ریپبلکن پارٹی کی وسط مدتی کانفرنس دراصل ایک ہی شخص کے لیے ہے: ٹرمپ
واشنگٹن: ریپبلکن پارٹی کی جانب سے ستمبر میں منعقد کی جانے والی وسط مدتی انتخابی کانفرنس نے امریکی سیاست میں یہ سوال اٹھا دیا ہے کہ آیا پارٹی اپنی انتخابی مہم کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی شخصیت اور ان کی حکومت کی کارکردگی کے گرد مرکوز کرکے سیاسی فائدہ حاصل کر سکے گی یا اس حکمت عملی سے اسے نقصان پہنچ سکتا ہے
یو ایس اے ٹوڈے کی رائے کے مطابق ریپبلکن نیشنل کمیٹی 9 اور 10 ستمبر کو ڈلاس میں وسط مدتی کانفرنس منعقد کر رہی ہے، جس کا مقصد صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی کامیابیوں کو اجاگر کرنا، ریپبلکن پارٹی اور اس کے امیدواروں کی طاقت دکھانا اور مستقبل کے لیے امریکیوں کو ایک مشترکہ سیاسی تصور کے گرد متحد کرنا ہے
تاہم کہا جارہا ہے کہ یہ حکمت عملی موجودہ سیاسی ماحول سے مطابقت نہیں رکھتی،ٹرمپ کی مقبولیت میں کمی کے باعث ان کی شخصیت کو پارٹی کی انتخابی مہم کا مرکزی محور بنانا ریپبلکن امیدواروں کے لیے فائدے کے بجائے نقصان کا باعث بن سکتا ہے
میڈیا رپورٹس کے مطابق ریپبلکن پارٹی کو وسط مدتی انتخابات میں ایسے ووٹروں کو قائل کرنے کے مشکل مرحلے کا سامنا ہے جو ٹرمپ کی صدارت سے متعلق پہلے ہی اپنی رائے قائم کر چکے ہیں،ایسے میں پوری پارٹی کو ٹرمپ کی کامیابیوں کے گرد پیش کرنا ان امیدواروں کے لیے بھی مشکلات پیدا کر سکتا ہے جو اپنے حلقوں میں مقامی مسائل اور اپنی کارکردگی کو انتخابی مہم کا مرکز بنانا چاہتے ہیں
رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ 9 اور 10 ستمبر کی کانفرنس کا اعلان بظاہر پارٹی کی طاقت اور اتحاد کا مظاہرہ کرنے کے لیے کیا گیا ہے، لیکن اس کے ذریعے ٹرمپ کو وہ قومی سیاسی پلیٹ فارم اور توجہ بھی مل سکتی ہے جس کے وہ خواہاں ہیں،مسئلہ یہ ہے کہ اگر صدر کی مقبولیت کمزور رہتی ہے تو یہی توجہ ریپبلکن پارٹی کے لیے سیاسی نقصان میں تبدیل ہو سکتی ہے
یو ایس اے ٹوڈے کے تجزیے کے مطابق ریپبلکن پارٹی کے لیے اصل چیلنج یہ ہے کہ وہ ٹرمپ کے سیاسی اثر و رسوخ سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ایسے ووٹرز کو بھی اپنے ساتھ کیسے رکھے جو صدر سے ناخوش ہیں،وسط مدتی انتخابات میں یہ توازن پارٹی کی کامیابی یا ناکامی کے لیے اہم ثابت ہو سکتا ہے





