Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

ایران سے متعلق وفاداری کے سوال اٹھانے والی لیکس ٹرمپ کے بارے میں کیا ثابت کرتی ہیں؟

ایران سے متعلق وفاداری کے سوال اٹھانے والی لیکس ٹرمپ کے بارے میں کیا ثابت کرتی ہیں؟

واشنگٹن پوسٹ کے کالم نگار مارک تھیسن کے مطابق ایران کے بارے میں وائٹ ہاؤس سے سامنے آنے والی ایسی معلومات جنہیں بعض حلقے ’’غیر وفادارانہ لیکس‘‘ قرار دے رہے ہیں، دراصل صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایک اہم سیاسی خصوصیت کو ظاہر کرتی ہیں،وہ اپنے دشمن کے الفاظ کو سنجیدگی سے لینے اور اس کے دعووں پر یقین کرنے کے لیے تیار ہیں
تھیسن کا استدلال ہے کہ ایران کے ساتھ موجودہ تنازعہ میں ٹرمپ نے ماضی کے بعض امریکی صدور کے برعکس یہ راستہ اختیار کیا کہ جب ایران نے اپنی پوزیشن یا ارادوں کے بارے میں کوئی بات کہی تو ٹرمپ انتظامیہ نے اسے محض پروپیگنڈا سمجھ کر نظرانداز کرنے کے بجائے اسے ایک ممکنہ حقیقت کے طور پر لیا
مضمون کا مرکزی نکتہ یہ ہے کہ ایران کے بارے میں امریکی انٹیلی جنس اور حکومتی حلقوں سے سامنے آنے والی معلومات نے اس بحث کو جنم دیا کہ آیا ٹرمپ نے ایران کی صلاحیتوں اور ارادوں کے بارے میں جو فیصلے کیے، وہ درست معلومات کی بنیاد پر تھے یا نہیں؟لیکن تھیسن کے مطابق لیکس سے ٹرمپ کی کمزوری سے زیادہ یہ بات سامنے آتی ہے کہ وہ ایران کے بارے میں اپنے اندازے کو بدلنے کے لیے دشمن کی اپنی بات کو بھی قابلِ غور سمجھتے ہیں
یہ تجزیہ ایران کے ساتھ جاری جنگ کے وسیع تر پس منظر میں سامنے آیا ہے،واشنگٹن پوسٹ کی حالیہ رپورٹنگ کے مطابق جنگ چھ ماہ سے جاری ہے اور ٹرمپ انتظامیہ کو اب ایک طویل تنازعہ،آبنائے ہرمز اور ایران کے ساتھ مذاکرات سمیت ایسے مسائل کا سامنا ہے جو ابتدائی امریکی اہداف سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہوچکے ہیں
تھیسن کا نکتہ نظر بنیادی طور پر ٹرمپ کے دفاع میں ہے،ان کے مطابق لیکس کو صرف اس زاویے سے نہیں دیکھنا چاہیے کہ صدر کے اندرونی حلقے میں اختلاف یا بے وفائی موجود ہے، بلکہ یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ صدر نے ایران کے بارے میں فیصلہ سازی میں ایسی معلومات کو کس طرح استعمال کیا جو خود ایرانی قیادت کے بیانات اور دعووں سے متعلق تھیں
مختصراً، مضمون کا دعویٰ یہ نہیں کہ لیکس ٹرمپ کے خلاف کوئی نیا اسکینڈل ثابت کرتی ہیں،بلکہ مصنف کے نزدیک یہ لیکس اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ ٹرمپ نے ایران کو سمجھنے میں بعض اوقات ایرانی حکومت کے اپنے بیانات کو ماضی کے امریکی صدور کے مقابلے میں زیادہ سنجیدگی سے لیا

قومی خبریں سے مزید