Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

امریکا میں اے آئی ڈیٹا سینٹرز کے خلاف بائیں اور دائیں بازو کے شہری ایک صفحے پر آ گئے

امریکا میں اے آئی ڈیٹا سینٹرز کے خلاف بائیں اور دائیں بازو کے شہری ایک صفحے پر آ گئے

مَرڈاک، نیبراسکا: امریکا میں مصنوعی ذہانت کے لیے بڑے پیمانے پر تعمیر کیے جانے والے ڈیٹا سینٹرز کے خلاف ایک غیر معمولی سیاسی اتحاد ابھر رہا ہے، جہاں قدامت پسند کسان اور ماحولیاتی کارکن ایک ہی خدشات کے باعث ان منصوبوں کی مخالفت کر رہے ہیں
ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق مشرقی نیبراسکا کے دیہی علاقے میں مکئی اور سویا بین کے کھیتوں کے درمیان مصنوعی ذہانت کی بڑھتی ہوئی طلب پوری کرنے کے لیے نئے ڈیٹا سینٹرز قائم کرنے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے،تاہم تقریباً 275 آبادی والے قصبے مَرڈاک میں ان منصوبوں کے خلاف مزاحمت میں تیزی آ رہی ہے
مقامی سطح پر ہونے والی ایک میٹنگ میں قدامت پسند کسانوں اور ریاستی سیئرا کلب کے کارکنوں نے ڈیٹا سینٹرز کی تعمیر کے خلاف اپنے خدشات کا اظہار کیا،یہ منظر اس لحاظ سے غیر معمولی تھا کہ امریکا کی شدید سیاسی تقسیم کے باوجود دائیں اور بائیں بازو کے گروہ ایک ہی مسئلے پر متحد دکھائی دیے
مخالفین کا کہنا ہے کہ بڑے ڈیٹا سینٹرز کے لیے وسیع زمین درکار ہوتی ہے، جس سے زرعی زمین کم ہونے کا خطرہ ہے،اس کے علاوہ ان منصوبوں میں بڑی مقدار میں پانی اور بجلی استعمال ہونے کے باعث مقامی وسائل پر دباؤ بڑھنے اور بجلی کے بلوں میں اضافے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے
مقامی باشندوں کو یہ تشویش بھی ہے کہ بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں چھوٹے امریکی قصبوں کی شکل تبدیل کر سکتی ہیں،ان کے مطابق ہزاروں ایکڑ پر پھیلے یہ بڑے کمپیوٹنگ مراکز دیہی علاقوں کو ملک بھر میں قائم ہونے والے ایک وسیع ڈیجیٹل نیٹ ورک کا حصہ بنا سکتے ہیں، جبکہ مقامی آبادی کو اس کے معاشی فوائد اور نقصانات کے بارے میں ابھی واضح تصویر نہیں دی گئی
ڈیٹا سینٹرز کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ مصنوعی ذہانت کی عالمی دوڑ کے لیے ایسے مراکز ضروری ہیں اور ان سے سرمایہ کاری، تعمیراتی سرگرمی اور روزگار کے مواقع پیدا ہو سکتے ہیں،تاہم مخالفین کا کہنا ہے کہ منصوبوں کی رفتار مقامی آبادی کی صلاحیت اور دستیاب وسائل سے زیادہ تیز ہے
نیبراسکا میں سامنے آنے والی یہ صورتحال اس وسیع تر قومی بحث کی عکاسی کرتی ہے جس میں مصنوعی ذہانت کی ترقی کے لیے درکار بنیادی ڈھانچے اور اس کے مقامی ماحولیاتی، معاشی اور سماجی اثرات کے درمیان توازن پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں

قومی خبریں سے مزید