بھٹو کی قومیانے کی پالیسی نہیں، ریاستی اختیار کی تقسیم پاکستان کی معاشی جمود کی بڑی وجہ بنی

بھٹو کی قومیانے کی پالیسی نہیں، ریاستی اختیار کی تقسیم پاکستان کی معاشی جمود کی بڑی وجہ بنی

ذوالفقار علی بھٹو کا قومیانے کا پروگرام پاکستان کی معاشی سمت پر ہونے والی بحث میں آج بھی اہم حوالہ سمجھا جاتا ہے۔ ایک محدود حلقہ اسے صنعتی ترقی اور دولت کی منصفانہ تقسیم کے لیے ریاستی سطح پر کی جانے والی سب سے نمایاں کوشش قرار دیتا ہے، جبکہ اس کے ناقدین کا مؤقف ہے کہ قومیانے کی پالیسی نے نجی شعبے کی قیادت میں ہونے والی معاشی ترقی کو شدید نقصان پہنچایا اور ملک کے سرمایہ دار طبقے کو طویل عرصے تک کمزور کر دیا
تاہم پاکستان کی موجودہ معاشی مشکلات کو صرف قومیانے کی پالیسی سے جوڑنا تصویر کا مکمل رخ پیش نہیں کرتا۔ قومیانے کی پالیسی اپنے دور کے عالمی رجحانات سے الگ نہیں تھی۔ 1960 اور 1970 کی دہائیوں میں ترقی پذیر اور ترقی یافتہ دنیا کے کئی ممالک میں ریاست نے صنعت، بینکاری اور دیگر اہم شعبوں میں اپنا کردار بڑھایا۔ بعد کے عشروں میں کئی ممالک نے بڑے سرکاری شعبے کے باوجود بلند معاشی شرح نمو حاصل کی، جبکہ بعض نے جزوی یا مکمل نجکاری کے ذریعے بھی معاشی سرگرمی کو وسعت دی
اس تناظر میں ایک اہم سوال یہ ہے کہ بھارت میں قومیانے کا دائرہ پاکستان کے مقابلے میں زیادہ وسیع ہونے کے باوجود وہاں کا سرمایہ دار طبقہ طویل مدت کے لیے کیوں تباہ نہیں ہوا۔ کئی دہائیوں بعد بھارت میں نجی سرمایہ کاری اور سرمایہ جمع کرنے کی صلاحیت میں نمایاں اضافہ ہوا اور معیشت نے نسبتاً بلند شرح نمو بھی حاصل کی
اس لیے پاکستان کی معاشی تاریخ کو صرف قومیانے کے ایک فیصلے تک محدود کرنا درست نہیں۔ 1990 کی دہائی میں معاشی رفتار کم ہونے، 2000 کی ابتدائی دہائی میں محدود بحالی اور 2005 کے بعد طویل عرصے تک جاری رہنے والے معاشی جمود کی وجوہات کو ریاستی اداروں، سیاسی معیشت اور مختلف بااثر طبقات کے درمیان وسائل کی تقسیم کے وسیع تر نظام میں تلاش کرنا ہوگا
پاکستان میں وقت کے ساتھ سرمایہ دار طبقہ بھی ایک متحد گروہ نہیں رہا بلکہ مختلف حصوں میں تقسیم ہوتا گیا۔ چھوٹے اور درمیانے درجے کے سرمایہ کاروں، بڑے کسانوں، درآمد کنندگان، تاجروں، سرکاری افسران اور دیگر بااثر طبقات نے ریاستی وسائل اور پالیسیوں پر اپنے اپنے مفادات کے مطابق اثرانداز ہونے کی کوشش کی
اس صورتحال میں ریاستی وسائل تک رسائی کے لیے مقابلہ بڑھتا گیا مختلف گروہوں نے مراعات، سبسڈی، تحفظ، ٹیکس میں سہولت اور دیگر فوائد حاصل کرنے کے لیے سیاسی اثر و رسوخ استعمال کیا نتیجتاً ریاست کسی ایک واضح معاشی سمت پر مسلسل توجہ دینے کے بجائے مختلف طاقتور گروہوں کے مطالبات کے درمیان توازن قائم کرنے میں مصروف رہی
اس عمل نے ریاستی اختیار کو بھی مختلف سطحوں پر تقسیم کیا جب اختیار مختلف اداروں اور گروہوں میں بٹ جائے اور ہر بااثر طبقہ اپنے لیے مخصوص فوائد حاصل کرنے کی کوشش کرے تو معاشی پالیسی کا مقصد پیداوار اور سرمایہ کاری میں اضافہ کرنے کے بجائے مراعات کی تقسیم بن سکتا ہے۔ ایسی صورتحال میں وسائل ان شعبوں میں جانے کے بجائے جہاں معاشی پیداوار بڑھ سکتی ہے، ان گروہوں کی طرف منتقل ہونے لگتے ہیں جو سیاسی اثر و رسوخ رکھتے ہیں
اس حوالے سے بھٹو دور کی ایک اور پالیسی زیادہ اہم دکھائی دیتی ہے۔ قومیانے کے بجائے سول سروس میں ہونے والی اصلاحات نے ریاستی ڈھانچے کو مختلف سماجی اور سیاسی دباؤ کے لیے زیادہ کھول دیا۔ مرکزی ریاستی خدمات کا پہلے والا نسبتاً محدود اور الگ تھلگ کردار کم ہوا، جبکہ مختلف سطحوں پر اختیارات میں اضافہ اور تقسیم ہوئی
بعد کے ادوار میں قومیانے کی پالیسی میں مختلف شعبوں میں کمی آتی رہی اور نجی شعبے کو دوبارہ زیادہ جگہ ملتی گئی، لیکن ریاستی اختیار کو مختلف بااثر طبقات کے لیے مالی فوائد اور مراعات پیدا کرنے کے لیے استعمال کرنے کا رجحان ختم نہیں ہوا۔ مختلف حکومتوں کے دوران یہ عمل مختلف شکلوں میں جاری رہا
پاکستان کے معاشی مسائل میں آبادی، سماجی تبدیلی اور معاشرے میں نئے بااثر گروہوں کے ابھرنے کا کردار بھی اہم ہےجیسے جیسے معاشرہ تبدیل ہوا، ریاستی وسائل اور سیاسی اختیار پر دعویٰ کرنے والے نئے گروہ سامنے آتے گئے۔ 1970 کی دہائی میں یہ عمل اس دور میں پیدا ہونے والے سماجی دباؤ کا ایک نتیجہ تھا، جبکہ بعد کے برسوں میں مختلف سیاسی حکومتوں نے طاقتور طبقات کے درمیان کشمکش کو قابو میں رکھنے کے لیے مراعات کی تقسیم کو ایک اہم ذریعہ کے طور پر استعمال کیا
یہ مسئلہ صرف جمہوری ادوار تک محدود نہیں رہا۔ غیر جمہوری حکومتیں بھی اس دباؤ سے مکمل طور پر محفوظ نہیں رہیں۔ بعض اوقات ریاستی اداروں کے اندر موجود مختلف گروہوں اور افسران کو بھی مراعات دی گئیں تاکہ اندرونی حمایت برقرار رکھی جا سکےاس طرح ریاستی وسائل کی تقسیم کا عمل معاشی ترقی کے بجائے سیاسی اور ادارہ جاتی حمایت حاصل کرنے کا ذریعہ بن سکتا ہے
یہ پہلو ان لوگوں کے لیے خاص طور پر اہم ہے جو یہ سمجھتے ہیں کہ مضبوط حکومتی حکم کے ذریعے پاکستان میں تیز معاشی ترقی حاصل کی جا سکتی ہے۔ دنیا میں بعض غیر جمہوری حکومتوں نے واقعی بلند شرح نمو حاصل کی، لیکن ان میں سے کئی حکومتیں یا تو انقلابی تبدیلی کے نتیجے میں وجود میں آئیں یا پھر ان کے ریاستی ادارے اتنے مضبوط، خودمختار اور منظم تھے کہ وہ ضرورت پڑنے پر مراعات حاصل کرنے والے گروہوں کو قابو میں رکھ سکتے تھے
پاکستان کی موجودہ صورتحال ان دونوں صورتوں سے مختلف ہے یہاں نہ ایسا انقلابی سماجی ڈھانچہ موجود ہے جس سے ایک بالکل نیا معاشی نظام تشکیل پائے اور نہ ریاستی اختیار اس حد تک خودمختار اور مضبوط ہے کہ تمام بااثر گروہوں کے مفادات کو منظم انداز میں قابو میں رکھ سکے
چنانچہ پاکستان کی کمزور معاشی شرح نمو اور مسلسل غربت کو صرف بھٹو کی قومیانے کی پالیسی کا نتیجہ قرار دینا مسئلے کو بہت محدود کرکے دیکھنے کے مترادف ہوگا۔ اصل مسئلہ زیادہ پیچیدہ ہے جس میں ریاستی اختیار کی تقسیم، مختلف بااثر طبقات کے مفادات، مراعات کی سیاست، کمزور ادارہ جاتی نظم اور طویل عرصے سے جاری معاشی پالیسیوں کا تسلسل شامل ہے

قومی خبریں سے مزید