سائنس دانوں نے ہزاروں لوگوں کی خاموشی سے سنی باتوں سے کیا سیکھا؟ انسان کم بول رہا ہے، مگر اس کی گفتگو اس کی شخصیت کا آئینہ ہے

سائنس دانوں نے ہزاروں لوگوں کی خاموشی سے سنی باتوں سے کیا سیکھا؟ انسان کم بول رہا ہے، مگر اس کی گفتگو اس کی شخصیت کا آئینہ ہے

کیا انسان واقعی پہلے کے مقابلے میں کم بات کرنے لگا ہے؟ کیا مرد اور عورتوں میں بات کرنے کی مقدار کا وہ فرق موجود ہے جس کا برسوں سے دعویٰ کیا جاتا رہا؟ اور کیا ہماری روزمرہ گفتگو ہماری شخصیت، تعلقات اور ذہنی کیفیت کے بارے میں وہ راز بتا سکتی ہے جو ہم خود بھی نہیں جانتے؟

سائنس دانوں نے ہزاروں افراد کی روزمرہ زندگی میں ہونے والی گفتگو کا جائزہ لے کر کچھ حیران کن نتائج حاصل کیے ہیں۔ ایک خاص آلے، جسے الیکٹرانک ایکٹیویٹڈ ریکارڈر (ای اے آر) کہا جاتا ہے، کے ذریعے محققین نے لوگوں کی گفتگو کے چھوٹے چھوٹے حصے ریکارڈ کیے تاکہ یہ سمجھا جا سکے کہ انسان حقیقت میں کتنا بولتا ہے اور کس طرح بات چیت کرتا ہے
ابتدائی تحقیق نے ایک مشہور خیال کو غلط ثابت کیا کہ خواتین مردوں کے مقابلے میں زیادہ بات کرتی ہیں۔ محققین نے پایا کہ عام دن میں مرد اور خواتین تقریباً یکساں مقدار میں گفتگو کرتے ہیں، اور دونوں گروپ اوسطاً تقریباً 16,000 الفاظ روزانہ بولتے تھے
لیکن بعد کی ایک بڑی تحقیق، جس میں 2005 سے 2019 کے درمیان 10 سے 94 سال تک کے 2,000 سے زیادہ افراد کی گفتگو کا جائزہ لیا گیا، نے ایک نیا رجحان ظاہر کیا: انسان مجموعی طور پر کم بولنے لگا ہے۔ اس تحقیق کے مطابق روزانہ بولے جانے والے الفاظ کی اوسط تعداد تقریباً 12,700 تک آ گئی، جو پہلے کے اندازوں سے تقریباً 20 فیصد کم تھی
سب سے حیران کن بات یہ تھی کہ نوجوان نسل میں یہ کمی زیادہ نمایاں نظر آئی۔ 25 سال سے کم عمر افراد میں روزانہ بولے جانے والے الفاظ میں ہر سال نمایاں کمی دیکھی گئی۔ محققین کے مطابق اس کا ایک ممکنہ سبب یہ ہو سکتا ہے کہ آمنے سامنے گفتگو کی جگہ پیغامات، سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل رابطوں نے لے لی ہے
سائنس دانوں کے مطابق مسئلہ صرف الفاظ کی تعداد کا نہیں بلکہ انسانی تعلقات کے معیار کا بھی ہے۔ عام گفتگو، راستے میں کسی سے بات کرنا، پڑوسی سے خیریت پوچھنا یا کسی اجنبی سے مختصر تبادلہ خیال بھی انسانی ذہنی صحت اور سماجی تعلقات میں کردار ادا کرتا ہے۔

یہ تحقیق اس لیے بھی اہم ہے کہ انسان اکثر اپنی عادات کے بارے میں درست اندازہ نہیں لگا پاتا۔ لوگ بتاتے کچھ اور ہیں، لیکن جب ان کی روزمرہ زندگی کو قدرتی ماحول میں دیکھا جاتا ہے تو تصویر مختلف سامنے آتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ای اے آر جیسے آلات نے ماہرین کو انسانی رویوں کا ایک نیا زاویہ فراہم کیا
محققین نے اس طریقے کو صرف گفتگو کے مطالعے تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے ذہنی صحت، ازدواجی تعلقات، افسردگی اور سماجی رویوں کے جائزے کے لیے بھی استعمال کیا ہے۔ بعض مطالعات میں لوگوں کی گفتگو کے انداز سے ان کی جذباتی کیفیت اور تعلقات کے مسائل کو سمجھنے کی کوشش کی گئی
تاہم سائنس دان خبردار کرتے ہیں کہ کم بولنے کا مطلب لازماً یہ نہیں کہ انسان کمزور سماجی زندگی گزار رہا ہے۔ ڈیجیٹل رابطوں نے گفتگو کے طریقے بدل دیے ہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا ٹیکنالوجی نے صرف الفاظ کا ذریعہ بدلا ہے یا انسانی تعلقات کی گہرائی بھی متاثر ہو رہی ہے۔

یہ تحقیق ایک بڑے سماجی سوال کی طرف اشارہ کرتی ہے: ایک ایسی دنیا میں جہاں انسان ہر وقت آن لائن جڑا ہوا ہے، کیا وہ حقیقت میں ایک دوسرے سے کم جڑ رہا ہے؟

ہزاروں لوگوں کی خاموشی سے سنی گئی گفتگو نے سائنس دانوں کو یہی بتایا کہ انسان کی اصل کہانی صرف اس میں نہیں کہ وہ کیا کہتا ہے، بلکہ اس میں بھی ہے کہ وہ کتنا بولتا ہے، کس سے بولتا ہے اور کن لمحوں میں خاموش رہ جاتا ہے

قومی خبریں سے مزید