ٹرمپ نے لیک اونٹاریو کا نام بدل کر لیک امریکہ رکھنے کا حکم دے دیا، کینیڈا کا سخت ردعمل
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے لیک اونٹاریو کا نام تبدیل کرکے لیک امریکہ رکھنے کے لیے انتظامی حکم جاری کر دیا ہے یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ اور کینیڈا کے درمیان تجارتی مذاکرات ناکام ہو چکے ہیں اور دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا ہے
ٹرمپ نے کہا کہ یہ تبدیلی فوری طور پر نافذ العمل ہوگی اور امریکی انتظامیہ نے اس سلسلے میں ضروری دستاویزات جمع کرا دی ہیں۔ لیک اونٹاریو پانچ عظیم لیکس میں شامل ہے اور امریکہ اور کینیڈا دونوں کے درمیان مشترک ہے
ٹرمپ اس سے پہلے بھی سوشل میڈیا پر لیک اونٹاریو کا نام تبدیل کرنے کی بات کرتے رہے تھے۔ تازہ اقدام امریکہ اور کینیڈا کے درمیان تجارتی تنازع کے پس منظر میں سامنے آیا ہے، جس کے دوران دونوں ملکوں کے درمیان مذاکرات تعطل کا شکار ہوئے
کینیڈین وزیراعظم مارک کارنی اور دیگر کینیڈین رہنماؤں نے اس نام کی تبدیلی کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ کینیڈا میں اس آبی گزرگاہ کو لیک اونٹاریو ہی کہا جاتا رہے گا۔ کینیڈین مؤقف کے مطابق یہ نام تاریخی اور مقامی اہمیت رکھتا ہے اور امریکی انتظامی حکم کینیڈا میں اس نام کو تبدیل نہیں کر سکتا
امریکی فیصلے سے لیک کی جغرافیائی حیثیت یا دونوں ملکوں کے درمیان سرحد میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی تاہم نام کی تبدیلی کو امریکہ اور کینیڈا کے درمیان بڑھتی ہوئی سیاسی اور تجارتی کشیدگی میں ایک نئی علامتی پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے
ٹرمپ نے اسی دوران بحر اوقیانوس یا بحرالکاہل کے نام تبدیل کرنے کی بات بھی کی ہے، تاہم ان سمندروں کے نام سے متعلق کوئی ایسا انتظامی فیصلہ سامنے نہیں آیا جو لیک اونٹاریو کے نام کی تبدیلی کے حکم کے برابر ہو





