سائنس دانوں نے نئی رنگت کا راز کھول لیا، انسانی آنکھ کے لیے رنگوں کی دنیا میں نیا باب
سائنس دانوں نے انسانی بصارت کے حوالے سے ایک غیر معمولی تجربے کے ذریعے ایسی رنگت کا مشاہدہ کیا ہے جو عام حالات میں انسانی آنکھ کے لیے ممکن نہیں سمجھی جاتی تھی۔
تحقیق کاروں نے جدید لیزر ٹیکنالوجی اور آنکھ کے مخصوص خلیوں کو متحرک کرنے کے طریقے کے ذریعے شرکاء کو ایک ایسی منفرد رنگت دکھائی جسے عام رنگوں کے دائرے میں بیان کرنا مشکل ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ تجربہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ انسانی آنکھ اور دماغ میں رنگوں کو محسوس کرنے کی صلاحیت کے ایسے امکانات موجود ہیں جو اب تک دریافت نہیں ہوئے تھے۔
عام طور پر انسان تین بنیادی رنگی حساس خلیوں کی مدد سے دنیا کے رنگ محسوس کرتا ہے، لیکن سائنس دانوں نے ایک مخصوص تکنیک کے ذریعے ان خلیوں کے ردعمل کو اس انداز میں تبدیل کیا کہ دماغ نے ایک ایسی بصری کیفیت محسوس کی جو قدرتی طور پر دیکھنا ممکن نہیں۔
محققین کا کہنا ہے کہ یہ دریافت صرف رنگوں کی دنیا تک محدود نہیں بلکہ آنکھوں کی بیماریوں کے علاج، بصری سائنس اور انسانی دماغ کے کام کو سمجھنے میں بھی نئی راہیں کھول سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ انسان نے کوئی نیا “قدرتی رنگ” دریافت کر لیا ہے، تاہم یہ ضرور ہے کہ سائنس نے انسانی بصارت کی حدود کو ایک نئی سمت میں آگے بڑھایا ہے






