Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

مصنوعی ذہانت کے دور میں خبروں کی حقیقت پر بڑا سوال، آخر جواب کو کنٹرول کون کر رہا ہے؟

مصنوعی ذہانت کے دور میں خبروں کی حقیقت پر بڑا سوال، آخر جواب کو کنٹرول کون کر رہا ہے؟

اسلام آباد: مصنوعی ذہانت کے تیزی سے بڑھتے استعمال نے لوگوں کے معلومات اور خبروں تک پہنچنے کا طریقہ بدل دیا ہے، لیکن اس کے ساتھ ایک اہم سوال بھی سامنے آ گیا ہے کہ جب لوگ صحافیوں، ماہرین یا سرچ انجن کے بجائے مصنوعی ذہانت سے براہ راست سوالات کے جواب حاصل کریں گے تو عوام تک پہنچنے والی معلومات کی درستگی، ماخذ اور ذمہ داری کس کے پاس ہوگی
یہ بحث اس وقت مزید اہم ہوئی جب کچھ آئی فون صارفین کو ایک ایسی اطلاع موصول ہوئی جس میں غلط طور پر بتایا گیا کہ نیویارک میں یونائیٹڈ ہیلتھ کیئر کے سربراہ برائن تھامسن کے قتل کے الزام میں گرفتار لوئیجی منجیون نے خود کو گولی مار لی ہے، حالانکہ وہ زندہ اور زیر حراست تھا۔ بعد میں معلوم ہوا کہ مصنوعی ذہانت نے متعدد خبروں کی اطلاعات کو یکجا کرتے ہوئے یہ غلط خلاصہ تیار کیا تھا، جس کے بعد خبروں اور تفریحی مواد کے خودکار خلاصے عارضی طور پر روک دیے گئے
یہ واقعہ صرف مصنوعی ذہانت کی ایک غلطی نہیں بلکہ اس سے کہیں بڑا مسئلہ سامنے لاتا ہے خبر صحافی نے تیار کی، تحقیق کسی ادارے نے کی، لیکن مصنوعی ذہانت نے اسے اپنے انداز میں تبدیل کرکے صارف کے سامنے پیش کر دیا۔ اس طرح اصل خبر کا نام تو باقی رہتا ہے مگر اس کے ساتھ پیش کی جانے والی معلومات پر اصل خبر تیار کرنے والے ادارے کا کنٹرول نہیں رہتا
اب لوگ ایسے سوالات کے لیے بھی مصنوعی ذہانت کے معاونین کا رخ کر رہے ہیں جو پہلے گوگل، صحافیوں یا ماہرین سے پوچھے جاتے تھے، مثلاً کسی انتخابات میں کیا ہوا، کسی جنگ کی وجہ کیا تھی یا کسی سیاسی تنازع میں اصل حقائق کیا ہیں مصنوعی ذہانت مختلف ذرائع سے مواد حاصل کرکے اسے پڑھتی، مختصر کرتی اور پھر صارف کو ایک تیار جواب دے دیتی ہے
روایتی سرچ کے نظام میں صارف مختلف نتائج دیکھ سکتا تھا، اصل خبر کھول سکتا تھا اور یہ جان سکتا تھا کہ دعویٰ کس ذریعے سے آیا ہے۔ مصنوعی ذہانت اس عمل کو مختصر کر دیتی ہے اور صارف کو براہ راست ایک جواب ملتا ہے مسئلہ یہ ہے کہ صارف کو ہمیشہ یہ معلوم نہیں ہوتا کہ جواب میں کون سی معلومات شامل کی گئیں، کون سی چھوڑ دی گئیں اور مختلف ذرائع کی اعتباریت کا اندازہ کس بنیاد پر لگایا گیا
یہ خطرہ ایسے وقت میں بڑھ رہا ہے جب انتخابات اور سیاسی تنازعات کے دوران جھوٹی معلومات، مصنوعی آوازوں اور تبدیل شدہ ویڈیوز کا استعمال بھی بڑھ رہا ہے۔ حکومتیں اور سیاسی جماعتیں صرف خبروں کا جواب دینے تک محدود نہیں رہیں بلکہ بعض اوقات اپنے واقعات اور دعووں کی اپنی تشریح بھی عوام تک پہنچاتی ہیں
غزہ کی صورتحال بھی اس مسئلے کی ایک بڑی مثال ہے جہاں صحافیوں پر پابندیاں، مختلف فریقوں کے متضاد دعوے اور مختلف انداز کی زبان استعمال ہونے کے باعث ایک ہی واقعے کی متعدد مختلف تصویریں سامنے آتی ہیں۔ مہینوں کی صحافتی رپورٹنگ، اقوام متحدہ کے اداروں اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے شواہد کو کسی ایک فریق کے انکار کے برابر پیش کیا جائے تو مصنوعی ذہانت صارف کو دونوں دعووں کو یکساں معتبر سمجھنے پر مجبور کر سکتی ہے
مصنوعی ذہانت کے غلط جواب کا خطرہ صرف غلط معلومات تک محدود نہیں اصل جمہوری خطرہ یہ ہے کہ عوامی معلومات کو منظم کرنے کی طاقت چند نجی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے ہاتھ میں مرکوز ہو جائے صارف کو ایک پُراعتماد جواب تو مل جائے لیکن اسے یہ معلوم نہ ہو کہ حقائق کس صحافتی ادارے نے قائم کیے، ان کے پیچھے کیا شواہد ہیں اور کون سی آوازیں یا معلومات جواب میں شامل نہیں کی گئیں
ایک مطالعے میں 18 ممالک اور 14 زبانوں میں چار بڑے مصنوعی ذہانت کے معاونین کے 3,000 سے زیادہ جوابات کا جائزہ لیا گیا اس میں 45 فیصد جوابات میں کم از کم ایک اہم مسئلہ پایا گیا، جبکہ 31 فیصد میں ذرائع سے متعلق سنگین مسائل اور 20 فیصد میں بڑی درستگی کی خامیاں سامنے آئیں
اس تبدیلی کا اثر خبروں کے کاروبار پر بھی پڑ رہا ہے۔ روایتی سرچ کے ذریعے صارف خبر کی ویب سائٹ تک پہنچتا تھا، اصل رپورٹ پڑھتا تھا اور یوں صحافتی ادارے کو اشتہارات یا رکنیت کی صورت میں آمدنی حاصل ہوتی تھی۔ مصنوعی ذہانت اب اسی صحافتی کام کو ایک مختصر جواب میں تبدیل کرکے صارف کو اپنی ہی جگہ روک سکتی ہے
ایک تحقیق کے مطابق جب سرچ نتائج کے ساتھ مصنوعی ذہانت کا خلاصہ موجود ہو تو صارف کے اصل سرچ نتیجے پر جانے کے امکانات تقریباً نصف رہ جاتے ہیں خبر کے اداروں سے کیے گئے ایک جائزے میں بھی توقع ظاہر کی گئی ہے کہ اگلے تین برس میں سرچ کے ذریعے ان کی ویب سائٹس پر آنے والا ٹریفک 43 فیصد تک کم ہو سکتا ہے
پاکستان کے لیے یہ مسئلہ خاص طور پر اہم ہے کیونکہ یہاں صحافت پہلے ہی کم ہوتی آمدنی، سیاسی دباؤ، تنخواہوں میں تاخیر اور سرکاری و کاروباری اشتہارات پر انحصار جیسے مسائل سے دوچار ہے اگر مصنوعی ذہانت صحافتی اداروں کی تیار کردہ خبریں استعمال کرتی رہے لیکن قارئین اصل خبر تک نہ پہنچیں تو ان اداروں کی مالی مشکلات مزید بڑھ سکتی ہیں
یورپی یونین نے مصنوعی ذہانت سے پیدا ہونے والے بعض خطرات سے نمٹنے کے لیے قواعد بھی متعارف کرائے ہیں ان میں مصنوعی طور پر تیار یا تبدیل کیے گئے بعض مواد کی نشاندہی، حق اشاعت سے متعلق پالیسیوں اور مصنوعی ذہانت کے نظام کی جانب سے استعمال کیے جانے والے مواد کے بارے میں معلومات فراہم کرنے جیسے اقدامات شامل ہیں
تاہم بنیادی سوال اب بھی باقی ہے کہ مصنوعی ذہانت کے ذریعے دیے جانے والے جواب میں صارف کو اصل خبر، شواہد اور مختلف معتبر ذرائع تک کتنی آسانی سے رسائی دی جائے گی یہ بھی اہم ہے کہ اگر کسی مصنوعی ذہانت کے جواب کی بنیاد کسی صحافی کی کئی دنوں کی تحقیق اور رپورٹنگ ہو تو اس صحافت کے اصل خالق کو مناسب طور پر تسلیم اور معاوضہ بھی دیا جائے
پاکستان میں بھی خبر کے اداروں کو اس مسئلے پر فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ انہیں مصنوعی ذہانت کے نظام کی جانب سے اپنے مواد کے استعمال، اصل خبر کے حوالے، غلط خلاصوں کی اصلاح اور تجارتی استعمال کی صورت میں معاوضے کے لیے واضح اصول وضع کرنا ہوں گے
مصنوعی ذہانت صحافت کو تیز اور معلومات تک رسائی کو آسان بنا سکتی ہے، لیکن اگر صارف کو اصل خبر، ماخذ اور شواہد تک رسائی ہی نہ ملے تو معلومات کی دنیا میں طاقت چند بڑے ٹیکنالوجی اداروں کے ہاتھ میں مزید مرکوز ہو سکتی ہے آنے والے دور میں اصل سوال صرف یہ نہیں ہوگا کہ خبر کیا ہے، بلکہ یہ بھی ہوگا کہ خبر کس نے تیار کی، مصنوعی ذہانت نے اسے کیسے بدلا اور آخر صارف تک پہنچنے والے جواب کی ذمہ داری کس پر ہے۔

قومی خبریں سے مزید