ڈونلڈ ٹرمپ کینیڈا کے لیے کیوبیک کو اس کی اہمیت یاد دلا رہے ہیں، باقی کینیڈا کو بھی اس حقیقت کو سمجھنا ہوگا، دیمیتری سوداس

ڈونلڈ ٹرمپ کینیڈا کے لیے کیوبیک کو اس کی اہمیت یاد دلا رہے ہیں، باقی کینیڈا کو بھی اس حقیقت کو سمجھنا ہوگا، دیمیتری سوداس

کینیڈا کے سابق سیاسی مشیر دیمیتری سوداس نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے کینیڈا کے خلاف مسلسل دباؤ اور سخت بیانات نے کیوبیک کے عوام کو ایک مرتبہ پھر یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ کینیڈا کی وفاقی وحدت اور قومی شناخت ان کے لیے کتنی اہم ہے
دیمیتری سوداس کے مطابق ٹرمپ کی کینیڈا کے خلاف تجارتی اور سیاسی مہم نے ایک ایسا ماحول پیدا کر دیا ہے جس میں کیوبیک اور باقی کینیڈا کے درمیان موجود کئی سیاسی اختلافات کے باوجود کینیڈین شناخت اور مشترکہ مفادات کی اہمیت زیادہ نمایاں ہو رہی ہے
انہوں نے کیوبیک کے حوالے سے موجود ایک سیاسی تضاد کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ کیوبیک ایک طرف اپنی منفرد زبان، ثقافت اور شناخت کے تحفظ کو انتہائی اہم سمجھتا ہے، جبکہ دوسری جانب موجودہ امریکی دباؤ نے کیوبیک کو یہ احساس بھی دلایا ہے کہ کینیڈا کے ساتھ اس کا تعلق اس کے معاشی اور سیاسی مفادات کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے
سوداس کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کی پالیسیوں کے نتیجے میں کیوبیک میں کینیڈا کے ساتھ وابستگی کے بارے میں ایک نئی سوچ پیدا ہوئی ہے ان کے مطابق جب بیرونی دباؤ بڑھتا ہے تو کینیڈا کے مختلف علاقوں کو یہ زیادہ واضح طور پر محسوس ہوتا ہے کہ مشترکہ وفاقی ڈھانچہ انہیں عالمی سطح پر ایک مضبوط آواز فراہم کرتا ہے
انہوں نے کہا کہ کیوبیک کا تجربہ باقی کینیڈا کے لیے بھی ایک سبق رکھتا ہے ان کے مطابق ملک کے دوسرے صوبوں کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ کیوبیک کے ساتھ سیاسی اختلافات کے باوجود کینیڈا کی مجموعی طاقت اسی وقت برقرار رہ سکتی ہے جب مختلف صوبے اپنے مشترکہ مفادات کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہوں
دیمیتری سوداس نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ٹرمپ کی جانب سے کینیڈا پر تجارتی دباؤ صرف اقتصادی معاملہ نہیں بلکہ اس کے وسیع سیاسی اثرات بھی ہیں امریکی پالیسیوں نے کینیڈا کے اندر وفاقی وحدت، قومی مفادات اور مختلف صوبوں کے باہمی تعلقات کے بارے میں بحث کو مزید نمایاں کر دیا ہے
ان کے مطابق موجودہ صورتحال میں کینیڈا کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے اندرونی اختلافات کو سمجھتے ہوئے مشترکہ مفادات پر توجہ مرکوز کرے کیوبیک اور باقی صوبوں کے درمیان اختلافات اپنی جگہ موجود رہ سکتے ہیں، لیکن بیرونی دباؤ کے سامنے کینیڈا کے اجتماعی مفادات کو ترجیح دینا ضروری ہے
سوداس کے مطابق ٹرمپ کی جانب سے کینیڈا کو مسلسل نشانہ بنائے جانے نے غیر ارادی طور پر کینیڈین شناخت کے احساس کو بھی مضبوط کیا ہے ان کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال کیوبیک کو ایک مرتبہ پھر یہ یاد دلا رہی ہے کہ کینیڈا کا حصہ ہونا صرف سیاسی انتظام نہیں بلکہ معاشی، سماجی اور قومی مفادات کا بھی معاملہ ہے
انہوں نے باقی کینیڈا کے عوام اور سیاسی حلقوں پر زور دیا کہ وہ کیوبیک کے اس تجربے کو سمجھیں اور ملک کے مختلف حصوں کے درمیان موجود فاصلے کم کرنے کی کوشش کریں، کیونکہ موجودہ امریکی دباؤ نے یہ واضح کر دیا ہے کہ کینیڈا کی طاقت اس کے صوبوں کے باہمی اتحاد اور مشترکہ مفادات کے تحفظ میں ہے

قومی خبریں سے مزید