ممبئی کی نئی میئر، 6 ماہ میں ہی سب سے زیادہ محاذوں پر، گھڑی سے 2.9 کروڑ کے ٹینڈر تک، اپنی جماعت بھی ناراض
بمبئی :ریتُو تاوڑے نے رواں سال ممبئی کی میئر بن کر بھارتیہ جنتا پارٹی کو 4 دہائیوں سے زیادہ عرصے بعد اس منصب پر واپس پہنچایا،سابق کانگریسی رہنما تاوڑے 2012 میں بی جے پی میں شامل ہوئی تھیں اور گھاٹ کوپر میں کئی مرتبہ بلدیاتی رکن رہنے کے بعد پارٹی کی ایک جارح مزاج شہری سیاست دان کے طور پر ابھریں
لیکن میئر بننے کے چند ہی ماہ بعد ان کا نام ایک کے بعد ایک تنازعہ میں آنے لگا،سب سے پہلے سوشل میڈیا پر دعویٰ کیا گیا کہ وہ ایک کروڑ روپے سے زیادہ مالیت کی رولیکس گھڑی پہنتی ہیں،تاوڑے نے اس کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ گھڑی دراصل مائیکل کورس کی ہے جو ان کے بچوں نے انہیں تحفے میں دی تھی
مارچ میں ان کی سرکاری گاڑی اور حفاظتی گاڑی پر سرخ اور نیلی فلیشر لائٹس نے نیا تنازعہ کھڑا کردیا،تصاویر سامنے آنے کے بعد بلدیاتی انتظامیہ نے یہ لائٹس ہٹا دیں کیونکہ سرکاری گاڑیوں پر ایسی بتیوں کے استعمال کی اجازت نہیں تھی
اپریل میں مہاویر جینتی کی ایک تقریب میں ان کے اس بیان پر بھی تنقید ہوئی کہ دعاؤں اور ایک جین مذہبی رہنما کی برکت سے وہ گلے کی ایک پرانی بیماری سے صحت یاب ہوئیں،مخالفین نے اسے توہم پرستی کی تشہیر قرار دیا، جبکہ تاوڑے نے وضاحت کی کہ ان کے الفاظ کو غلط سمجھا گیا
اگست میں تنازعہ اس وقت زیادہ سنگین ہوگیا جب بلدیہ نے میئر کی تاریخی سرکاری رہائش گاہ کے اطراف ترقیاتی اور بنیادی ڈھانچے کے کاموں کے لیے تقریباً 2.9 کروڑ بھارتی روپے کا منصوبہ پیش کیا،اس سے کچھ عرصہ قبل میئر کی رہائش گاہ کی تزئین و آرائش پر مزید 2.4 کروڑ روپے خرچ کیے جا چکے تھے
تاوڑے نے منصوبے سے خود کو الگ کرتے ہوئے کہا کہ نہ انہوں نے یہ کام مانگا تھا اور نہ بلدیہ کو اس کی ہدایت دی تھی،بالآخر ان کے مطالبے پر ٹینڈر واپس لے لیا گیا
اس کے بعد اصل ٹکراؤ بلدیاتی افسر شاہی سے شروع ہوا،میئر کے دفتر کے لیے سوشل میڈیا خدمات جاری رکھنے کے 25.12 لاکھ روپے کے ایک منصوبے پر اپوزیشن نے سوال اٹھائے کیونکہ اس کے لیے باقاعدہ ٹینڈر نہیں کیا گیا تھا،تاوڑے نے کہا کہ انہیں اس تجویز کا علم ہی نہیں تھا اور بلدیاتی کمشنر اشونی بھڑے کو خط لکھ کر مطالبہ کیا کہ ان کے نام سے متعلق تمام تجاویز پہلے ان کے دفتر سے منظور کرائی جائیں
معاملہ یہاں نہیں رکا،تاوڑے نے رواں ہفتے وزیراعلیٰ دیویندر فڑنویس سے ملاقات کرکے مبینہ طور پر بلدیاتی ادارے کے چیف تعلقاتِ عامہ افسر کو ہٹانے کا مطالبہ کیا،انہوں نے محکمہ تعلقاتِ عامہ کی نگرانی کے لیے ایک اسسٹنٹ میونسپل کمشنر تعینات کرنے کی تجویز بھی دی
سب سے دلچسپ محاذ اب ان کی اپنی جماعت کے اندر کھلتا دکھائی دے رہا ہے،گزشتہ ہفتے بی جے پی کے ممبئی صدر امیت ساتم کی موجودگی میں ہونے والی ملاقات کے دوران تاوڑے اور بی جے پی کی تعلیم کمیٹی کی سربراہ راج شری شروڑکر کے درمیان مبینہ طور پر تلخ بحث ہوئی،معاملہ میئر کے دفتر کی کمیٹی کے کام میں مبینہ مداخلت سے متعلق تھا
حکمران اتحاد کے اندر بھی مکمل ہم آہنگی نظر نہیں آتی،نائب میئر سنجے گھاڑی، جو ایکناتھ شندے کی قیادت والی شیو سینا سے تعلق رکھتے ہیں، نے قبل ازیں شکایت کی تھی کہ نالوں کے معائنے کے لیے تاوڑے کے دورے کے بارے میں انہیں اطلاع نہیں دی گئی تھی
اصل سوال یہ ہے کہ کیا تاوڑے محض ایک فعال میئر ہیں یا اپنے آئینی دائرۂ اختیار سے آگے بڑھ رہی ہیں،ممبئی میونسپل کارپوریشن کے قانون کے تحت میئر بلدیاتی ایوان کی صدارت اور قانونی نوعیت کے بعض فرائض انجام دیتا ہے، جبکہ انتظامی اختیارات بنیادی طور پر میونسپل کمشنر کے پاس ہوتے ہیں
تاوڑے کے حامی کہتے ہیں کہ وہ ایک ایسے منصب کو دوبارہ سیاسی اہمیت دے رہی ہیں جسے طویل عرصے سے محض نمائشی سمجھا جاتا تھا،ناقدین کا الزام ہے کہ وہ انتظامیہ کے ان معاملات میں مداخلت کر رہی ہیں جو میئر کے بجائے کمشنر کے دائرے میں آتے ہیں
تاوڑے خود اس تنقید کو مسترد کرتی ہیں،ان کا مؤقف ہے کہ شیو سینا نے تقریباً 3 دہائیوں تک میئر کا منصب اپنے پاس رکھا اور اب اپوزیشن میں بیٹھنے کے بعد انہیں سیاسی تعصب کا نشانہ بنایا جا رہا ہے،ساتھ ہی ان کا الزام ہے کہ بلدیاتی انتظامیہ کے بعض عناصر اب بھی ادھو ٹھاکرے کی شیو سینا سے وابستہ مفادات رکھتے ہیں اور دانستہ طور پر ان کے نام کو متنازعہ تجاویز کے ساتھ جوڑ کر ان کی ساکھ کو نقصان پہنچا رہے ہیں
چھ ماہ میں سامنے آنے والی یہ لڑائیاں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ ممبئی کی نئی سیاسی بساط پر ریتو تاوڑے محض میئر کی کرسی پر بیٹھی ایک رسمی شخصیت نہیں بننا چاہتیں، بلکہ وہ بلدیاتی نظام میں اپنا سیاسی اثر قائم کرنے کی کوشش کر رہی ہیں،مسئلہ صرف یہ ہے کہ جتنا وہ یہ دائرہ وسیع کرتی جا رہی ہیں، اتنے ہی نئے محاذ بھی کھلتے جا رہے ہیں





