عمران خان کے بیٹوں کا اسکائی اسپورٹس پر دھماکہ خیز انٹرویو، پاکستان ٹیم کے ٹیسٹ سے بائیکاٹ کی دھمکی، پی سی بی کا احتجاج، سابق کپتان کی صحت پر سنگین دعوے
لندن میں انگلینڈ اور پاکستان کے درمیان لارڈز ٹیسٹ کے دوران عمران خان کے بیٹوں سلیمان خان اور قاسم خان کے اسکائی اسپورٹس کو دیے گئے انٹرویو نے کرکٹ کے میدان کو ایک بڑے سیاسی تنازع میں تبدیل کر دیا، یہاں تک کہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے نشریاتی ادارے سے باضابطہ احتجاج کیا اور مبینہ طور پر دھمکی دی کہ اگر انٹرویو نشر کیا گیا تو پاکستانی ٹیم لنچ کے بعد میدان میں واپس نہیں آئے گی
اسکائی اسپورٹس برطانوی حکومت یا انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ کا ادارہ نہیں بلکہ ایک نجی کھیلوں کا نشریاتی ادارہ ہے،تاہم وہ انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ کے طویل عرصے سے نشریاتی حقوق کے شراکت داروں میں شامل ہے،پی سی بی کا اعتراض بنیادی طور پر اس بات پر تھا کہ جاری ٹیسٹ میچ کی کوریج کے دوران عمران خان کے بیٹوں کا ایسا سیاسی انٹرویو نشر کیا جا رہا ہے جس میں پاکستانی حکومت اور ان کے والد کی جیل میں حالت پر براہ راست تنقید کی گئی
اسکائی اسپورٹس نے انٹرویو کو روکنے سے انکار کیا اور اسے بارش کے باعث تاخیر سے شروع ہونے والے لنچ وقفے کے دوران نشر کر دیا،اس کے بعد پی سی بی نے باضابطہ شکایت درج کرائی اور پاکستانی ٹیم کے لنچ کے بعد دوبارہ میدان میں نہ اترنے کا امکان سامنے آیا،برطانوی رپورٹس کے مطابق انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ نے معاملے میں مداخلت کی اور بات چیت کے ذریعے تنازع کو ٹھنڈا کیا، جس کے بعد پاکستان ٹیم دوبارہ میدان میں آ گئی اور میچ جاری رہا
تقریباً 18 منٹ کے انٹرویو میں سابق انگلش کپتان مائیکل ایتھرٹن نے سلیمان اور قاسم خان سے ان کے والد عمران خان کی جیل میں صورتحال، صحت اور ان سے رابطے کے بارے میں سوالات کیے
عمران خان کے بیٹوں نے دعویٰ کیا کہ ان کے والد کو تقریباً 23 گھنٹے روزانہ ایک چھوٹی سی کوٹھڑی میں تنہائی میں رکھا جاتا ہے،ان کے مطابق کوٹھڑی کے حالات بھی انتہائی مشکل ہیں اور مناسب سہولتوں کے حوالے سے انہیں شدید تحفظات ہیں
سب سے سنگین دعویٰ عمران خان کی بینائی کے بارے میں سامنے آیا،ان کے بیٹوں نے کہا کہ ان کے والد کی ایک آنکھ کی بینائی تقریباً 80 فیصد تک متاثر ہو چکی ہے،دوسری طرف عمران خان کے وکلا کی جانب سے اس سے بھی زیادہ، تقریباً 85 فیصد بینائی ختم ہونے کا دعویٰ سامنے آ چکا ہے،ان دعووں کی آزادانہ طبی تصدیق الگ معاملہ ہے، جبکہ پاکستانی حکومت عمران خان کے ساتھ بدسلوکی کے الزامات کو مسترد کرتی رہی ہے
سلیمان اور قاسم نے یہ بھی کہا کہ ان کے والد کی صحت کے حوالے سے انہیں شدید تشویش ہے اور انہیں مناسب طبی نگہداشت اور مطلوبہ طبی ماہرین تک رسائی ملنی چاہیے،یہ معاملہ اس وقت مزید حساس ہو گیا ہے جب حالیہ دنوں میں عمران خان کو طبی معائنے کے لیے مختصر مدت کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا اور بعد میں دوبارہ جیل بھیج دیا گیا
انٹرویو کا سب سے دھماکہ خیز حصہ قاسم خان کا یہ دعویٰ تھا کہ انہیں محسوس ہوتا ہے کہ ان کے والد کو جیل میں خاموش رکھنے کے لیے جان سے مارنے کی کوشش کی جا رہی ہے،
دونوں بیٹوں نے اپنے والد سے رابطے اور ملاقات کے حوالے سے بھی شدید تشویش ظاہر کی،رپورٹس میں مارچ 2023 کے بعد براہِ راست ملاقات یا براہِ راست رابطہ نہ ہونے کا ذکر ہے۔ تاہم اس کا مطلب یہ قرار دینا درست نہیں کہ مارچ 2023 کے بعد انہوں نے کبھی ٹیلی فون پر بھی بات نہیں کی،دستیاب معتبر رپورٹس اس دعوے کو اس حد تک واضح نہیں کرتیں کہ پورے عرصے میں ٹیلی فونک رابطہ بالکل نہیں ہوا،اس لیے درست بات یہی ہے کہ وہ اپنے والد سے براہِ راست ملاقات اور معمول کے براہِ راست رابطے سے طویل عرصے سے محروم ہیں
عمران خان کی صحت اور جیل میں ان کے حالات پر صرف ان کے خاندان نے ہی تشویش نہیں ظاہر کی،دنیا کے 20 سے زیادہ سابق عالمی کرکٹ کپتانوں نے بھی پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف سے عمران خان کو مناسب طبی سہولت اور انسانی سلوک فراہم کرنے کی اپیل کی ہے،ان سابق کپتانوں نے آزادانہ طبی معائنے اور ضرورت کے مطابق علاج کی ضرورت پر زور دیا ہے
یوں لارڈز میں شروع ہونے والا معاملہ محض ایک ٹیلی ویژن انٹرویو تک محدود نہیں رہا،عمران خان کے بیٹوں کے صحت اور جیل کے حالات سے متعلق دعووں نے ایک طرف ان کے والد کی حالت پر عالمی توجہ دوبارہ مرکوز کر دی، جبکہ دوسری طرف پی سی بی کی جانب سے ایک نجی برطانوی نشریاتی ادارے کے خلاف احتجاج اور پاکستانی ٹیم کے میدان میں واپس نہ آنے کی مبینہ دھمکی نے کھیل اور سیاست کے درمیان ایک غیر معمولی تنازع پیدا کر دیا، مذکورہ انٹرویو میں جہاں عمران خان کے دونوں صاحبزادوں نے اپنے والد کی صحت کے پسمنظر میں ریاست پاکستان اور حکومت پاکستان پر سنگین الزامات عائد کیے لیکن جب ان سے پوچھا گیا آپ لندن میں پیدا ہوئے برطانوی شہری ہیں کرکٹ میں خصوصا آج کے میچ میں کس کی جیت کے خواہش مند ہیں تو عمران خان کے دونوں صاحبزادوں قاسم اور سلمان نے کہا پاکستان





