Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

کبھی ’’ارب پتیوں کے سیاسی کلب‘‘ کے ناقد تھے، اب کیلیفورنیا کے دولت ٹیکس کی مخالفت کی قیادت کر رہے ہیں

کبھی ’’ارب پتیوں کے سیاسی کلب‘‘ کے ناقد تھے، اب کیلیفورنیا کے دولت ٹیکس کی مخالفت کی قیادت کر رہے ہیں

کیلیفورنیا میں ارب پتی افراد کی دولت پر مجوزہ ٹیکس کے خلاف جاری سیاسی مہم میں ایک ایسا مشیر نمایاں کردار ادا کر رہا ہے جو کئی دہائیاں پہلے خود دولت مند طبقے کے سیاسی اثر و رسوخ کا سخت ناقد رہا تھا
فورچیون کے مطابق نیڈ وِگلس ورتھ، جو ماضی میں انتخابی مالیات میں اصلاحات کے لیے کام کرتے ہوئے کیلیفورنیا کے امیر ترین افراد کی سیاست میں بڑھتی ہوئی مداخلت پر تنقید کرتے رہے تھے، اب بلڈنگ اے بیٹر کیلیفورنیا نامی سیاسی تنظیم کے اہم حکمت عملی سازوں میں شامل ہیں،یہ تنظیم پروپوزیشن 40 کی مخالفت کر رہی ہے، جس پر نومبر کے انتخابات میں کیلیفورنیا کے ووٹرز سے فیصلہ لیا جائے گا
پروپوزیشن 40 منظور ہونے کی صورت میں کیلیفورنیا میں کم از کم 1 ارب ڈالر کی مجموعی دولت رکھنے والے افراد پر ان کے اثاثوں کی بنیاد پر ایک مرتبہ 5 فیصد دولت ٹیکس عائد کیا جائے گا
وِگلس ورتھ کا سیاسی پس منظر اس موجودہ مہم کو خاصا قابلِ توجہ بناتا ہے،کئی دہائیاں پہلے وہ انتخابی مالیات میں اصلاحات کے حامی تھے اور انہوں نے کیلیفورنیا کے امیر ترین افراد کی جانب سے سیاست میں کروڑوں ڈالر خرچ کرنے پر سوال اٹھایا تھا،اس وقت ان کا مؤقف تھا کہ دولت مند افراد سیاسی نظام میں اس لیے بھاری رقوم خرچ کرتے ہیں کیونکہ انہیں اس سے اپنے مفادات کے حصول کی توقع ہوتی ہے
انہوں نے اس وقت سیاست میں دولت مند افراد کے باہمی اثر و رسوخ کو ’’ارب پتی لڑکوں کا سیاسی کلب‘‘ قرار دیا تھا
اب صورتحال مختلف ہے،وِگلس ورتھ اسی دولت مند طبقے کے مفادات کے دفاع کے لیے کام کر رہے ہیں جس پر وہ ماضی میں تنقید کرتے رہے تھے،ان کی موجودہ تنظیم کا بنیادی مقصد ووٹروں کو پروپوزیشن 40 کے خلاف قائل کرنا ہے
مجوزہ ٹیکس کے حامیوں کا کہنا ہے کہ اس سے ریاست کے انتہائی دولت مند افراد سے بڑی رقم حاصل کرکے عوامی خدمات کے لیے استعمال کی جاسکتی ہے،دوسری جانب مخالفین کا مؤقف ہے کہ ایسا ٹیکس ارب پتی افراد اور ان کے کاروبار کو کیلیفورنیا سے منتقل ہونے کی ترغیب دے سکتا ہے اور ریاست کی معیشت کو نقصان پہنچ سکتا ہے
پروپوزیشن 40 کا تعلق صرف موجودہ آمدنی سے نہیں بلکہ کسی فرد کی مجموعی دولت سے ہے،یعنی ایسے افراد بھی اس ٹیکس کی زد میں آسکتے ہیں جن کی دولت کا بڑا حصہ نقد رقم کے بجائے کمپنیوں کے حصص، کاروباری ملکیت، جائیداد اور دیگر اثاثوں کی شکل میں موجود ہے
یہی وجہ ہے کہ نومبر کا ووٹ کیلیفورنیا میں دولت اور ٹیکس کے حوالے سے ایک اہم سیاسی معرکہ بن گیا ہے،ایک طرف ارب پتی افراد اور ان کے حامی اس اقدام کو دولت پر غیر معمولی بوجھ قرار دے رہے ہیں، جبکہ دوسری طرف حامی اسے ریاست کے انتہائی امیر طبقے سے اضافی مالی وسائل حاصل کرنے کا ذریعہ سمجھتے ہیں
وِگلس ورتھ کا ماضی اور موجودہ کردار اس بحث کو مزید دلچسپ بنا رہا ہے،جو شخص کبھی سیاسی نظام میں ارب پتیوں کے اثر و رسوخ پر تنقید کرتا تھا، وہ اب اسی دولت مند طبقے کی جانب سے ایک ایسے ٹیکس کے خلاف سیاسی مہم چلا رہا ہے جو براہ راست کیلیفورنیا کے سب سے زیادہ دولت مند افراد کو متاثر کرے گا

قومی خبریں سے مزید