مودی مخالف نعروں پر 15 سالہ طالب علم کی معذرت، احتجاج، پولیس کارروائی اور سیاسی بحث تیز
بھارت میں وزیر اعظم نریندر مودی کے خلاف مبینہ توہین آمیز نعرے لگانے کے الزام میں ایک 15 سالہ طالب علم نے ویڈیو پیغام جاری کرتے ہوئے معافی مانگ لی ہے، جس کے بعد یہ معاملہ مزید سیاسی بحث کا موضوع بن گیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق یہ واقعہ دہلی کے جنتر منتر پر ہونے والے کوکروچ جنتا پارٹی (CJP) کے احتجاج کے دوران پیش آیا، جہاں طالب علم پر الزام ہے کہ اس نے وزیر اعظم مودی کے خلاف نازیبا نعرے لگائے۔
معافی کی ویڈیو میں طالب علم نے کہا کہ وہ اپنے الفاظ پر شرمندہ ہے اور اسے احساس ہے کہ اس سے غلطی ہوئی۔ ویڈیو اس وقت سامنے آئی جب وزیر اعظم مودی نے اس معاملے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ نوجوانوں کو سزا دینے کے بجائے ان کی رہنمائی کی ضرورت ہے۔
تاہم پولیس نے اس معاملے میں قانونی کارروائی جاری رکھی ہوئی ہے، جبکہ احتجاج کے منتظمین نے کم عمر طالب علم کے خلاف فوجداری کارروائی پر سوالات اٹھائے ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ ایک نابالغ کے معاملے کو مختلف انداز میں دیکھا جانا چاہیے اور اصلاحی طریقہ اختیار کیا جانا چاہیے۔
یہ واقعہ بھارت میں آزادیِ اظہار، سیاسی احتجاج، نوجوانوں کی ذمہ داری اور قانون کے نفاذ کے درمیان توازن پر ایک نئی بحث کا باعث بن گیا ہے۔ حامیوں کا کہنا ہے کہ سیاسی اختلاف کے باوجود کسی بھی شخصیت کے خلاف توہین آمیز زبان قابلِ قبول نہیں، جبکہ ناقدین کا کہنا ہے کہ کم عمر افراد کے معاملات میں سخت قانونی کارروائی کے بجائے تربیت اور اصلاح کو ترجیح دینی چاہیے





