ایک ناکام منصوبہ دنیا کی سب سے بڑی توانائی کی ضرورت پوری کرنے میں مددگار کیسے بن سکتا ہے
لنچ برگ، ورجینیا: ورجینیا کی پہاڑیوں میں تقریباً ایک دہائی سے غیر استعمال شدہ پڑا ایک جوہری توانائی کا منصوبہ اب مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے دور میں امریکہ کے سب سے بڑے توانائی کے مسائل میں سے ایک کا ممکنہ حل بن کر دوبارہ سامنے آیا ہے،واشنگٹن پوسٹ کے مطابق 400 ملین ڈالر کی لاگت سے تیار کیا گیا یہ منصوبہ کبھی ناکام ہو کر تقریباً ترک کر دیا گیا تھا، لیکن اب اسے دوبارہ زندہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے
لنچ برگ میں قائم یہ تقریباً 120 فٹ بلند تنصیب ایک حقیقی جوہری بجلی گھر نہیں بلکہ ایسا تجرباتی مرکز ہے جسے جوہری بجلی گھر کی نقل کے طور پر بنایا گیا تھا،اسے بجلی سے چلایا جاتا ہے تاکہ انجینئرز حقیقی جوہری ری ایکٹر کے خطرات کے بغیر مختلف ٹیکنالوجیز کی جانچ اور تجربات کر سکیں
یہ منصوبہ 2009 میں شروع ہوا تھا لیکن 2017 میں اس پر کام روک دیا گیا،اس وقت سستی قدرتی گیس، جوہری توانائی کے منصوبوں کی بلند لاگت اور 2011 کے فوکوشیما جوہری حادثے کے بعد نئی جوہری تنصیبات میں سرمایہ کاری کے حوالے سے بڑھتی ہوئی ہچکچاہٹ نے اس منصوبے کے مستقبل کو شدید متاثر کیا
اب صورتحال یکسر بدل چکی ہے،مصنوعی ذہانت کے پھیلاؤ کے ساتھ امریکہ بھر میں بڑے پیمانے پر ڈیٹا سینٹرز تعمیر ہو رہے ہیں، جنہیں مسلسل اور قابلِ اعتماد بجلی کی بہت بڑی مقدار درکار ہے،یہی بڑھتی ہوئی طلب اس پرانے جوہری منصوبے کو دوبارہ اہم بنا رہی ہے
ایٹمی توانائی کے شعبے سے وابستہ ایک نئی کمپنی، اپلائیڈ اٹومکس، نے بی ڈبلیو ایکس ٹی کے ساتھ مل کر پرانے منصوبے کو دوبارہ زندہ کرنے کا کام شروع کیا ہے،اس منصوبے کا مقصد چھوٹے اور نسبتاً لچک دار جوہری ری ایکٹر تیار کرنا ہے جو ڈیٹا سینٹرز اور صنعتی مراکز کو مسلسل بجلی فراہم کر سکیں
اس منصوبے کے تحت تیار کیے جانے والے ایم پاور ری ایکٹر کی متوقع پیداواری صلاحیت تقریباً 195 میگاواٹ ہے،کمپنی کے مطابق ایک ایسا ری ایکٹر تقریباً 155,000 گھروں کی بجلی کی ضروریات پوری کرنے کے برابر بجلی پیدا کر سکتا ہے، جبکہ یہی صلاحیت بڑے صنعتی صارفین اور ڈیٹا سینٹرز کے لیے بھی استعمال کی جا سکتی ہے
اس کوشش میں ایک دلچسپ پہلو یہ بھی ہے کہ اس منصوبے سے وابستہ انجینئرز میں ایسے ماہرین شامل ہیں جن کا سابقہ تجربہ اسپیس ایکس میں رہا ہے،ان کا خیال ہے کہ جوہری توانائی کی ٹیکنالوجی کو تیز رفتاری سے تیار کر کے مصنوعی ذہانت کے لیے درکار توانائی کی بڑھتی ہوئی طلب پوری کی جا سکتی ہے
مصنوعی ذہانت کی صنعت میں ڈیٹا سینٹرز کی بجلی کی ضرورت تیزی سے بڑھ رہی ہے،ٹیکنالوجی کمپنیاں ایسے توانائی کے ذرائع تلاش کر رہی ہیں جو 24 گھنٹے مسلسل بجلی فراہم کر سکیں،شمسی اور ہوا سے حاصل ہونے والی بجلی کے برعکس جوہری توانائی موسم اور دن رات کے چکر سے براہ راست متاثر نہیں ہوتی، اسی لیے اسے بڑے ڈیٹا سینٹرز کے لیے ایک پرکشش متبادل سمجھا جا رہا ہے
تاہم ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ پرانے منصوبے کو دوبارہ زندہ کرنا آسان نہیں ہوگا،جوہری توانائی کے منصوبوں کو اب بھی تعمیراتی اخراجات، حفاظتی تقاضوں، سرکاری منظوریوں اور ضابطہ جاتی رکاوٹوں کا سامنا ہے،امریکہ میں اس سے پہلے بھی جوہری توانائی کی بحالی کی متعدد کوششیں کی جا چکی ہیں جو لاگت اور ضابطہ جاتی مسائل کے باعث مشکلات سے دوچار ہوئیں
اس کے باوجود ایم پاور منصوبے کی واپسی اس بدلتی ہوئی توانائی کی دنیا کی علامت ہے جس میں مصنوعی ذہانت نے بجلی کی طلب کو غیر معمولی رفتار سے بڑھا دیا ہے۔ ایک ایسا منصوبہ جسے کبھی بدلتی ہوئی توانائی کی معیشت نے ناکام بنا دیا تھا، اب ممکنہ طور پر اسی نئی توانائی کی دوڑ میں دوبارہ زندگی حاصل کر رہا ہے





