Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

امریکا میں پناہ کے متلاشی 2 لاکھ افراد کے ویزے منسوخ کیے جانے کا امکان

امریکا میں پناہ کے متلاشی 2 لاکھ افراد کے ویزے منسوخ کیے جانے کا امکان

واشنگٹن: امریکی حکومت نے ایسے غیر ملکی شہریوں کے ویزے منسوخ کرنے کی کارروائی شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو کاروباری یا سیاحتی ویزوں پر امریکہ پہنچنے کے بعد وہاں پناہ کی درخواست دے چکے ہیں یا اس وقت پناہ کے حصول کی کوشش کر رہے ہیں اس اقدام سے زیادہ سے زیادہ 2 لاکھ افراد متاثر ہو سکتے ہیں اور حکام کے مطابق یہ امریکی تاریخ میں ویزوں کی سب سے بڑی اجتماعی منسوخی بن سکتی ہے
امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق کارروائی ان بی ون اور بی ٹو ویزوں کے حامل افراد کے خلاف کی جائے گی جو 2016 سے 2026 کے دوران جاری کیے گئے اور جن کے حامل افراد نے امریکہ پہنچنے کے بعد پناہ کی درخواست دی۔ بی ون ویزا کاروباری سفر جبکہ بی ٹو ویزا سیاحت اور عارضی دوروں کے لیے استعمال ہوتا ہے
امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان ٹومی پیگوٹ نے کہا ہے کہ پناہ حاصل کرنے کے مقصد سے ویزا حاصل کرنا دھوکا دہی کے زمرے میں آتا ہے اور یہ ویزا منسوخ کرنے کی بنیاد بن سکتا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ایسے ویزوں کا مقصد عارضی طور پر امریکہ کا دورہ کرنا تھا، مستقل قیام کے لیے پناہ کی درخواست دینا نہیں
وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ اس کارروائی کے نتیجے میں 2 لاکھ تک ویزے منسوخ کیے جا سکتے ہیں اور اسے امریکی تاریخ میں ویزوں کی سب سے بڑی اجتماعی منسوخی قرار دیا ہے۔ تاہم امریکی محکمہ خارجہ نے متاثر ہونے والے افراد کی حتمی تعداد کی تصدیق نہیں کی ہے
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدام ان لوگوں کے خلاف کیا جا رہا ہے جو عارضی سفر کے لیے جاری کیے گئے ویزوں کو امریکہ میں مستقل قیام حاصل کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ انتظامیہ نے پناہ کے نظام پر غیر ضروری بوجھ ڈالنے والی درخواستوں اور ویزا نظام کے غلط استعمال کو روکنے کو اپنی ترجیحات میں شامل کیا ہے
اگر ویزے منسوخ کیے جاتے ہیں تو اس کا مطلب یہ نہیں ہوگا کہ تمام متاثرہ افراد کو فوری طور پر ملک سے نکال دیا جائے گا۔ تاہم ان کا عارضی ویزا ختم ہو جائے گا اور ان کی قانونی حیثیت پر امیگریشن حکام کی جانب سے مزید کارروائی ہو سکتی ہے بعض معاملات میں قانونی چیلنجز بھی سامنے آنے کا امکان ہے
ٹرمپ انتظامیہ پہلے ہی امیگریشن قوانین سخت کرنے کے متعدد اقدامات کر چکی ہے، جن میں ویزوں کی منسوخی، درخواستوں کی سخت جانچ، اضافی مالی شرائط اور پناہ کے نظام کی نگرانی میں اضافہ شامل ہے گزشتہ 18 ماہ کے دوران بھی بڑی تعداد میں ویزے مختلف وجوہات کی بنیاد پر منسوخ کیے جا چکے ہیں
دوسری جانب انسانی حقوق اور تارکین وطن کے حقوق کے لیے کام کرنے والے حلقوں نے اس پالیسی پر تشویش کا اظہار کیا ہے ناقدین کا کہنا ہے کہ کسی شخص کا امریکہ پہنچنے کے بعد پناہ کی درخواست دینا بذات خود غیر قانونی عمل نہیں، اس لیے ویزا منسوخی کی وسیع کارروائی سے ایسے افراد بھی متاثر ہو سکتے ہیں جن کے پناہ کے دعوے حقیقی ہوں
امریکی حکومت تاہم اپنے مؤقف پر قائم ہے کہ ویزا امریکہ میں داخلے یا قیام کا مستقل حق نہیں بلکہ ایک اجازت ہے، جسے قوانین اور ویزا شرائط کی خلاف ورزی کی صورت میں منسوخ کیا جا سکتا ہے نئی کارروائی کے تحت اب ہزاروں سے لے کر ممکنہ طور پر 2 لاکھ افراد کے ویزوں کا دوبارہ جائزہ لیا جائے گا

قومی خبریں سے مزید