اٹارنی جنرل پاکستان کی رہائش گاہ پر پولیس کا چھاپہ۔ پوشیدہ طاقتیں کس بنا پر اپنے اہم مہرے کو سبق سکھانے پر تل گئیں؟
اسلام آباد : پاکستانی عدلیہ کی ایک اہم شخصیت اٹارنی جنرل آف پاکستان منصور اعوان کی رہائش گاہ پر پولیس کے چھاپے کی خبر سے پورے ملک میں تہلکہ مچ گیا ہے۔ کہ ایک SHO معیت میں لاہور پولیس کی بھاری نفری نے بعض غیر قانونی سرگرمیوں کی اطلاع ملنے پر متعلقہ ایس پی کی اجازت سے اٹارنی جنرل کے گھر پر دھاوا بول کر اہل خانہ کے ساتھ بدتمیزی کی اور توڑ پھوڑ بھی ، ایک معروف نیوز چینل کے رپورٹر کیمطابق اٹارنی جنرل کی اہلیہ اور ایک سابق گورنر کی اہلیہ بھی اسوقت گھر میں موجود تھیں ۔ بعد ازاں اس واقعے کو غلط فہمی کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے گیارہ پولیس اہلکاروں کو معطل کر دیا گیا اور انکے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا، تاہم بعض اندرونی حلقے اس واقعے کے تانے بانے کچھ اہم طاقتور اداروں کی جانب سے دیے گئے ایک معنی خیز خاموش پیغام سے جوڑ رہے ہیں جبکہ معروف صحافی مطیع اللہ جان کےمطابق اٹارنی جنرل منصور اعوان وزیر قانون اعظم نذیر تارّر اور مسلم لیگی قانون دان احسن بھون کی طرف سے اعلیٰ عدلیہ کی آزادی ختم کرنے کے برابر ذمہ دار ہیں ، انکو اسٹیبلشمنٹ کے قریب بھی سمجھا جاتا ہے کہ ججوں کی تقریوں، سیاسی مخالفین کے خلاف کاروائیوں سے لیکر حالیہ اور آئندہ کی آئینی ترامیم میں بھی منصور اعوان کی بھرپور معاونت بتائ جاتی ہے، حکومت نے اٹارنی جنرل کو انکے آبائی حلقے کیلئے اربوں روپوں کے فنڈز بھی جاری کیے ہیں جہاں سے وہ آئندہ ایم این اے کا الیکشن مسلم لیگ ن کے پلیٹ فارم سے لڑنے کا ارادہ رکھتے ہیں، تجزیہ نگار ابھی تک اس گتھی کو سلجھانے کی کوشش میں ہیں کہ تمام تر تابعداری اور قربت کے باوجود منصور اعوان سے وہ کیا حرکت سرزد ہوئی کہ انکو اس حد تک بے عزت کیا گیا، اور بعد ازاں انتہائی بھونڈے طریقے سے تمام واقعے کو کور اپ کیا گیا، یہ وہ ملین ڈالر کا سوال ہے جسے اسلام آباد میں متعدد افراد کے ساتھ اہم سیاسی حلقے حل کرنے کی کوشش میں سرگرداں نظر آتے ہیں، جبکہ بتایا جاتا ہے اس واقعہ کے بعد اٹارنی جنرل کو جیسے چپ سی لگ گئی ہے





