جس ویکسین کو لوگ عام بیماری سے بچاؤ کے لیے لگوا رہے ہیں، وہ ڈیمنشیا کے خطرے کو بھی کم کر سکتی ہے
لندن: ڈیمنشیا کے خلاف جنگ میں سائنس دانوں کو ایک غیر متوقع امید ملی ہے،ایک ایسی ویکسین جو برسوں سے ایک عام وائرل بیماری سے بچاؤ کے لیے استعمال ہو رہی ہے، ممکنہ طور پر بڑھاپے میں ڈیمنشیا کے خطرے کو نمایاں حد تک کم کر سکتی ہے
بی بی سی سائنس فوکس کی ایک تازہ رپورٹ کے مطابق شنگلز سے بچاؤ کی ویکسین پر ہونے والی تحقیق نے سائنس دانوں کی توجہ اس جانب مبذول کرائی ہے کہ بعض ویکسینز کا فائدہ اس بیماری سے کہیں آگے بھی ہو سکتا ہے جس کے خلاف انہیں تیار کیا گیا ہے
اس سلسلے میں سب سے اہم شواہد ویلز میں سامنے آئے، جہاں 2013 میں 70 سال کی عمر کے افراد کو شنگلز کی ویکسین دینے کا ایک قومی پروگرام شروع کیا گیا،ویکسین کی اہلیت ایک مخصوص عمر کی تاریخ سے منسلک تھی، جس نے محققین کو ایک قدرتی تجربے کا موقع فراہم کیا،2025 میں 280,000 سے زیادہ افراد کے اعداد و شمار کے تجزیے سے معلوم ہوا کہ جن لوگوں کو ویکسین لینے کی پیشکش کی گئی تھی، ان میں ڈیمنشیا لاحق ہونے کا امکان تقریباً 20 فیصد کم تھا
محققین کے مطابق یہ نتیجہ خاص طور پر اہم ہے کیونکہ ڈیمنشیا کے خطرے میں 20 فیصد کمی ایک بڑی پیش رفت سمجھی جاتی ہے،بعد کی تحقیق نے یہ اشارہ بھی دیا کہ شنگلز کی ویکسین ان افراد میں بیماری کے بڑھنے کی رفتار کم کرنے میں مدد دے سکتی ہے جنہیں پہلے ہی ڈیمنشیا لاحق ہو چکا ہے، اگرچہ اس حوالے سے مزید مضبوط طبی شواہد درکار ہیں
دلچسپ بات یہ ہے کہ شنگلز کی ویکسین واحد ویکسین نہیں جس کا تعلق ڈیمنشیا کے کم خطرے سے سامنے آیا ہے،تحقیق میں فلو، تپِ دق کے خلاف بی سی جی، کالی کھانسی، تشنج اور سانس کی ایک بیماری آر ایس وی کے خلاف ویکسینز بھی ممکنہ حفاظتی اثرات سے منسلک کی گئی ہیں،ایک 2023 کے تجزیے میں فلو کی ویکسین لگوانے والے بزرگ افراد میں ڈیمنشیا کا خطرہ 31 فیصد کم پایا گیا
سائنس دانوں کا خیال ہے کہ اس کا ایک ممکنہ سبب مدافعتی نظام میں پیدا ہونے والی ایسی تبدیلیاں ہو سکتی ہیں جو صرف متعلقہ وائرس یا جراثیم کے خلاف دفاع تک محدود نہیں رہتیں،ویکسین مدافعتی نظام کو اس انداز میں تربیت دے سکتی ہے کہ وہ جسم میں عمومی سوزش کو قابو کرنے اور مستقبل میں مختلف خطرات کے خلاف بہتر ردعمل دینے کے قابل ہو جائے
یہ نظریہ اس نئی سائنسی سوچ سے بھی مطابقت رکھتا ہے جس میں الزائمر اور ڈیمنشیا کو صرف دماغ میں زہریلے پروٹین جمع ہونے کا نتیجہ نہیں سمجھا جا رہا بلکہ دماغی سوزش، انفیکشن اور مدافعتی نظام کے کردار پر بھی توجہ دی جا رہی ہے،بعض محققین کا خیال ہے کہ ہرپس وائرس، جس میں شنگلز پیدا کرنے والا وائرس بھی شامل ہے، دماغی بیماری کے عمل میں پہلے سمجھے جانے سے زیادہ اہم کردار ادا کر سکتا ہے،تاہم یہ ابھی ثابت نہیں ہوا کہ کوئی ایک وائرس الزائمر کا بنیادی سبب ہے
دوسری جانب سائنس دان ایک ایسی نئی نسل کی ویکسینز بھی تیار کر رہے ہیں جو براہِ راست الزائمر سے وابستہ نقصان دہ پروٹینز، خصوصاً ٹاؤ اور بیٹا امائلائڈ، کو نشانہ بنائیں گی،کچھ تجرباتی ویکسینز جانوروں میں حوصلہ افزا نتائج دے چکی ہیں اور آئندہ برسوں میں انسانوں پر ابتدائی تجربات متوقع ہیں،ماضی میں الزائمر کی ویکسین بنانے کی کوششوں کو سنگین ناکامیوں کا سامنا بھی کرنا پڑا ہے، اس لیے ماہرین احتیاط پر زور دے رہے ہیں
ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ شواہد کو یہ سمجھنے کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے کہ شنگلز یا فلو کی ویکسین یقینی طور پر ڈیمنشیا کو روک دیتی ہے،تاہم مختلف ملکوں کے اعداد و شمار میں بار بار سامنے آنے والے نتائج نے اس امکان کو ضرور مضبوط کیا ہے کہ عام ویکسینز دماغ کو عمر بڑھنے کے ساتھ ہونے والی بعض بیماریوں سے غیر متوقع تحفظ فراہم کر سکتی ہیں
یوں ڈیمنشیا کے خلاف ممکنہ ہتھیار شاید کسی نئی اور مہنگی دوا کی شکل میں نہیں بلکہ ایک ایسی ویکسین کی صورت میں پہلے ہی لاکھوں لوگوں کے بازو میں موجود ہو جسے وہ کسی اور بیماری سے بچنے کے لیے لگوا چکے ہیں





