نئے انتظامی یونٹس کی تجویز پر ملک بھر میں سیاسی ہلچل، پیپلز پارٹی، سندھ حکومت اور وکلا کی سخت مخالفت
اسلام آباد: وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی جانب سے ملک میں نئے انتظامی یونٹس اور صوبوں کے قیام کی تجویز نے ملک بھر میں نئی سیاسی بحث چھیڑ دی ہے۔ مختلف سیاسی جماعتوں، سندھ حکومت، وکلا تنظیموں اور قوم پرست جماعتوں نے اس تجویز پر شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔
وفاقی وزیر داخلہ نے پاکستان اکنامک سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ نظامِ حکمرانی ناکام ہو چکا ہے اور ملک کے مسائل حل کرنے کے لیے تمام سیاسی جماعتوں کو ایک میز پر بیٹھ کر نئے انتظامی یونٹس اور دیگر آئینی معاملات پر اتفاقِ رائے پیدا کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ مزید انتظامی یونٹس کے قیام سے عوام کو بنیادی سہولیات ان کی دہلیز تک پہنچائی جا سکیں گی، جبکہ نوجوانوں کو وظیفوں اور لیپ ٹاپ کے بجائے انصاف، میرٹ اور روزگار کی ضرورت ہے۔
دوسری جانب پاکستان پیپلز پارٹی کے سیکریٹری جنرل نیئر بخاری نے کہا کہ نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کا معاملہ پارٹی کی مرکزی مجلس عاملہ (سی ای سی) میں زیر غور آئے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ آئین کے مطابق کسی بھی نئے صوبے کے قیام یا صوبائی حدود میں تبدیلی کے لیے متعلقہ صوبائی اسمبلی، قومی اسمبلی اور سینیٹ میں دو تہائی اکثریت ضروری ہے، اور ایسا کوئی فیصلہ محض انتظامی حکم کے ذریعے نہیں کیا جا سکتا۔
ادھر وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے اس تجویز کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ سندھ کے عوام نئے انتظامی یونٹس یا صوبوں کے قیام کو ہرگز قبول نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ اگر وفاقی وزیر موجودہ نظام میں خامیاں دیکھتے ہیں تو انہیں اپنی تجاویز پارلیمان میں پیش کرنی چاہئیں، تاہم سندھ کی تقسیم کسی صورت قابل قبول نہیں۔
لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن نے بھی وزیر داخلہ کے بیان کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملک کی ترقی، استحکام اور خوشحالی صرف آئین، قانون کی حکمرانی اور عدلیہ کی آزادی کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ بار کے عہدیداروں نے مطالبہ کیا کہ سیاسی کارکنوں کو فوری رہا کیا جائے اور ریاستی ادارے سیاسی معاملات میں مداخلت بند کریں۔
دریں اثنا عوامی تحریک سمیت سندھ کی قوم پرست جماعتوں نے وزیر داخلہ کے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ نئے صوبوں کی تجویز دراصل سندھ کی تقسیم کی کوشش ہے، جسے سندھ کے عوام کسی بھی صورت قبول نہیں کریں گے





