مال بردار گاڑیوں کی ہڑتال سے بندرگاہوں پر دباؤ، حکومت نے اعلیٰ سطحی مذاکرات طلب کرلیے
ملک بھر میں مال بردار ٹرکوں اور خوردنی تیل لے جانے والے ٹینکروں کی آٹھ روز سے جاری ہڑتال کے باعث کراچی کی بندرگاہوں پر سامان اور کنٹینرز جمع ہونا شروع ہوگئے ہیں۔ صورتحال کے پیش نظر حکومت نے معاملہ حل کرنے کے لیے اعلیٰ سطحی مذاکرات کا فیصلہ کیا ہے
وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان اور پنجاب کے وزیر ٹرانسپورٹ بلال اکبر کراچی پہنچ کر مذاکرات میں حصہ لیں گے۔ سندھ کے گورنر، صوبائی وزیر ٹرانسپورٹ، کراچی پورٹ ٹرسٹ اور پورٹ قاسم کے حکام بھی اجلاس میں شریک ہوں گے
حکام کے مطابق بندرگاہوں کی صورتحال ابھی انتہائی تشویشناک نہیں، تاہم ہڑتال کے باعث کنٹینرز کی تعداد بڑھنے سے دباؤ واضح طور پر محسوس کیا جا رہا ہے۔ ملک بھر میں ہزاروں مال بردار گاڑیاں سڑکوں سے ہٹ چکی ہیں
ٹرانسپورٹرز کا بڑا مطالبہ مال برداری پر عائد سات فیصد ودہولڈنگ ٹیکس کو کم کرکے دو فیصد کرنا ہے۔ گزشتہ مالی سال میں یہ شرح چھ فیصد تھی جبکہ ایندھن لے جانے والے ٹینکروں کے لیے شرح دو فیصد ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ ٹیکس میں بڑی تبدیلی مالیاتی قانون کے ذریعے ہی کی جاسکتی ہے
ٹرانسپورٹرز نے ایسی گاڑیوں کو ضبط کرنے کے طریقہ کار پر بھی اعتراض کیا ہے جن میں اسمگل شدہ یا غیر قانونی سامان موجود ہو۔ ان کا کہنا ہے کہ اس معاملے میں گاڑی مالکان کو درپیش مسائل کا حل ضروری ہے
حکومت نے ٹرانسپورٹرز کے بعض مطالبات پر ریلیف دینے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ کراچی بندرگاہ پر مال بردار ٹرکوں اور ٹریلرز کے لیے مخصوص پارکنگ کی سہولت قائم کرنے کے علاوہ دس پہیوں والی گاڑیوں کے لیے شاہراہوں اور موٹرویز پر زیادہ سے زیادہ ایکسل وزن کی حد میں عارضی رعایت دینے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے
تاہم ٹرانسپورٹرز کا کہنا ہے کہ صرف زبانی یقین دہانیاں کافی نہیں اور وہ عملی پیش رفت کے بغیر ہڑتال ختم نہیں کریں گے۔ ان کے نمائندوں نے مذاکرات کے ذریعے مستقل حل تلاش کرنے پر زور دیتے ہوئے ٹرانسپورٹرز سے پرامن رہنے اور افواہوں پر کان نہ دھرنے کی اپیل کی ہے
اگر مذاکرات کامیاب نہ ہوئے تو بندرگاہوں پر کنٹینرز کا دباؤ مزید بڑھ سکتا ہے، جس سے ملک کی درآمدی اور برآمدی سرگرمیاں متاثر ہونے کا خدشہ ہے





