Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

نئے دفاعی قانون پر حکومت اور پی ٹی آئی آمنے سامنے، بیرسٹر گوہر بولے: پاکستان اور پاک فوج ہماری ہے، قانون سازی پارلیمان میں لا کر بحث کی جائے

نئے دفاعی قانون پر حکومت اور پی ٹی آئی آمنے سامنے، بیرسٹر گوہر بولے: پاکستان اور پاک فوج ہماری ہے، قانون سازی پارلیمان میں لا کر بحث کی جائے

اسلام آباد: وفاقی کابینہ کی جانب سے نئے دفاعی قانون کے مسودے کی منظوری کے بعد پاکستان کی پارلیمان میں اہم قانون سازی کا مرحلہ شروع ہوگیا ہے،حکومت کی جانب سے تیار کیے جانے والے ’’ڈیفنس فورسز ایکٹ 2026‘‘ کا مقصد 27ویں آئینی ترمیم کے بعد تشکیل پانے والے نئے دفاعی کمانڈ ڈھانچے کو قانونی بنیاد فراہم کرنا بتایا جا رہا ہے
پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے اسلام آباد میں پارلیمانی راہداری میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تحریک انصاف نے کبھی دفاعی افواج سے متعلق قوانین کو متنازع نہیں بنایا اور وہ نہیں چاہتی کہ پاکستان کا دفاع کمزور ہو
بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ ’’ڈیفنس فورسز ایکٹ‘‘ کا معاملہ تکنیکی نوعیت کا ہے، تاہم حکومت نے اس معاملے پر تحریک انصاف سے کوئی بات نہیں کی،ان کے مطابق قانون سازی ایسی ہونی چاہیے کہ اس کا مسودہ پہلے پارلیمان کے سامنے رکھا جائے، ارکان کو اس کا جائزہ لینے اور بحث کرنے کا موقع دیا جائے اور ایکٹ میں شامل کی جانے والی تمام شقیں عوام اور پارلیمان کے سامنے واضح ہوں
انہوں نے کہا کہ عوام کو بھی معلوم نہیں کہ کس نوعیت کی قانون سازی کی جا رہی ہے،ان کا کہنا تھا کہ پاکستان ہمارا ہے اور پاک فوج ہماری ہے، اس لیے دفاعی معاملات پر اختلاف کو ملکی دفاع کے خلاف قرار نہیں دیا جانا چاہیے
حالیہ پیش رفت کا پس منظر 2025 کی 27ویں آئینی ترمیم ہے، جس کے بعد ملک کے دفاعی کمانڈ نظام میں بڑی تبدیلیاں کی گئیں،آرمی چیف کو چیف آف ڈیفنس فورسز کا اضافی منصب دیا گیا جبکہ چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کا عہدہ ختم کردیا گیا،اس کے بعد آرمی، فضائیہ اور بحریہ سے متعلق قوانین میں بھی ترامیم کی گئیں
اب حکومت ’’ڈیفنس فورسز ایکٹ 2026‘‘ کے ذریعے اس نئے دفاعی کمانڈ نظام کو مزید قانونی اور انتظامی بنیاد فراہم کرنا چاہتی ہے،دستیاب معلومات کے مطابق مسودے میں چیف آف ڈیفنس فورسز اور اس سے متعلق ہیڈکوارٹر کے انتظامی ڈھانچے کو قانونی حیثیت دینے کی کوشش کی گئی ہے،کابینہ نے نیشنل کمانڈ اتھارٹی ایکٹ 2010 میں ترامیم کی بھی منظوری دی ہے
تاہم اس مرحلے پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ نیا قانون لازماً آرمی چیف یا چیف آف ڈیفنس فورسز کو مزید وسیع اختیارات دینے کے لیے لایا جا رہا ہے،اس کی حتمی نوعیت کا تعین پارلیمان میں پیش کیے جانے والے مکمل بل کی شقوں سے ہوگا
حکومت کے نقطۂ نظر سے نئے قانون کا مقصد دفاعی اداروں کے درمیان کمانڈ اور انتظامی معاملات کو واضح اور مربوط بنانا ہے، جبکہ اپوزیشن کا بنیادی مطالبہ یہ ہے کہ قانون سازی شفاف طریقے سے پارلیمان میں لائی جائے اور اس پر کھلی بحث کی جائے
یوں موجودہ معاملہ محض فوج کو اختیارات دینے یا نہ دینے کا نہیں بلکہ 27ویں آئینی ترمیم کے بعد تشکیل پانے والے نئے دفاعی کمانڈ نظام کو مستقل قانونی اور انتظامی ڈھانچہ فراہم کرنے کا اگلا مرحلہ بھی ہے،اصل سیاسی اور آئینی بحث اس وقت سامنے آئے گی جب ’’ڈیفنس فورسز ایکٹ 2026‘‘ کا مکمل متن پارلیمان کے سامنے پیش ہوگا

قومی خبریں سے مزید