زکربرگ نے مصنوعی ذہانت کی کھلی تقسیم کی حمایت کرتے ہوئے نیا ماڈل جاری کر دیا
واشنگٹن: میٹا کے سربراہ مارک زکربرگ نے مصنوعی ذہانت کے مستقبل اور اس پر اختیار کے حوالے سے جاری عالمی بحث میں کھلے پن کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ جدید مصنوعی ذہانت کو کسی ایک ملک یا چند بڑی کمپنیوں تک محدود نہیں ہونا چاہیے
کوارٹز کے مطابق زکربرگ نے تقریباً 6,500 الفاظ پر مشتمل ایک مضمون میں مؤقف اختیار کیا کہ اگر کسی ایک ملک یا چند کارپوریشنز کو مصنوعی ذہانت پر غلبہ حاصل ہو گیا تو اس سے جمہوری طرز حکمرانی کمزور ہونے کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے،ان کے مطابق مصنوعی ذہانت کی وسیع پیمانے پر دستیابی اس ٹیکنالوجی کے ارتکاز کو روکنے کا ایک اہم ذریعہ بن سکتی ہے
میٹا نے زکربرگ کے مضمون کے ساتھ میوز گِلِمر نامی ایک نیا کھلا مصنوعی ذہانت ماڈل بھی جاری کیا ہے،رپورٹ کے مطابق تکنیکی مہارت رکھنے والے صارفین اور کمپنیاں اس ماڈل کو اپنی ضرورت کے مطابق تبدیل اور استعمال کر سکیں گی اور اسے اپنے ہارڈویئر پر چلا کر مختلف مصنوعی ذہانت کی خدمات تیار کی جا سکیں گی
زکربرگ کے تصور میں مستقبل کی مصنوعی ذہانت صرف انٹرنیٹ پر موجود بیرونی سرورز تک محدود نہیں ہوگی بلکہ کسی شخص کے اپنے آلے پر بھی چل سکے گی،وہ اسے ذاتی سپر انٹیلیجنس کا تصور قرار دیتے ہیں، جس کے تحت مصنوعی ذہانت صارف کی زندگی، ترجیحات اور ضروریات کو سمجھ کر صحت، پیشہ ورانہ زندگی، مالی معاملات اور ذاتی تعلقات میں بہتری لانے کے لیے فعال کردار ادا کر سکے گی
اس تصور کا ایک اہم پہلو نجی معلومات کا تحفظ ہے،زکربرگ کے مطابق اگر مصنوعی ذہانت صارف کے اپنے آلے پر کام کرے تو حساس ذاتی معلومات کو بیرونی کمپنیوں کے سرورز تک منتقل کرنے کی ضرورت کم ہو سکتی ہے
مصنوعی ذہانت کی حکومتی نگرانی کے حوالے سے زکربرگ نے واشنگٹن اور ٹیکنالوجی کی صنعت کے درمیان شراکت داری کی حمایت کی ہے،ان کے مطابق حکومت اور صنعت کو مل کر مصنوعی ذہانت کے ماڈلز کی حفاظت اور خطرات کا جائزہ لینے کے لیے مؤثر نظام تیار کرنا چاہیے
زکربرگ نے اس کے ساتھ خبردار کیا کہ اگر امریکی مصنوعی ذہانت کی ترقی پر ضرورت سے زیادہ ضابطے عائد کیے گئے تو اس سے امریکا کی ٹیکنالوجی کی پیش رفت متاثر ہو سکتی ہے،ان کا مؤقف ہے کہ مصنوعی ذہانت کے فوائد کو عام کرنے اور اس کے خطرات کو محدود کرنے کے لیے ایسا راستہ اختیار کیا جانا چاہیے جو جدت کو روکے بغیر حفاظت اور ذمہ داری کو یقینی بنائے





