اے آئی سے بننے والی نئی دولت خیرات کے نئے دور کو جنم دے رہی ہے، مگر عطیات کا نظام ناکافی ہے
مصنوعی ذہانت کی صنعت تیزی سے پھیل رہی ہے اور اس سے وابستہ بہت سے افراد آنے والے برسوں میں غیر معمولی دولت کے مالک بن سکتے ہیں،ان میں سے کئی پہلے ہی اس بارے میں سوچ رہے ہیں کہ اپنی دولت کو معاشرے کی بہتری کے لیے کس طرح استعمال کیا جائے
گیو ڈائریکٹلی کے چیف ایگزیکٹو نک آلرڈائس اور فاؤنڈرز پلیج کے بانی اور صدر ڈیوڈ گولڈ برگ کے مطابق ٹیکنالوجی کے شعبے میں ایسے لوگوں کی تعداد بڑھ رہی ہے جو اپنی دولت کا بڑا حصہ فلاحی کاموں کے لیے وقف کرنا چاہتے ہیں اور اس مقصد کے لیے ان کے پاس وسائل بھی موجود ہیں
تاہم ان کے مطابق مسئلہ نیت یا مالی وسائل کی کمی نہیں بلکہ عطیات کی موجودہ ساخت ہے،بڑی رقوم کو مؤثر انداز میں ضرورت مند افراد اور ان اداروں تک پہنچانے کے لیے جو نظام موجود ہے، وہ اتنی تیزی سے تبدیل نہیں ہوا جتنی تیزی سے نئی دولت پیدا ہو رہی ہے
مصنفین کا کہنا ہے کہ اس صورت حال سے عطیہ دینے کی خواہش اور عملی طور پر مؤثر انداز میں رقم خرچ کرنے کے درمیان ایک خلا پیدا ہو رہا ہے،ایسے افراد جو حقیقی تبدیلی لانا چاہتے ہیں، انہیں یہ فیصلہ کرنے میں مشکلات پیش آتی ہیں کہ ان کی رقم کہاں اور کس طریقے سے سب سے زیادہ فائدہ پہنچا سکتی ہے
مصنوعی ذہانت کی صنعت سے پیدا ہونے والی ممکنہ نئی دولت اس مسئلے کو مزید اہم بنا رہی ہے،آنے والے برسوں میں اگر اس شعبے سے وابستہ افراد کی ایک بڑی تعداد غیر معمولی دولت حاصل کرتی ہے تو فلاحی شعبے میں سرمایہ کاری کے لیے دستیاب رقم بھی نمایاں طور پر بڑھ سکتی ہے
مصنفین کے مطابق اس موقع سے حقیقی فائدہ اٹھانے کے لیے صرف نئے ارب پتیوں کا پیدا ہونا کافی نہیں، بلکہ ایسا مؤثر اور شفاف نظام بھی درکار ہے جو ان کی دولت کو ان لوگوں تک پہنچا سکے جہاں اس کی سب سے زیادہ ضرورت ہے،بصورت دیگر خیرات کرنے کی خواہش اور حقیقی سماجی تبدیلی کے درمیان موجود خلا برقرار رہ سکتا ہے





