بشکیک میں طاقت کا بڑا سفارتی کھیل: شہباز شریف کی پیوٹن، شی جن پنگ اور پزشکیان سے ملاقاتیں، مودی بھی سامنے، کیا ایک ہی چھت تلے برف پگھلے گی؟

بشکیک میں طاقت کا بڑا سفارتی کھیل: شہباز شریف کی پیوٹن، شی جن پنگ اور پزشکیان سے ملاقاتیں، مودی بھی سامنے، کیا ایک ہی چھت تلے برف پگھلے گی؟

بشکیک: کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک میں شنگھائی تعاون تنظیم کا سربراہ اجلاس شروع ہوتے ہی جنوبی اور وسطی ایشیا کی سفارت کاری کا مرکز بھی یہی شہر بن گیا ہے،ایک ہی جگہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن، چینی صدر شی جن پنگ، ایرانی صدر مسعود پزشکیان، بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اور پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف موجود ہیں،لیکن اس اجتماع کی سب سے دلچسپ سفارتی کہانی صرف ان بڑی طاقتوں کی موجودگی نہیں، بلکہ یہ سوال ہے کہ پاکستان کا وزیراعظم ان سب رہنماؤں کے ساتھ کیا بات کرے گا اور کیا مودی کے ساتھ کسی غیر رسمی رابطے کا دروازہ بھی کھل سکتا ہے
شہباز شریف 31 اگست سے 2 ستمبر تک کرغزستان کے دورے پر ہیں،ان کا بنیادی مقصد شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہ اجلاس میں شرکت ہے، جس کے اختتام پر پاکستان تنظیم کی ایک سالہ گردشی صدارت سنبھالے گا اور 2027 میں اسلام آباد کو سربراہ اجلاس کی میزبانی بھی ملے گی،پاکستانی دفتر خارجہ کے مطابق اجلاس کے ساتھ وزیراعظم کی متعدد دوطرفہ ملاقاتیں بھی ہوں گی
پاکستانی سفارتی ذرائع کے مطابق شہباز شریف کی پیوٹن، شی جن پنگ اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان سمیت اہم رہنماؤں سے ملاقاتوں کا امکان ہے،ان ملاقاتوں میں علاقائی سلامتی، تجارت، توانائی، رابطہ کاری اور موجودہ عالمی بحرانوں پر بات چیت متوقع ہے
سب سے اہم ملاقات چین کے شی جن پنگ سے ہو سکتی ہے
پاکستان اور چین کے تعلقات اس وقت محض روایتی دوطرفہ شراکت داری تک محدود نہیں رہے،سی پیک کے دوسرے مرحلے، صنعتی تعاون، سرمایہ کاری، توانائی اور علاقائی رابطہ کاری کے معاملات کے ساتھ ساتھ افغانستان، ایران امریکا کشیدگی اور خطے میں بدلتی ہوئی طاقت کی صف بندی بھی دونوں ملکوں کی گفتگو میں اہم ہو سکتی ہے
شی جن پنگ کا بشکیک آنا بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے،چین شنگھائی تعاون تنظیم کو علاقائی سلامتی اور اقتصادی تعاون کے بڑے پلیٹ فارم کے طور پر استعمال کرنا چاہتا ہے، جبکہ موجودہ عالمی ماحول میں واشنگٹن اور بیجنگ کے درمیان مقابلہ مزید گہرا ہو چکا ہے
شہباز شریف کے لیے چینی صدر سے ملاقات کا ایک اور پہلو بھی اہم ہوگا،بھارت کے وزیراعظم مودی بھی اسی اجلاس میں موجود ہیں اور مودی کی شی جن پنگ سے اپنی الگ ملاقات متوقع ہے،یوں ایک ہی شہر میں چین کے ساتھ پاکستان اور بھارت دونوں کی الگ الگ سفارت کاری ہو رہی ہوگی
پیوٹن کے ساتھ گفتگو میں روسی تعلقات سے زیادہ خطے کا نیا نقشہ اہم ہوگا
پاکستان اور روس کے تعلقات گزشتہ برسوں میں بتدریج بہتر ہوئے ہیں،توانائی، تجارت، گندم اور زرعی تعاون کے علاوہ پاکستان روسی سرمایہ کاری اور علاقائی رابطہ کاری میں بھی دلچسپی رکھتا ہے
لیکن بشکیک میں پیوٹن کے ساتھ شہباز شریف کی گفتگو کا پس منظر اس سے کہیں بڑا ہے،روس اس وقت یوکرین جنگ، مغرب کے ساتھ محاذ آرائی اور چین کے ساتھ بڑھتے ہوئے انحصار کے دور سے گزر رہا ہے،اسی اجلاس میں پیوٹن کی مودی اور شی جن پنگ سے بھی ملاقاتیں ہو رہی ہیں
پاکستان کے لیے روس کے ساتھ تعلقات میں توانائی سب سے اہم شعبوں میں شامل ہو سکتا ہے،اسلام آباد ایک ایسے وقت میں توانائی کے نئے ذرائع اور سستی توانائی کی تلاش میں ہے جب مشرق وسطیٰ کی جنگ نے عالمی تیل اور گیس کی منڈیوں کو غیر یقینی سے دوچار کر رکھا ہے
اور پھر ایرانی صدر مسعود پزشکیان ہیں، جن سے یوں تو ملاقات کا مینڈٹ ملک کے وزیرداخلہ محسن نقوی اور ڈیفنس کمانڈر کے ساتھ پاکستانی حکومت کے تصور کیے جانے والے سپر چیف کمانڈر جنرل عاصم منیر کے ہی پاس ہے مگر” رسم دنیا بھی ہے ، موقع بھی ہے دستور کے مصداق
یہ ملاقات موجودہ حالات میں شاید شہباز شریف کی سب سے زیادہ حساس علاقائی ملاقاتوں میں شمار ہو،ایران امریکا کشیدگی نے پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے،تہران اور واشنگٹن کے درمیان فوجی محاذ آرائی کے اثرات خلیج، آبنائے ہرمز، تیل کی عالمی ترسیل اور پاکستان کی اپنی سرحدی اور اقتصادی سلامتی تک پہنچ رہے ہیں
شہباز شریف اور پزشکیان کے درمیان گفتگو میں ایران پاکستان تعلقات کے ساتھ ساتھ خطے میں جنگ کے پھیلاؤ کو روکنے، سرحدی تعاون، تجارت اور توانائی کے معاملات اہم ہو سکتے ہیں،ایران کے ساتھ پاکستان کی جغرافیائی قربت اسے اس بحران سے لاتعلق رہنے کی اجازت نہیں دیتی
اور یہاں ایک دلچسپ سفارتی حقیقت سامنے آتی ہے،مودی بھی پزشکیان سے ملاقات کرنے والے ہیں،ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق پزشکیان کی مودی سے ملاقات بشکیک میں متوقع ہے
یعنی ایران کے ساتھ پاکستان اور بھارت دونوں کی الگ الگ سفارت کاری ایک ہی اجلاس کے دوران ہوگی
مگر سب سے زیادہ نظر مودی اور شہباز شریف پر ہوگی
دونوں وزیراعظم ایک ہی اجلاس میں شرکت کر رہے ہیں،ایک ہی ہال میں بیٹھیں گے،ایک ہی عالمی اور علاقائی بحرانوں پر بات سنیں گے اور دونوں کے درمیان گزشتہ سال کی فوجی کشیدگی ابھی سفارتی حافظے سے مٹ نہیں پائی
اب تک پاکستان کی طرف سے یہ واضح کیا گیا ہے کہ بھارت نے شہباز شریف کے ساتھ باضابطہ دوطرفہ ملاقات کی درخواست نہیں کی،اس لیے مودی شہباز ملاقات کو طے شدہ ملاقات کہنا درست نہیں ہوگا
لیکن سفارت کاری ہمیشہ صرف شیڈول سے نہیں چلتی
ایک مشترکہ اجلاس، راہداری، استقبالیہ یا کسی تیسرے رہنما کی موجودگی میں چند لمحوں کی غیر رسمی گفتگو بھی پاکستان بھارت تعلقات میں ایک اہم علامت بن سکتی ہے،دونوں رہنماؤں کا ایک ہی جگہ موجود ہونا اس امکان کو مکمل طور پر ختم نہیں کرتا
خاص طور پر اس لیے کہ بشکیک میں چین، روس اور ایران تینوں موجود ہیں، اور تینوں کے پاکستان اور بھارت کے ساتھ الگ الگ اہم تعلقات ہیں
اگر مودی اور شہباز شریف کے درمیان صرف رسمی مصافحہ بھی ہو جاتا ہے تو یہ حالیہ کشیدگی کے بعد علامتی اہمیت رکھے گا،اگر چند منٹ کی گفتگو ہو جاتی ہے تو وہ اس سے کہیں بڑی خبر ہوگی،اور اگر کوئی باقاعدہ رابطہ شروع کرنے کا اشارہ ملتا ہے تو بشکیک اجلاس اچانک ایک علاقائی سربراہی کانفرنس سے بڑھ کر جنوبی ایشیا کی سفارت کاری کا اہم موڑ بن سکتا ہے
شہباز شریف کے لیے بشکیک کا اصل چیلنج یہی ہے
انہیں چین کے ساتھ اسٹریٹیجک تعلقات آگے بڑھانے ہیں، روس کے ساتھ نئے اقتصادی دروازے کھولنے ہیں، ایران کے ساتھ ایسے وقت میں رابطہ برقرار رکھنا ہے جب تہران براہ راست امریکا کے ساتھ جنگی کشیدگی میں ہے، اور اسی دوران بھارت کے ساتھ تعلقات کے لیے کم از کم سفارتی گنجائش تلاش کرنی ہے
شنگھائی تعاون تنظیم کا یہ اجلاس اسی لیے غیر معمولی ہے کہ یہاں موجود رہنماؤں کے مفادات ایک دوسرے سے جڑے بھی ہیں اور متصادم بھی
روس اور چین امریکا کے عالمی اثر و رسوخ کو محدود کرنے کے لیے ایک دوسرے کے قریب ہیں،ایران امریکا کے ساتھ براہ راست تصادم میں ہے،بھارت روس کے ساتھ پرانے تعلقات بھی رکھتا ہے اور امریکا کے ساتھ اسٹریٹیجک شراکت داری بھی،پاکستان چین کا قریبی شراکت دار ہے، روس کے ساتھ تعلقات بڑھا رہا ہے اور ایران کے ساتھ جغرافیائی حقیقت کے باعث مسلسل رابطے میں ہے
اور ان سب کے درمیان پاکستان اور بھارت کے وزیراعظم ایک ہی چھت کے نیچے بیٹھے ہیں
بشکیک میں ابھی مودی اور شہباز شریف کی ملاقات طے نہیں، لیکن سفارت کاری کے دروازے بند بھی نہیں ہوئے،شاید اس اجلاس کی سب سے بڑی خبر وہ ملاقات نہ ہو جو پہلے سے شیڈول میں درج ہے، بلکہ وہ چند منٹ ہوں جو کسی شیڈول میں درج ہی نہ ہوں

قومی خبریں سے مزید