Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

مقامی امریکیوں کے تجربے پر معروف کتابیں لکھنے والے تھامس کنگ کو 8 دہائیوں بعد معلوم ہوا کہ وہ مقامی امریکی تھے ہی نہیں

مقامی امریکیوں کے تجربے پر معروف کتابیں لکھنے والے تھامس کنگ کو 8 دہائیوں بعد معلوم ہوا کہ وہ مقامی امریکی تھے ہی نہیں

نیویارک :معروف مصنف تھامس کنگ نے کئی دہائیوں تک مقامی امریکیوں اور مقامی اقوام کی تاریخ، شناخت اور تجربات پر لکھا اور ان کی تحریروں نے مقامی امریکی مصنفین کی ایک پوری نسل کو متاثر کیا،لیکن اب ایک حیران کن انکشاف کے بعد معلوم ہوا ہے کہ کنگ دراصل مقامی امریکی نہیں ہیں اور ان کا چیروکی قوم سے بھی کوئی ثابت شدہ تعلق نہیں
نیویارک میگزین میں شائع ہونے والے مضمون میں مقامی امریکی مصنف ٹامی اورنج نے لکھا ہے کہ انہوں نے خود تھامس کنگ کی کتاب ’’دی اِن کنوینیئنٹ انڈین‘‘ سے بہت کچھ سیکھا تھا،2012 میں شائع ہونے والی اس کتاب نے شمالی امریکا کے مقامی لوگوں کی تاریخ، معاہدوں، قتل عام، نسل پرستانہ تصورات اور ہالی ووڈ میں ان کی پیش کش پر گہری تنقید کی تھی،اورنج کے مطابق اس کتاب نے مقامی امریکی مصنفین کی ایک پوری نسل کو اپنی تاریخ اور شناخت کے بارے میں نئے انداز میں سوچنے کی ترغیب دی
لیکن کنگ کے بارے میں یہ نئی حقیقت اس وقت سامنے آئی جب نسب کے ایک ماہر نے ان کے خاندانی پس منظر کی تحقیق کی،یہ تحقیق ’’ٹرائبل الائنس اگینسٹ فراڈز‘‘ نامی تنظیم سے وابستہ ایک ماہر نے کی، جس کے مطابق کنگ کا چیروکی قوم سے کسی بھی شکل میں کوئی ثابت شدہ تعلق نہیں ملا،تحقیق کے مطابق وہ مقامی امریکی یا مخلوط نسل کے مقامی امریکی بھی نہیں ہیں
کنگ کے لیے یہ انکشاف اس لیے غیر معمولی تھا کہ وہ تقریباً 8 دہائیوں تک یہ یقین رکھتے رہے کہ ان کے والد کی طرف سے ان کا تعلق جزوی طور پر چیروکی نسل سے ہے،ان کی والدہ نے انہیں بتایا تھا کہ ان کے غیر حاضر والد چیروکی نسل سے تعلق رکھتے تھے،کنگ نے اپنی زندگی میں اسی خاندانی روایت کو سچ سمجھا اور اسی شناخت کے ساتھ مقامی امریکی معاملات پر لکھتے اور بات کرتے رہے
جب بعد میں اس خاندانی دعوے کی تحقیق کی گئی تو اس کی تصدیق نہیں ہوسکی،کنگ نے خود بھی اس حقیقت کو قبول کیا،انہوں نے نومبر میں کینیڈا کے اخبار ’’گلوب اینڈ میل‘‘ میں ایک مضمون لکھ کر بتایا کہ انہیں معلوم ہوا ہے کہ ان کی والدہ کی طرف سے سنائی گئی کہانی درست نہیں تھی
نیویارک میگزین کے مطابق کنگ نے اس کیفیت کو اپنی شناخت کے اچانک ٹوٹ جانے سے تشبیہ دی،ان کا کہنا تھا کہ یہ ایسا احساس تھا جیسے کوئی شخص آپ کے گھر میں آکر بتائے کہ جن دیواروں کو آپ اپنی پوری زندگی حقیقی سمجھتے رہے، وہ دراصل وہاں ہیں ہی نہیں
تھامس کنگ کی ادبی حیثیت بھی اس معاملے کو غیر معمولی اہمیت دیتی ہے،وہ کینیڈا میں مقامی اقوام اور فرسٹ نیشنز کے بارے میں ایک بااثر ادبی آواز سمجھے جاتے رہے ہیں،ان کا ریڈیو پروگرام ’’دی ڈیڈ ڈاگ کیفے کامیڈی آور‘‘ 1997 سے 2000 تک نشر ہوا اور مقامی لوگوں کے تجربات اور سفید فام معاشرے کے رویوں پر طنزیہ انداز میں گفتگو کرتا تھا
ان کی کتاب ’’دی ٹروتھ اباؤٹ اسٹوریز‘‘ اور ناول ’’گرین گراس، رننگ واٹر‘‘ بھی مقامی امریکی موضوعات کے حوالے سے نمایاں سمجھے جاتے ہیں،تاہم ’’دی اِن کنوینیئنٹ انڈین‘‘ نے انہیں سب سے زیادہ شہرت دی،ٹامی اورنج کے مطابق اس کتاب نے مقامی امریکیوں کی تاریخ کو اس انداز میں بیان کیا کہ اس میں المیے کے ساتھ مزاح اور طنز بھی شامل تھا، جبکہ اس نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ سفید فام معاشرے نے مقامی لوگوں کو کس طرح ماضی کی ایک ختم شدہ قوم کے طور پر پیش کیا
اب کنگ کی اپنی شناخت کا انکشاف ان کی کتابوں اور ادبی ورثے کے بارے میں ایک نئی بحث پیدا کر رہا ہے،اورنج لکھتے ہیں کہ یہ معاملہ محض اس سوال تک محدود نہیں کہ کنگ کی کتابیں اچھی ہیں یا بری،مسئلہ یہ بھی ہے کہ جب کوئی شخص ایسی شناخت کے ساتھ مقامی لوگوں کی تاریخ اور تجربات بیان کرتا رہے جو حقیقت میں اس کی اپنی شناخت نہ ہو تو اس سے اس کی تحریروں کو پڑھنے اور سمجھنے کا انداز کس حد تک تبدیل ہوجاتا ہے
مضمون میں کینیڈا کی معروف گلوکارہ بفی سینٹ میری کا معاملہ بھی زیر بحث آتا ہے، جن کے مقامی امریکی نسب کے دعوے پر 2023 میں ایک تحقیقات کے بعد سوالات اٹھے تھے،ٹامی اورنج کے مطابق ایسے واقعات مقامی لوگوں کے لیے صرف کسی مشہور شخصیت کے بارے میں ایک انکشاف نہیں ہوتے بلکہ ان کے ساتھ جذباتی تعلق اور اپنی تاریخ کی نمائندگی پر اعتماد کو بھی متاثر کرتے ہیں
تھامس کنگ کے معاملے میں تاہم ایک اہم فرق یہ ہے کہ ان کے بارے میں سامنے آنے والی معلومات یہ ظاہر نہیں کرتیں کہ انہوں نے لازماً جان بوجھ کر ایک جھوٹی شناخت اختیار کی تھی،ان کا کہنا ہے کہ وہ خود اپنی والدہ سے ملنے والی خاندانی روایت پر یقین کرتے رہے،اسی لیے ان کی کہانی نے شناخت، خاندانی روایات اور مقامی امریکی ہونے کے دعوے کے بارے میں ایک پیچیدہ بحث کو جنم دیا ہے
ٹامی اورنج کے لیے یہ انکشاف ذاتی طور پر بھی مشکل ہے،وہ خود کنگ کی تحریروں سے متاثر ہونے والے مصنف ہیں اور کہتے ہیں کہ کنگ کی کتاب نے انہیں مقامی امریکی کی حیثیت سے اپنی کہانیاں بیان کرنے کے بارے میں سوچنے میں مدد دی تھی،لیکن اب وہ اسی مصنف کو ایک مختلف نظر سے دیکھنے پر مجبور ہیں
کنگ نے مضمون نگار سے گفتگو میں کہا کہ وہ نہیں چاہتے تھے کہ یہ معاملہ ان کی ذات کی کہانی بن جائے، لیکن جب افواہیں پھیلیں اور لوگوں نے تحقیق شروع کی تو انہیں احساس ہوا کہ وہ جس کہانی کو اپنی سمجھتے رہے تھے، اب وہ ان کی اپنی کہانی نہیں رہی
یہی وہ تضاد ہے جسے نیویارک میگزین کا مضمون نمایاں کرتا ہے،ایک ایسا مصنف جس نے مقامی امریکیوں کی شناخت، تاریخ اور دوسروں کی طرف سے ان کی نمائندگی کے مسئلے پر اپنی پوری ادبی زندگی میں سوال اٹھائے، اب خود اپنی شناخت کے بارے میں ایک ایسے انکشاف کے مرکز میں ہے جس نے ان کی اپنی کتابوں اور ادبی میراث کو ایک نئے سوال کے سامنے لا کھڑا کیا ہے

قومی خبریں سے مزید