فاؤچی کے خلاف کانگریس کی توہین کا مقدمہ چلانے کی ریپبلکن کوشش قانونی رکاوٹ سے دوچار
واشنگٹن :ریپبلکن ارکان کی جانب سے سابق امریکی اعلیٰ صحت عہدیدار ڈاکٹر انتھونی فوچی کے خلاف کانگریس کی توہین کے الزام میں مقدمہ چلانے کی کوشش فی الحال رک گئی ہے، کیونکہ ٹرمپ انتظامیہ کے بعض حکام کو شک ہے کہ موجودہ قانونی طریقہ کار محکمہ انصاف کی جانب سے فوچی پر فردِ جرم عائد کرنے کے لیے کافی مضبوط ہے
وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق ریپبلکن اکثریت والی سینیٹ کی ایک کمیٹی نے 6 اگست کو فوچی کو کانگریس کی توہین کا مرتکب قرار دینے کے حق میں ووٹ دیا تھا، لیکن اس کے تقریباً 3 ہفتے بعد بھی معاملہ محکمہ انصاف تک مؤثر قانونی کارروائی کے مرحلے میں نہیں پہنچ سکا
یہ قرارداد ریپبلکن سینیٹر رینڈ پال نے پیش کی تھی، جو طویل عرصے سے ڈاکٹر فوچی کے سخت ناقد رہے ہیں،رینڈ پال نے سینیٹ کے معمول کے طریقہ کار سے ہٹ کر قرارداد کو مکمل سینیٹ کے سامنے ووٹنگ کے لیے پیش کرنے کے بجائے ایک مختلف راستہ اختیار کیا
اس طریقہ کار کے تحت نائب صدر جے ڈی وینس سے قرارداد کی تصدیق کرانے کی کوشش کی گئی تاکہ اسے براہ راست محکمہ انصاف کو بھیجا جاسکے اور فوچی کے خلاف ممکنہ فوجداری کارروائی کی راہ ہموار ہو
تاہم ٹرمپ انتظامیہ کے بعض حکام اب اس بات پر سوال اٹھا رہے ہیں کہ آیا یہ طریقہ کار قانونی طور پر اتنا مضبوط ہے کہ محکمہ انصاف اس بنیاد پر فوچی کے خلاف فردِ جرم عائد کرسکے
اصل تنازع فوچی کے کانگریس کے سامنے سوالات کے جوابات دینے سے متعلق ہے،ریپبلکن ارکان کا مؤقف ہے کہ فوچی نے قانون سازوں کے سامنے بعض سوالات کے جواب دینے سے انکار کرکے کانگریس کی توہین کی، جبکہ فوچی کے خلاف کارروائی کی کوشش ان کے کووڈ وبا کے دوران کردار سے متعلق وسیع تر سیاسی اور قانونی تنازع کا حصہ ہے
رینڈ پال طویل عرصے سے یہ مؤقف اختیار کرتے رہے ہیں کہ فوچی کو کانگریس کے سامنے جواب دینا چاہیے اور وبا کے دوران امریکی حکومت کے اقدامات، خاص طور پر کووڈ کی ابتدا اور تحقیق سے متعلق معاملات پر ان سے سخت سوالات کیے جانے چاہییں
لیکن اب ٹرمپ انتظامیہ کے اندر ہی یہ خدشہ سامنے آیا ہے کہ سینیٹ کمیٹی کا اختیار کردہ طریقہ کار قانونی تقاضوں کو پورا نہیں کرتا،اگر محکمہ انصاف اس نتیجے پر پہنچتا ہے کہ کارروائی کا طریقہ کار ناقص ہے تو فوچی کے خلاف فردِ جرم عائد کرنا مشکل ہوسکتا ہے
یہ صورتحال ریپبلکن پارٹی کے لیے سیاسی طور پر بھی اہم ہے کیونکہ فوچی طویل عرصے سے قدامت پسندوں کے شدید ہدف رہے ہیں،کووڈ وبا کے دوران وہ امریکی عوام کے لیے صحت عامہ کے اقدامات کی نمایاں آواز تھے، جبکہ ٹرمپ کے حامیوں سمیت بہت سے ریپبلکن سیاست دان ان کی پالیسیوں، بیانات اور وبا سے متعلق فیصلوں پر مسلسل سوال اٹھاتے رہے ہیں
اب فوچی کے خلاف کارروائی کا معاملہ سیاسی ارادے سے آگے بڑھ کر ایک قانونی سوال بن گیا ہے،کیا کانگریس نے انہیں توہین کا مرتکب قرار دینے کے لیے درست طریقہ کار اختیار کیا تھا اور کیا اسی بنیاد پر محکمہ انصاف ایک سابق اعلیٰ سرکاری عہدیدار کے خلاف فوجداری مقدمہ قائم کرسکتا ہے؟
فی الحال ٹرمپ انتظامیہ کے بعض حکام کے شکوک نے ریپبلکن کوشش کو ایک ایسی قانونی دیوار سے ٹکرا دیا ہے جسے عبور کیے بغیر فوچی کے خلاف محکمہ انصاف کی کارروائی آگے بڑھنا مشکل دکھائی دیتی ہے





