Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

جرمنی نے 23 افغان شہریوں کو کابل واپس بھیج دیا، سخت تارکین وطن پالیسی مزید سخت

جرمنی نے 23 افغان شہریوں کو کابل واپس بھیج دیا، سخت تارکین وطن پالیسی مزید سخت

برلن: جرمنی نے منگل کے روز 23 افغان مردوں کو چارٹر طیارے کے ذریعے کابل واپس بھیج دیا ہے، جن میں زیادہ تر ایسے افراد شامل تھے جنہیں جرمنی میں سنگین یا پرتشدد جرائم میں سزا سنائی جا چکی تھی۔ یہ اقدام جرمن حکومت کی جانب سے تارکین وطن اور پناہ کے نظام کے حوالے سے سخت پالیسی اختیار کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے
جرمن وزارت داخلہ کے مطابق 23 افغان شہریوں کو ملک چھوڑنے کے احکامات جاری کیے گئے تھے اور انہیں لیپزگ ہوائی اڈے سے کابل جانے والی خصوصی پرواز کے ذریعے واپس بھیجا گیا حکام کے مطابق ان میں زیادہ تر افراد سنگین جرائم، جن میں جنسی جرائم اور جسمانی تشدد بھی شامل ہے، میں سزا یافتہ تھے
جرمنی میں پناہ گزینوں کی واپسی کا معاملہ گزشتہ کئی برسوں سے حساس رہا ہے۔ 2021 میں طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد جرمنی نے افغانستان کے لیے براہ راست اجتماعی ملک بدری کا عمل محدود کر دیا تھا، تاہم اب حکومت نے افغانستان واپسی کے عمل کو دوبارہ تیز کر دیا ہے
جرمن حکومت کا کہنا ہے کہ ایسے غیر ملکی شہری جنہیں ملک میں رہنے کا قانونی حق حاصل نہیں اور جن کے خلاف ملک بدری کے احکامات موجود ہیں، انہیں جرمنی چھوڑنا ہوگا۔ جرمن وزیر داخلہ الیگزینڈر ڈوبرنڈٹ نے کہا ہے کہ معاشرے کی واضح خواہش ہے کہ جرائم میں ملوث افراد جرمنی سے چلے جائیں اور حکومت اس پالیسی پر مضبوطی سے عمل کرے گی
یہ حالیہ پرواز اس لیے بھی اہم ہے کہ جرمنی نے جولائی میں افغانستان کے لیے ملک بدری کی پالیسی میں مزید نرمی کرتے ہوئے صرف مجرمان تک کارروائی محدود رکھنے کے بجائے ایسے افغان شہریوں کو بھی واپس بھیجنے کا راستہ کھولا جنہیں جرمنی میں رہنے کا قانونی حق حاصل نہیں
رواں سال جولائی میں جرمنی نے ایک ایسے افغان شہری کو بھی واپس بھیجا تھا جس کا کوئی مجرمانہ ریکارڈ نہیں تھا اس کے بعد افغان شہریوں کی ملک بدری کے دائرہ کار میں توسیع پر انسانی حقوق کے کارکنوں اور سیاسی حلقوں کی جانب سے تشویش کا اظہار کیا گیا ہے
تازہ پرواز کے موقع پر لیپزگ ہوائی اڈے پر احتجاج بھی کیا گیا جرمن ذرائع کے مطابق بعض مظاہرین نے پناہ گزینوں کی ملک بدری روکنے کے مطالبے پر مبنی بینر اٹھا رکھے تھے
جرمن حکومت نے گزشتہ چند ماہ کے دوران سرحدی نگرانی سخت کرنے اور ملک بدری کے عمل کو تیز کرنے پر خاص توجہ دی ہے۔ چانسلر فریڈرک مرز کی حکومت کا مؤقف ہے کہ جرمنی میں غیر قانونی طور پر مقیم افراد اور ایسے غیر ملکی شہری جنہیں رہنے کا حق حاصل نہیں، ان کے خلاف کارروائی ضروری ہے
دوسری جانب انسانی حقوق کے حلقوں کا کہنا ہے کہ افغانستان میں اب بھی انسانی اور معاشی صورتحال انتہائی مشکل ہے اور واپس بھیجے جانے والے افراد کو روزگار، رہائش اور بنیادی سہولیات کے حصول میں شدید مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے افغانستان واپس بھیجے جانے والے افراد کے تحفظ اور مستقبل کے حوالے سے بھی خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں
جرمنی کی جانب سے 23 افغان شہریوں کی تازہ ملک بدری سے واضح ہوتا ہے کہ برلن نے افغانستان کے حوالے سے اپنی پالیسی مزید سخت کر دی ہے اور آنے والے دنوں میں ایسے افغان شہریوں کی واپسی کا عمل جاری رہنے کا امکان ہے جنہیں جرمنی میں رہنے کا قانونی حق حاصل نہیں

قومی خبریں سے مزید