Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

کینیڈا کا امریکہ کو بڑا جوابی وار، موبائل فون، میک اپ اور گھریلو سامان سمیت 700 مصنوعات پر ٹیرف عائد

کینیڈا کا امریکہ کو بڑا جوابی وار، موبائل فون، میک اپ اور گھریلو سامان سمیت 700 مصنوعات پر ٹیرف عائد

اوٹاوا: امریکہ کی جانب سے کینیڈین مصنوعات پر نئے 50 فیصد ٹیرف کے بعد کینیڈا نے بھی امریکہ سے درآمد ہونے والی تقریباً 700 مصنوعات پر جوابی ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کر دیا ہے، جس سے دونوں ممالک کے درمیان تجارتی کشیدگی مزید شدت اختیار کر گئی ہے
کینیڈین حکومت کے مطابق نئے جوابی ٹیرف 8 ستمبر 2026 سے نافذ ہوں گے اور مختلف مصنوعات پر 15، 25 اور 50 فیصد تک ڈیوٹی عائد کی جائے گی ان اقدامات کا مجموعی دائرہ تقریباً 27.6 ارب ڈالر مالیت کی امریکی درآمدات تک پھیلا ہوا ہے
نئی فہرست میں روزمرہ استعمال کی متعدد اشیا شامل ہیں امریکہ سے آنے والے موبائل فون، میک اپ اور خوشبوئیں، باورچی خانے کا سامان، گھریلو آلات، فرنیچر، کپڑے، پنیر، اسٹیل، المونیم، کاغذی مصنوعات، زرعی سامان، مشینری اور دیگر اشیا پر اضافی ٹیرف عائد کیا جائے گا
کینیڈا کی جانب سے بعض مصنوعات پر 50 فیصد تک ٹیرف لگانے کا فیصلہ خاص طور پر اہم قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ اس میں ایسی اشیا بھی شامل ہیں جو عام صارفین براہ راست خریدتے ہیں موبائل فون، کاسمیٹکس، باورچی خانے کے برتن اور مختلف گھریلو مصنوعات کی قیمتوں پر اس فیصلے کے اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے
کینیڈین حکومت کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات امریکہ کی جانب سے کینیڈین مصنوعات پر عائد کیے گئے نئے ٹیرف کا ڈالر کے بدلے ڈالر جواب ہیں حکومت کے مطابق جوابی اقدامات کا مقصد کینیڈین صنعتوں اور کارکنوں کے مفادات کا تحفظ کرنا اور امریکہ پر تجارتی مذاکرات کے لیے دباؤ بڑھانا ہے
تجارتی تنازع اس وقت مزید سنگین ہوا جب امریکہ نے کینیڈا سے آنے والی تقریباً 27.6 ارب ڈالر مالیت کی مصنوعات پر 50 فیصد ٹیرف عائد کر دیے ان امریکی اقدامات کے بعد کینیڈا نے بھی اپنی نئی فہرست تیار کی ہے تاکہ امریکی مصنوعات پر اسی نوعیت کا مالی دباؤ ڈالا جا سکے
حکومت نے ٹیرف سے متاثر ہونے والے کینیڈین کاروباروں اور کارکنوں کے لیے 7.5 ارب ڈالر کے امدادی اقدامات کا بھی اعلان کیا ہے، جن میں کاروباروں کے لیے مالی سہولت اور کارکنوں کی مدد کے مختلف پروگرام شامل ہیں
کینیڈین حکام کا کہنا ہے کہ حکومت امریکی مصنوعات پر عائد کیے جانے والے ٹیرف کے اثرات کو محدود رکھنے اور مقامی کاروباروں کو تحفظ دینے کی کوشش کر رہی ہے، تاہم طویل تجارتی جنگ کی صورت میں درآمدی سامان کی لاگت اور بعض اشیا کی قیمتوں میں اضافے کا خطرہ برقرار رہے گا
دونوں ممالک کے درمیان تجارتی مذاکرات پہلے ہی تعطل کا شکار ہیں اور نئی ٹیرف فہرست کے اعلان سے کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔ کاروباری حلقے اب اس بات پر نظر رکھے ہوئے ہیں کہ آیا آنے والے ہفتوں میں مذاکرات دوبارہ شروع ہوتے ہیں یا امریکہ اور کینیڈا مزید جوابی اقدامات کی طرف بڑھتے ہیں

قومی خبریں سے مزید