سابق صوبائی وزیر کی سابق اہلیہ نے مقدمے کے اندراج کی درخواست پر اعتراضات جمع کرا دیے
سندھ کے سابق صوبائی وزیر غلام رسول انڑ کی جانب سے اپنی سابق اہلیہ راضیہ ارباب کے خلاف سائبر جرائم کے قانون کے تحت مقدمہ درج کرنے کی درخواست پر کراچی کی عدالت میں اہم پیش رفت ہوئی ہے
غلام رسول انڑ نے سیشن عدالت سے رجوع کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا تھا کہ ان کی سابق اہلیہ نے شادی سے قبل اپنی تصاویر میں مصنوعی ذہانت اور مختلف فلٹرز کے ذریعے تبدیلیاں کیں اور انہیں گمراہ کیا۔ انہوں نے عدالت سے پولیس کو مقدمہ درج کرنے کی ہدایت دینے کی استدعا کی تھی
پیر کے روز راضیہ ارباب نے اپنے وکیل کے ذریعے درخواست پر تحریری اعتراضات ضلع و سیشن جج جنوبی محمد اسلم شیخ کی عدالت میں جمع کرا دیے۔ انہوں نے سابق شوہر کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ درخواست ذاتی رنجش کی بنیاد پر دائر کی گئی ہے
راضیہ ارباب نے اپنے جواب میں الزام عائد کیا کہ سابق شوہر نے اپنے سیاسی اثر و رسوخ کو استعمال کرتے ہوئے انہیں ہراساں کرنے کی کوشش کی۔ ان کا کہنا تھا کہ شادی سے قبل لی گئی تصاویر کے حوالے سے سابق شوہر کی جانب سے عائد کیے گئے الزامات بے بنیاد ہیں
انہوں نے عدالت کو یہ بھی بتایا کہ انہوں نے اپنے سابق شوہر کے خلاف حیدرآباد کی مقامی عدالت میں الگ مقدمہ دائر کر رکھا ہے، جس میں ایک کروڑ روپے کی رقم، نکاح نامے میں درج 50 ایکڑ زرعی زمین اور ماہانہ ایک لاکھ روپے نان و نفقے کی وصولی کا مطالبہ کیا گیا ہے
عدالت میں راضیہ ارباب کے تحریری اعتراضات جمع ہونے کے بعد غلام رسول انڑ کے وکیل نے جواب داخل کرنے کے لیے مزید مہلت طلب کی، جسے عدالت نے منظور کر لیا۔ عدالت نے آئندہ سماعت 29 اگست تک ملتوی کر دی ہے۔





