ہنٹر بائیڈن کی اچانک میڈیا مہم کے پیچھے کیا ہے، خاموشی توڑ کر ٹرمپ کے حامیوں تک پہنچنے کی حکمت عملی یا اپنی ساکھ کی بحالی؟
واشنگٹن: سابق صدر جو بائیڈن کے بیٹے ہنٹر بائیڈن نے کئی برس تک شدید سیاسی اور قانونی تنازعات کے بعد اچانک امریکی میڈیا میں بھرپور واپسی اختیار کرلی ہے،وہ پوڈکاسٹس، ٹیلی وژن پروگراموں اور سماجی ذرائع ابلاغ پر مسلسل انٹرویوز دے رہے ہیں، حتیٰ کہ ایسے قدامت پسند اور دائیں بازو کے میزبانوں کے پروگراموں میں بھی جا رہے ہیں جو ماضی میں ان کے اور ان کے خاندان کے سخت ناقد رہے ہیں،حالیہ دنوں میں ان کا ٹکر کارلسن کے ساتھ انٹرویو بھی خاصی توجہ حاصل کر چکا ہے
ہنٹر بائیڈن کے اس غیر معمولی میڈیا حملے کی ایک بڑی وجہ اپنی کہانی خود بیان کرنا دکھائی دیتی ہے،وہ اپنی نشے کی لت، بحالی، خاندان کے اندرونی معاملات، اپنے والد کی سیاسی زندگی اور ان کے خلاف برسوں سے جاری الزامات پر کھل کر بات کر رہے ہیں،وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق ہنٹر کا مؤقف ہے کہ وہ ان برسوں کے عوامی حملوں، ذاتی معلومات کے افشا اور اپنے خلاف بننے والی کہانی کا جواب اپنی زبان میں دینا چاہتے ہیں،ان کا سب اسٹیک پلیٹ فارم بھی اب 65 ہزار سے زیادہ صارفین حاصل کر چکا ہے
لیکن اس مہم کا ایک سیاسی پہلو بھی واضح ہے،ہنٹر نے روایتی ذرائع ابلاغ کے بجائے پوڈکاسٹس، یوٹیوب اور آزاد ڈیجیٹل پلیٹ فارموں کو ترجیح دی ہے، جہاں دائیں بازو کے سامعین کی بڑی تعداد موجود ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ ایک شعوری حکمت عملی معلوم ہوتی ہے، کیونکہ ہنٹر ان لوگوں تک براہ راست پہنچ رہے ہیں جو برسوں سے ان کے بارے میں یک طرفہ یا مخالفانہ بیانیہ سنتے رہے ہیں
ان کا انداز بھی ماضی کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ جارحانہ ہے،ہنٹر اپنے والد کے ناقدین، ڈونلڈ ٹرمپ کے خاندان، سابق اٹارنی جنرل میرک گارلینڈ اور دیگر سیاسی شخصیات پر کھل کر تنقید کر رہے ہیں، جبکہ اپنے متنازع صدارتی معافی نامے کا بھی دفاع کرتے ہیں،اس طرح وہ محض اپنی صفائی پیش نہیں کر رہے بلکہ اپنے لیے ایک نئی عوامی شخصیت بنانے کی کوشش بھی کرتے دکھائی دیتے ہیں
اس مہم کا دوسرا اہم پہلو مالی اور پیشہ ورانہ بھی ہو سکتا ہے،ہنٹر کو ماضی میں بھاری قانونی اخراجات اور مالی مشکلات کا سامنا رہا ہے، جبکہ ان کی کتاب اور دیگر آمدنی کے ذرائع توقع کے مطابق کامیاب نہیں ہوئے،اب وہ اپنی ذاتی شناخت کو ایک میڈیا شخصیت، مصنف اور فنکار کے طور پر دوبارہ قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں
تاہم اس واپسی نے ڈیموکریٹک حلقوں میں بھی بے چینی پیدا کی ہے،بعض ڈیموکریٹک حکمت عملی سازوں کا خیال ہے کہ ہنٹر کی ماضی کی قانونی مشکلات اور تنازعات دوبارہ خبروں کا مرکز بننے سے پارٹی کو سیاسی فائدے کے بجائے نقصان پہنچ سکتا ہے،دوسری طرف ہنٹر کے حامیوں کا کہنا ہے کہ وہ اپنی زندگی کے انتہائی مشکل دور کو چھپانے کے بجائے کھل کر بیان کر کے نہ صرف اپنی ساکھ بحال کر رہے ہیں بلکہ نشے سے نجات کی جدوجہد کرنے والے لوگوں کے لیے بھی اپنی کہانی استعمال کر رہے ہیں
دلچسپ بات یہ ہے کہ ان کے بڑھتے ہوئے میڈیا کردار نے مستقبل میں سیاسی عزائم کی قیاس آرائیوں کو بھی جنم دیا ہے،تاہم ہنٹر خود کہہ چکے ہیں کہ انہیں منتخب سیاسی عہدے میں کوئی دلچسپی نہیں،ان کی موجودہ حکمت عملی زیادہ تر اپنی آواز واپس حاصل کرنے، اپنے بارے میں موجود بیانیے کو چیلنج کرنے اور براہ راست عوام تک پہنچنے پر مرکوز نظر آتی ہے
یوں ہنٹر بائیڈن کی موجودہ میڈیا مہم کو صرف تشہیری سرگرمی قرار دینا شاید درست نہیں ہوگا،یہ بیک وقت ذاتی ساکھ کی بحالی، اپنے خلاف برسوں کے سیاسی حملوں کا جواب، مالی اور پیشہ ورانہ دوبارہ آغاز اور روایتی میڈیا سے باہر اپنی مستقل عوامی شناخت بنانے کی کوشش دکھائی دیتی ہے،سب سے غیر معمولی پہلو یہ ہے کہ وہ یہ کام اپنے روایتی سیاسی حلقے سے باہر، حتیٰ کہ اپنے مخالفین کے میڈیا پلیٹ فارموں پر جا کر کر رہے ہیں





