پاکستان میں اسپتالوں میں آتشزدگی کے واقعات کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ، 2010 سے اب تک درجنوں جانیں ضائع
اسلام آباد: پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز کے گائنی وارڈ میں بدھ کی صبح لگنے والی ہولناک آگ نے ایک بار پھر ملک کے اسپتالوں میں حفاظتی انتظامات پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ اسلام آباد کے بڑے سرکاری اسپتال میں آگ لگنے سے 14 نومولود جاں بحق ہوئے، جس کے بعد اسپتالوں میں آتشزدگی کے گزشتہ برسوں کے واقعات بھی ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئے ہیں
رپورٹس کے مطابق 2010 سے اب تک پاکستان کے مختلف اسپتالوں میں متعدد مرتبہ آگ لگنے کے واقعات پیش آ چکے ہیں، جن میں مریضوں، نومولود بچوں، اسپتال کے ملازمین اور دیگر افراد کی جانیں ضائع ہوئیں جبکہ کئی واقعات میں اہم طبی سامان اور عمارتوں کو بھی شدید نقصان پہنچا
جون 2024 میں ساہیوال ٹیچنگ اسپتال کے بچوں کے وارڈ میں ایئر کنڈیشننگ نظام میں شارٹ سرکٹ کے باعث آگ لگی، جس کے نتیجے میں 11 نومولود بچے جاں بحق ہوئے۔ اس سے چند ماہ قبل فروری 2024 میں کراچی کے سندھ گورنمنٹ اسپتال لیاقت آباد کے ایمرجنسی شعبے میں آگ لگنے سے اسپتال کے چار ملازمین، جن میں دو پیرا میڈکس بھی شامل تھے، جاں بحق ہوئے جبکہ تین دیگر ملازمین شدید جھلس گئے
مئی 2023 میں لاہور کے چلڈرن اسپتال کی بچوں کی نرسری میں آگ لگنے سے ایک نومولود جاں بحق جبکہ دوسرا جھلس گیا۔ 2022 میں بھی لاہور، نارووال اور دیگر شہروں کے اسپتالوں میں متعدد آتشزدگیاں ہوئیں۔ نارووال کے ضلعی ہیڈکوارٹر اسپتال کے بچوں کے وارڈ میں آگ لگنے کے بعد 40 بچوں اور پانچ خواتین کو فوری طور پر باہر نکالا گیا
اسی سال لاہور کے جناح اسپتال کے آپریشن تھیٹر میں آگ لگنے سے طبی سامان اور دیگر اشیا جل گئیں جبکہ چلڈرن اسپتال کے بیرونی مریضوں کے شعبے میں لگنے والی بڑی آگ سے لاکھوں روپے مالیت کی ادویات تباہ ہوئیں کراچی میں ایک نجی اسپتال میں ویلڈر آگ کی زد میں آ کر جاں بحق جبکہ ایک ملازم شدید زخمی ہوا
2021 میں لاہور کے میو اسپتال کے بچوں کے وارڈ میں آگ لگنے کے بعد مریضوں کو دوسرے وارڈز میں منتقل کرنا پڑا اسی سال لاہور کے میو اسپتال کے علاوہ سیالکوٹ کے سرکاری اسپتال اور لاڑکانہ کے بچوں کے اسپتال میں بھی آگ کے واقعات پیش آئے، تاہم ان واقعات میں بڑے پیمانے پر جانی نقصان نہیں ہوا
جون 2020 میں لاہور کے سروسز اسپتال کے ایمرجنسی وارڈ کے آپریشن تھیٹر میں آگ لگنے سے ایک خاتون جاں بحق اور آٹھ افراد، جن میں ڈاکٹر، پیرا میڈکس اور مریض شامل تھے، معمولی زخمی ہوئے۔ اسی سال راولپنڈی انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی اور ضلعی ہیڈکوارٹر اسپتال میں بھی آگ کے واقعات رپورٹ ہوئے
جنوری 2020 میں کراچی کے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف چائلڈ ہیلتھ میں ایک انکیوبیٹر میں آگ لگنے سے نومولود بچی جاں بحق ہوئی۔ 2019 میں لاہور کے میو اسپتال کے مسافرخانے میں آگ لگنے سے بھگدڑ جیسی صورتحال پیدا ہوئی تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا
2017 میں سیالکوٹ کے علامہ اقبال میموریل ٹیچنگ اسپتال میں بڑی آگ لگنے کے بعد سیکڑوں مریضوں ان کے تیمارداروں، ڈاکٹروں اور پیرا میڈکس کو اسپتال سے نکالنا پڑا۔ 2016 میں دادو کے ایک نجی اسپتال میں گیس سلنڈر پھٹنے سے آگ لگی جس کے نتیجے میں 20 مریض شدید جھلس گئے
2014 میں ملتان کے نشتر اسپتال کے ایمرجنسی وارڈ کے تہہ خانے میں آگ لگنے سے دھویں کے باعث چھ مریض متاثر ہوئے اور ہنگامی طبی خدمات ڈھائی گھنٹے سے زیادہ وقت تک معطل رہیں۔ 2013 میں فیصل آباد کے الائیڈ اسپتال کے بچوں کے وارڈ میں آگ لگنے سے دو کم عمر بچے متاثر ہوئے جبکہ لاہور کے پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی کی انجیوگرافی لیبارٹری میں آتشزدگی سے طبی آلات کو نقصان پہنچا
جون 2012 میں لاہور کے سروسز اسپتال میں آگ لگنے سے کم از کم چار نومولود جاں بحق اور 17 افراد جھلس گئے تھے اسی سال دادو کے سول اسپتال کے ڈینٹل وارڈ میں بڑی آگ لگنے سے دو آپریشن یونٹس، قیمتی طبی سامان اور فرنیچر جل کر تباہ ہو گیا
2010 میں لاہور کے میو اسپتال کے ایمرجنسی بلاک کے انتہائی نگہداشت وارڈ میں شارٹ سرکٹ کے باعث دھواں بھرنے سے کم از کم چھ مریض بے ہوش ہو گئے جبکہ متعدد تیمارداروں اور اسپتال ملازمین کو سانس لینے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑا اسی سال لاہور کے سروسز اسپتال کے تین آپریشن تھیٹروں میں آگ لگنے سے ایک دو سالہ بچہ اور ایک شخص جھلس گئے جبکہ 30 ملین روپے سے زائد مالیت کا سامان تباہ ہوا
بار بار پیش آنے والے ان واقعات میں شارٹ سرکٹ، ایئر کنڈیشننگ نظام کی خرابی، گیس سلنڈر اور بجلی کے نظام سے متعلق مسائل مختلف مواقع پر سامنے آتے رہے ہیں ان واقعات نے اسپتالوں میں ہنگامی اخراج کے راستوں، آگ بجھانے کے نظام، بجلی کی تنصیبات اور حفاظتی ضوابط پر عمل درآمد کے حوالے سے مسلسل سوالات اٹھائے ہیں
اسلام آباد کے حالیہ واقعے کے بعد ایک مرتبہ پھر اسپتالوں میں حفاظتی انتظامات کی جامع جانچ اور ذمہ داروں کے تعین کا مطالبہ زور پکڑ گیا ہے وزیراعظم شہباز شریف نے واقعے کی فوری تحقیقات کا حکم دیا ہے جبکہ وفاقی صحت سیکریٹری کو عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے۔





