کوئٹہ میں لاپتا افراد کے اہلخانہ کا احتجاج، پیاروں کی فوری بازیابی کا مطالبہ
کوئٹہ میں لاپتا افراد کے اہلخانہ نے اپنے پیاروں کی فوری بازیابی اور مبینہ غیر قانونی حراستوں کے خاتمے کے مطالبے کے لیے احتجاجی مظاہرہ کیا یہ مظاہرہ جبری گمشدگیوں کے متاثرین کے عالمی دن کے موقع پر کیا گیا
وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے چیئرمین نصراللہ بلوچ کی قیادت میں مظاہرین نے کوئٹہ پریس کلب کے باہر احتجاج کیا۔ مظاہرے میں خواتین اور بچوں سمیت بڑی تعداد میں لاپتا افراد کے اہلخانہ اور کارکن شریک ہوئے
نصراللہ بلوچ نے حکومت اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا کہ جبری طور پر لاپتا کیے گئے افراد کا فوری سراغ لگایا جائے اور انہیں ان کے خاندانوں تک پہنچایا جائے انہوں نے خصوصی طور پر لاپتا بلوچ خواتین کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کے اہلخانہ طویل عرصے سے شدید ذہنی اذیت کا سامنا کر رہے ہیں
مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ کسی بھی شخص کو غیر قانونی حراست میں رکھنے کا سلسلہ ختم کیا جائے ان کا کہنا تھا کہ اگر کسی فرد پر کسی جرم کا الزام ہے تو اسے عدالت میں پیش کیا جائے اور قانون کے مطابق اپنا دفاع کرنے کا حق دیا جائے
نصراللہ بلوچ نے کہا کہ کسی شخص کو طویل عرصے تک قانونی کارروائی کے بغیر حراست میں رکھنا اس کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے انہوں نے مطالبہ کیا کہ تمام ایسے افراد کو باقاعدہ قانونی نظام کے تحت لایا جائے جن پر کسی جرم کا الزام ہے
احتجاج میں شریک خواتین اور بچوں نے ہاتھوں میں بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر جبری گمشدگیوں کے خلاف نعرے درج تھے اور لاپتا افراد کی بازیابی کا مطالبہ کیا گیا تھا
مقررین نے کہا کہ جبری گمشدگیوں کے متاثرین کا عالمی دن دنیا بھر میں انسانی حقوق کے ایک سنگین مسئلے کی یاد دہانی کراتا ہے۔ انہوں نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا کہ جبری گمشدگیوں کا سلسلہ مستقل طور پر ختم کیا جائے اور متاثرہ خاندانوں کو برسوں سے جاری انتظار اور ذہنی اذیت سے نجات دلائی جائے
مظاہرین کا کہنا تھا کہ لاپتا افراد کے خاندانوں کو اپنے پیاروں کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کا حق دیا جائے اور اگر کسی فرد کے خلاف کوئی مقدمہ یا الزام موجود ہے تو اسے عدالت کے سامنے پیش کرکے قانون کے مطابق کارروائی کی جائے





