پاکستان کی سفارتی کوششیں تیز، ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی ختم کرنے کے لیے دو راستے بیک وقت فعال
اسلام آباد: ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی کو ختم کرنے کے لیے ایک طرف پاکستان اور خطے کے دیگر ممالک سفارتی کوششیں تیز کر رہے ہیں جبکہ دوسری جانب امریکا نے ایران پر مزید معاشی پابندیاں عائد کرکے دباؤ بڑھانے کا راستہ اختیار کیا ہے۔ موجودہ صورتحال میں دونوں راستے بیک وقت آگے بڑھ رہے ہیں اور خطے میں جنگ دوبارہ شروع ہونے کے خدشات کے باعث سفارتی کوششوں کی اہمیت بڑھ گئی ہے
پاکستان کی سفارتی کوششوں میں اہم پیش رفت اس وقت ہوئی جب چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر نے پیر کو تہران کا دورہ کیا اور ایرانی قیادت سے اہم مذاکرات کیے۔ ملاقاتوں میں ایرانی صدر اور دیگر اعلیٰ حکام بھی شامل تھے مذاکرات کے دوران ایران نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر اپنے عزم کا اعادہ کیا، جس کا مقصد موجودہ بحران کا پرامن حل تلاش کرنا ہے
ایرانی قیادت کی جانب سے مفاہمتی عمل پر آمادگی کے باوجود تہران اور واشنگٹن کے درمیان شدید بداعتمادی اب بھی سب سے بڑی رکاوٹ قرار دی جا رہی ہے ایرانی قومی سلامتی کے سربراہ نے واضح کیا کہ ایران کو امریکا پر اعتماد نہیں، جبکہ امریکی پالیسی میں سختی دونوں ممالک کے درمیان اعتماد بحال کرنے کی کوششوں کو مزید مشکل بنا رہی ہے
دوسری جانب امریکا نے ایران پر مالی دباؤ مزید بڑھانے کے لیے نئی پابندیوں کا اعلان کیا ہے۔ امریکی انتظامیہ ان اقدامات کو ایران کے خلاف ایک بڑے معاشی دباؤ کی مہم قرار دے رہی ہے تاہم ایران طویل عرصے سے امریکی پابندیوں کا سامنا کرتا آیا ہے اور نئی پابندیوں سے تہران کے مؤقف میں فوری تبدیلی آنے کے امکانات محدود دکھائی دیتے ہیں
ایران کے بڑے تجارتی شراکت داروں خصوصاً چین کی جانب سے بھی واشنگٹن کی پابندیوں کی مکمل حمایت کے امکانات کم ہیں۔ اس صورتحال میں امریکی معاشی دباؤ ایران کو مذاکرات پر مجبور کرنے کے بجائے اس کے مؤقف کو مزید سخت کر سکتا ہے
پاکستان کی سفارتی کوششوں کے بعد عمان کے وزیر خارجہ نے بھی تہران کا دورہ کیا اور آبنائے ہرمز کی صورتحال سمیت جاری بحران پر ایرانی حکام سے بات چیت کی۔ آبنائے ہرمز خطے کی ایک انتہائی اہم آبی گزرگاہ ہے جہاں کشیدگی بڑھنے کی صورت میں عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل شدید متاثر ہو سکتی ہے
سفارتی کوششوں میں شامل ممالک کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ ایران اور امریکا دوبارہ مذاکرات کی طرف واپس آئیں اور اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے اہم نکات پر عمل درآمد کا راستہ نکالا جائے خطے کے بیشتر ممالک بھی کسی نئی جنگ یا فوجی کارروائی کی واپسی نہیں چاہتے کیونکہ اس کے اثرات پورے خطے کی سلامتی اور معیشت پر پڑ سکتے ہیں
تجزیے کے مطابق امریکا اگر ایران کو مزید معاشی طور پر تنہا کرنے یا دوبارہ فوجی کارروائی شروع کرنے کی طرف بڑھتا ہے تو ایران کی جانب سے بھی سخت ردعمل سامنے آنے کا امکان ہے، جس سے صورتحال مزید خطرناک ہو سکتی ہے اسی لیے سفارتی رابطوں کو موجودہ بحران سے نکلنے کا نسبتاً محفوظ راستہ قرار دیا جا رہا ہے
امریکا اور ایران دونوں پر زور دیا جا رہا ہے کہ وہ سخت بیانات اور دباؤ کی پالیسی کے بجائے مذاکرات کے ذریعے قابل عمل سمجھوتے کی طرف بڑھیں دوسری جانب ایران سے بھی آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کو معمول پر لانے اور خلیجی ممالک کے ساتھ خراب تعلقات بہتر بنانے کی توقع کی جا رہی ہے
موجودہ صورتحال میں پاکستان کی سفارتی سرگرمیاں خاص اہمیت اختیار کر گئی ہیں کیونکہ اسلام آباد ایک ایسے حل کی کوشش کر رہا ہے جس سے ایران اور امریکا کے درمیان براہ راست تصادم کا خطرہ کم ہو اور خطے میں امن کا راستہ کھولا جا سکے





