پنجاب میں مزید 2 ٹرینیں پٹڑی سے اتر گئیں، ریلوے نظام کی کمزوریاں بے نقاب
لاہور، رحیم یار خان: پنجاب میں مزید 2 ٹرینوں کے حادثات نے پاکستان ریلوے کے پرانے ٹریک، ناقص سامان اور انتظامی مسائل پر ایک بار پھر سوالات کھڑے کردیئے ہیں
رحیم یار خان کے قریب فیروزہ ریلوے اسٹیشن پر یوسف والا کوئلے سے لدی مال گاڑی کے 11 ڈبے اور انجن پٹڑی سے اتر گئے۔ یہ ٹرین کراچی سے ساہیوال کے کوئلے سے چلنے والے بجلی گھر کے لیے 3 ہزار 300 ٹن کوئلہ لے کر جا رہی تھی
ریلوے ذرائع کے مطابق ٹرین جٹھہ بھٹہ اسٹیشن سے بحفاظت گزرنے کے بعد فیروزہ اسٹیشن کے قریب حادثے کا شکار ہوئی۔ حادثے کے نتیجے میں متعدد ڈبے بری طرح متاثر ہوئے تاہم انجن کا ڈرائیور اور گارڈ محفوظ رہے
حادثے کے بعد اوپر جانے والی ریلوے لائن پر ٹرینوں کی آمدورفت معطل کردی گئی جبکہ کراچی سے آنے والی ٹرینوں کو دوسری لائن سے گزارا گیا۔ امدادی ٹرین موقع پر پہنچا کر متاثرہ ڈبوں کو ہٹانے اور ٹریک کی مرمت کا کام شروع کردیا گیا
ریلوے ذرائع نے حادثے کی ممکنہ وجوہات میں خراب بریک نظام، ٹرین کا مقررہ مقام سے آگے نکل جانا اور ریلوے لائن کے پوائنٹ میں تبدیلی نہ ہونا شامل قرار دیا ہے ایک ذریعے کے مطابق اگر ٹرین کے بعض ڈبوں میں بریک ناکافی یا خراب ہوں تو ڈرائیور کے بریک لگانے کے باوجود ٹرین کو بروقت روکنا مشکل ہوجاتا ہے
یہ یوسف والا کوئلے والی ٹرین کا تقریباً 2 ماہ کے دوران چوتھا حادثہ ہے اس سے قبل 10 جولائی کو یہ ٹرین ہڑپہ کے قریب پٹڑی سے اتری، 19 جولائی کو سندھ میں واہب شاہ اسٹیشن کے قریب اس کے کئی ڈبے پٹڑی سے اترے جبکہ 29 جولائی کو جنگ شاہی اسٹیشن پر بھی ٹرین حادثے کا شکار ہوئی تھی
دوسری جانب لاہور جانے والی راول ایکسپریس کا انجن اور 2 ڈبے جہلم کے قریب کالا گجراں کے مقام پر مین لائن سے اتر گئے۔ حادثے کے باعث لاہور اور راولپنڈی کے درمیان ریلوے آمدورفت کم از کم 5 گھنٹے متاثر رہی اور شدید گرمی میں مسافر ٹرین میں پھنسے رہے۔ متعدد مسافروں نے ٹرین چھوڑ کر سڑک کے ذریعے اپنی منزل تک پہنچنے کو ترجیح دی
حالیہ دونوں حادثات کے بعد ریلوے کے اندرونی ذرائع نے پرانے ٹریک، خراب ریلوے سامان، انسانی غلطی اور دیگر انتظامی مسائل پر تشویش کا اظہار کیا ہے ایک ریلوے اہلکار نے خبردار کیا کہ اگر موجودہ مسائل کا فوری حل نہ کیا گیا تو مستقبل میں بڑے اور جانی نقصان والے حادثات پیش آسکتے ہیں
رپورٹ کے مطابق 5 جولائی سے 5 اگست کے درمیان یوسف والا کوئلے والی ٹرین کے علاوہ دیگر ٹرینوں کے بھی تقریباً 7 پٹڑی سے اترنے یا حادثات کے واقعات پیش آئے، جن سے ملک بھر میں ریلوے نظام کی کارکردگی اور مسافروں کی حفاظت کے حوالے سے سنجیدہ سوالات پیدا ہوئے ہیں۔





