Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

ٹورنٹو سے اڑتے ہی پی آئی اے طیارے میں آگ کا الارم، 130 مسافروں سمیت واپس اتار لیا گیا، اصل خرابی کیا تھی؟

ٹورنٹو سے اڑتے ہی پی آئی اے طیارے میں آگ کا الارم، 130 مسافروں سمیت واپس اتار لیا گیا، اصل خرابی کیا تھی؟

ٹورنٹو: ٹورنٹو سے کراچی کے لیے روانہ ہونے والی پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کی پرواز پی کے 784 ٹیک آف کے چند ہی منٹ بعد ایک غیر معمولی ہنگامی صورتحال کے باعث واپس ٹورنٹو ایئرپورٹ پہنچ گئی، جب طیارے کے کارگو حصے سے متعلق آگ کی وارننگ کا سگنل کاک پٹ میں موصول ہوا
طیارے کے کپتان نے وارننگ ملتے ہی ایئر ٹریفک کنٹرول سے رابطہ کیا اور ہنگامی واپسی کی اجازت طلب کی۔ اجازت ملنے کے بعد طیارہ ٹورنٹو پیئرسن انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر بحفاظت اتار لیا گیا۔ طیارے میں تقریباً 130 مسافر موجود تھے، جنہیں حفاظتی طریقہ کار کے تحت طیارے سے اتار کر ایئرپورٹ کے لاؤنج منتقل کردیا گیا
تاہم اس واقعے میں ایک انتہائی اہم فرق برقرار رکھنا ضروری ہے: ابھی تک یہ ثابت نہیں ہوا کہ طیارے کے کارگو ہولڈ میں حقیقتاً آگ لگی تھی پی آئی اے کے مطابق ابتدائی طور پر آگ کی وارننگ موصول ہوئی تھی، جبکہ طیارہ بحفاظت واپس اتر گیا۔ اس کے بعد پی آئی اے کی انجینئرنگ ٹیم نے طیارے کا معائنہ شروع کیا اور ایئرپورٹ فائر بریگیڈ نے کارگو ہولڈ کی جانچ کی تاکہ یہ معلوم کیا جاسکے کہ الارم کس وجہ سے فعال ہوا دستیاب معلومات زیادہ محتاط طور پر یہ بتاتی ہیں کہ آگ کا الارم آیا، جسے پائلٹ نے حقیقی ہنگامی خطرہ سمجھتے ہوئے طیارہ واپس موڑ دیا۔ ابھی یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ الارم کسی حقیقی حرارت، دھوئیں یا آگ کے باعث فعال ہوا یا کسی تکنیکی خرابی کی وجہ سے
ٹورنٹو ایئرپورٹ پر ہنگامی عملہ پہلے ہی تیار تھا اور فائر بریگیڈ طیارے کے پہنچنے کے بعد اس کے کارگو حصے کی جانچ میں مصروف ہوگئی۔ طیارے کو ایک الگ جگہ پر لے جایا گیا تاکہ انجینئرنگ اور فائر سیفٹی ٹیمیں مکمل معائنہ کرسکیں۔ کسی مسافر کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ہے
پرواز پی کے 784 عام طور پر ٹورنٹو سے کراچی کے لیے بوئنگ 777 کے ذریعے چلائی جاتی ہے۔ دستیاب پرواز ریکارڈ میں 30 اگست کی پرواز کو ٹورنٹو سے روانگی کے بعد واپس ٹورنٹو آنے کے طور پر درج کیا گیا ہے طیارے کی شناخت AP-BGZ کے طور پر سامنے آ رہی ہے
اب سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ کیا یہی طیارہ 130 مسافروں کو کراچی لے کر جائے گا یا پرواز کے لیے دوسرا طیارہ استعمال ہوگا؟
اس کا جواب ابھی حتمی طور پر سامنے نہیں آیا۔ پی آئی اے کی جانب سے مسافروں کو طیارے سے اتار کر لاؤنج منتقل کیے جانے اور انجینئرنگ معائنے کے بعد ہی اگلا فیصلہ کیا جانا ہے۔ طیارہ اس وقت تک دوبارہ مسافروں کے ساتھ روانہ نہیں ہوسکتا جب تک تکنیکی اور حفاظتی ٹیمیں اسے پرواز کے لیے کلیئر نہ کردیں۔ پی آئی اے نے بھی کہا ہے کہ پرواز کی روانگی کے بارے میں مزید معلومات تکنیکی کلیئرنس کے بعد دی جائیں گی
یہ بھی ابھی واضح نہیں کہ پرواز میں پہلے سے کوئی خرابی موجود تھی یا مسئلہ اچانک پیدا ہوا دستیاب رپورٹوں میں کسی پیشگی تکنیکی خرابی کی اطلاع نہیں دی گئی۔ اس لیے موجودہ شواہد کی بنیاد پر یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ طیارہ پہلے ہی کسی معلوم خرابی کے ساتھ اڑا تھا
ایئرپورٹ کے دستیاب پرواز ریکارڈ میں بھی 30 اگست کی پی کے 784 کو عام طور پر شیڈول شدہ پرواز کے طور پر دکھایا گیا تھا، لیکن بعد کے فضائی ریکارڈ میں اسے ٹورنٹو واپس آنے والی پرواز کے طور پر درج کیا گیا
ہوا بازی سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی تصاویر اور معلومات میں بھی طیارے کو بحفاظت ٹورنٹو واپس اترنے اور کارگو فائر وارننگ کے بعد جانچ کے لیے روکنے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، تاہم ان ذرائع سے بھی حقیقی آگ لگنے کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوتی
اس وقت واقعے کی سب سے اہم حقیقت یہی ہے کہ 130 مسافر محفوظ ہیں، طیارہ بحفاظت ٹورنٹو واپس آچکا ہے اور اصل وجہ معلوم کرنے کے لیے کارگو ہولڈ کی تکنیکی اور فائر سیفٹی جانچ جاری ہے
اگر معائنے میں صرف الارم یا سینسر کی خرابی ثابت ہوئی تو طیارہ مرمت اور دوبارہ حفاظتی کلیئرنس کے بعد کراچی روانہ کیا جاسکتا ہے لیکن اگر کارگو ہولڈ، وائرنگ، سامان یا کسی مخصوص کارگو میں حرارت یا آگ کے شواہد ملے تو طیارے کو دوبارہ اڑانے سے پہلے مکمل تکنیکی کارروائی ضروری ہوگی اور مسافروں کے لیے متبادل طیارے یا نئی روانگی کا انتظام کرنا پڑسکتا ہے
فی الحال سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہ ’’طیارے میں آگ لگنے‘‘ کی تصدیق شدہ خبر نہیں بلکہ ’’کارگو میں آگ کی وارننگ‘‘ کا واقعہ ہے، جس پر پائلٹ نے فوری اور حفاظتی طریقہ کار کے مطابق طیارہ واپس ٹورنٹو اتار لیا

قومی خبریں سے مزید