امریکہ بھر میں پولیس کے نگرانی کیمروں کے خلاف مزاحمت، شہری کیمرے ڈھانپنے اور اتارنے لگے

امریکہ بھر میں پولیس کے نگرانی کیمروں کے خلاف مزاحمت، شہری کیمرے ڈھانپنے اور اتارنے لگے

امریکہ کی متعدد ریاستوں میں پولیس کی جانب سے استعمال کیے جانے والے خودکار نمبر پلیٹ نگرانی کیمروں کے خلاف شہری مزاحمت میں اضافہ ہو گیا ہے,مختلف علاقوں میں شہری ان کیمروں کو ڈھانپنے، ناکارہ بنانے، اتارنے اور بعض صورتوں میں نقصان پہنچانے کی کارروائیوں میں ملوث ہو رہے ہیں
یہ کیمرے سڑکوں سے گزرنے والی گاڑیوں کی نمبر پلیٹیں ریکارڈ کرتے ہیں اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ان معلومات کو گاڑیوں کی نقل و حرکت کا سراغ لگانے، مشتبہ گاڑیوں کی شناخت اور جرائم کی تحقیقات میں استعمال کرتے ہیں
ریاست مینیسوٹا کے شہر کرسٹل میں ایک شہری نے اپنے گھر کے قریب نصب ایسے کیمرے کے خلاف منفرد احتجاج شروع کر رکھا ہے،وہ ہفتے میں کئی مرتبہ ایک لمبا دھاتی ڈنڈا لے کر سڑک کے مصروف چوراہے تک جاتا ہے، جس کے سرے پر ایک بڑا نشان لگا ہوتا ہے، اور اسے کیمرے کے سامنے اٹھا کر اس کی نظر روک دیتا ہے
اس شہری کا کہنا ہے کہ وہ اپنے ٹیکس کے ذریعے اپنے ہی محلے میں ہونے والی نگرانی کے اخراجات برداشت نہیں کرنا چاہتا،اس کے مطابق کسی شہری کو یہ احساس نہیں ہونا چاہیے کہ اس کے گھر کے باہر نصب کیمرے اس کی نقل و حرکت پر نظر رکھ رہے ہیں
ملک کے مختلف حصوں میں اس نوعیت کے احتجاج اور مزاحمت کے واقعات میں اضافے نے پولیس نگرانی کی ٹیکنالوجی کے استعمال پر نئی بحث چھیڑ دی ہے،بعض شہری تنظیمیں اور رازداری کے حامی حلقے ان کیمروں کو شہری آزادیوں اور ذاتی رازداری کے لیے خطرہ قرار دے رہے ہیں
دوسری جانب قانون نافذ کرنے والے ادارے ایسے کیمروں کو جرائم کی تحقیقات اور عوامی تحفظ کے لیے اہم قرار دیتے ہیں،ان کے ذریعے چوری شدہ گاڑیوں، مشتبہ گاڑیوں اور جرائم میں استعمال ہونے والی گاڑیوں کا سراغ لگانے میں مدد ملتی ہے
تاہم کیمروں کی تعداد میں اضافے اور ان کے ذریعے گاڑیوں کی نقل و حرکت کے ریکارڈ جمع کیے جانے پر بڑھتی ہوئی عوامی تشویش نے امریکہ میں پولیس کے اختیارات، شہری رازداری اور جدید نگرانی کی ٹیکنالوجی کے استعمال کے درمیان توازن کے سوال کو مزید نمایاں کر دیا ہے

قومی خبریں سے مزید