلاف مخصوص قتل کے الزام کو مسترد کر رہے ہیں اور دوسری طرف اسی مقدمے میں اپنے لیے انتہائی سزا کا مطالبہ کر رہے ہیں
ان کے خلاف پہلے سے جاری مقدمات میں بھی سزائے موت کا معاملہ زیر بحث رہا ہے،بھارتی قومی تحقیقاتی ادارے نے 2017 کے دہشت گردی کی مالی معاونت کے مقدمے میں ان کی عمر قید کو سزائے موت میں تبدیل کرنے کی درخواست کی ہے اور دہلی ہائی کورٹ میں اس پر کارروائی جاری ہے
یاسین ملک کا تازہ حلف نامہ اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ انہوں نے اپنے قانونی دفاع سے پیچھے ہٹنے کا اعلان ایسے وقت کیا ہے جب ان کے خلاف پرانے مقدمات دوبارہ فعال انداز میں عدالتوں کے سامنے آ رہے ہیں
تاہم یہ واضح رہے کہ 2 ستمبر کو جمع کرایا گیا حلف نامہ بذاتِ خود سزائے موت کا عدالتی فیصلہ نہیں ہے،آخری فیصلہ عدالت ہی کرے گی، اور یاسین ملک کے خلاف مختلف مقدمات کی قانونی حیثیت بھی ایک دوسرے سے الگ ہے

قومی خبریں سے مزید