Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

ریپبلکن ارکانِ کانگریس بھی ٹرمپ کی جانب سے وفاقی فنڈز پر کانگریس کا اختیار محدود کرنے کی نئی حکمت عملی سے ناخوش

ریپبلکن ارکانِ کانگریس بھی ٹرمپ کی جانب سے وفاقی فنڈز پر کانگریس کا اختیار محدود کرنے کی نئی حکمت عملی سے ناخوش

واشنگٹن :صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ اور ریپبلکن اکثریت رکھنے والی کانگریس کے درمیان وفاقی فنڈز پر اختیار کا تنازع ایک بار پھر شدت اختیار کر رہا ہے،ریپبلکن قانون سازوں کو خدشہ ہے کہ وائٹ ہاؤس دوبارہ ایک ایسے طریقہ کار کو استعمال کرسکتا ہے جسے ’’پاکٹ ریسشن‘‘ کہا جاتا ہے اور جس کے ذریعے کانگریس کی منظوری سے مختص رقم کو عملی طور پر ختم کرنے کی کوشش کی جاسکتی ہے
پولیٹیکو کی رپورٹ کے مطابق ریپبلکن ارکان ایک طرف صدر کی سیاسی پالیسیوں کی حمایت کرتے ہیں، لیکن دوسری طرف انہیں اس بات پر تشویش ہے کہ اگر وائٹ ہاؤس کانگریس کی منظور کردہ رقم روکنے یا منسوخ کرنے کے اختیارات اپنے ہاتھ میں لیتا رہا تو آئین میں کانگریس کو حاصل ’’پاور آف دی پرس‘‘ یعنی سرکاری اخراجات طے کرنے کا بنیادی اختیار کمزور ہوجائے گا
یہ تنازع اس وقت مزید نمایاں ہوا جب رواں ماہ ریپبلکن سینیٹرز کی بڑی اکثریت نے ایک دو طرفہ سرکاری فنڈنگ بل کی حمایت کی،اس بل میں ایسی حکومتی پالیسی کو عارضی طور پر روکنے کی کوشش کی گئی ہے جس کے تحت سیاسی تقرری پانے والے حکام ایسے وفاقی گرانٹس کو ترجیح دے سکتے ہیں جو صدر کے سیاسی ایجنڈے سے مطابقت رکھتے ہوں
وائٹ ہاؤس نے گزشتہ عرصے میں وفاقی گرانٹس کے لیے نئے قواعد متعارف کرائے اور بعض صورتوں میں ان قواعد کی بنیاد پر پہلے سے منظور شدہ فنڈز جاری کرنے سے انکار یا تاخیر کی،ان اقدامات کو عدالتوں میں متعدد مرتبہ چیلنج کیا گیا اور اس موسم گرما میں کئی معاملات میں وفاقی عدالتوں نے انتظامیہ کے اقدامات کو روکا
اب کانگریس کے ارکان کو خدشہ ہے کہ مالی سال کے اختتام، یعنی 30 ستمبر، سے پہلے وائٹ ہاؤس دوبارہ ’’پاکٹ ریسشن‘‘ استعمال کرنے کی کوشش کرسکتا ہے،اس طریقے میں انتظامیہ کانگریس سے کسی رقم کو منسوخ کرنے کی درخواست ایسے وقت میں کرتی ہے جب مالی سال ختم ہونے میں اتنا کم وقت باقی ہو کہ اگر کانگریس درخواست مسترد بھی کردے تو رقم خرچ کرنے کے لیے عملی طور پر وقت باقی نہ رہے
یہ طریقہ پہلے بھی ٹرمپ انتظامیہ استعمال کرچکی ہے،2025 میں وائٹ ہاؤس نے تقریباً 4.9 ارب ڈالر کی غیر ملکی امداد ختم کرنے کے لیے اسی حکمت عملی کا سہارا لیا تھا،اس اقدام پر قانونی ماہرین اور کانگریس کے بعض ارکان نے اعتراض کیا تھا اور اسے کانگریس کے مالیاتی اختیار کو محدود کرنے کی کوشش قرار دیا گیا تھا
اس معاملے میں ریپبلکن ارکان کی پریشانی اس لیے بھی اہم ہے کہ اعتراض صرف ڈیموکریٹس کی جانب سے نہیں آرہا،ریپبلکن ارکان بھی چاہتے ہیں کہ کانگریس کی جانب سے منظور کیے گئے اخراجات کو انتظامیہ اپنی مرضی سے روکنے، منتقل کرنے یا ختم کرنے کی صلاحیت حاصل نہ کرے
کانگریس اور وائٹ ہاؤس کے درمیان یہ کشمکش بنیادی طور پر امریکی آئین میں اختیارات کی تقسیم کے ایک اہم سوال سے متعلق ہے،قانون سازی کے ذریعے وفاقی حکومت کے اخراجات منظور کرنا کانگریس کا اختیار ہے، جبکہ انتظامیہ کا کام ان منظور شدہ رقوم کو قانون کے مطابق خرچ کرنا ہے،تنازع اس وقت پیدا ہوتا ہے جب صدر یا انتظامیہ یہ مؤقف اختیار کرتی ہے کہ وہ بعض منظور شدہ فنڈز کو روک یا منسوخ کرسکتی ہے
اس صورتحال نے مالی سال 2027 کے بجٹ اور آئندہ سرکاری فنڈنگ کے مذاکرات کو بھی پیچیدہ بنا دیا ہے،ریپبلکن قانون ساز ایسے حفاظتی اقدامات شامل کرنے پر غور کر رہے ہیں جن کے ذریعے وائٹ ہاؤس کی جانب سے کانگریس کی منظور کردہ رقم روکنے یا مختلف پروگراموں میں منتقل کرنے کے اختیارات محدود کیے جاسکیں
یوں ٹرمپ کے اپنے سیاسی ساتھی ریپبلکن ارکان کے سامنے بھی ایک مشکل توازن پیدا ہوگیا ہے،وہ صدر کے سیاسی ایجنڈے کی حمایت کرتے ہیں، لیکن ساتھ ہی انہیں یہ خدشہ ہے کہ اگر کانگریس نے اپنے مالیاتی اختیار کا دفاع نہ کیا تو مستقبل میں صدر کو وفاقی اخراجات پر غیر معمولی طاقت حاصل ہوسکتی ہے

قومی خبریں سے مزید