مصنوعی ذہانت کا انقلاب، ایک شخص بھی اب اسٹارٹ اپ چلا سکتا ہے مگر انسانوں کی ضرورت ختم نہیں ہوئی

مصنوعی ذہانت کا انقلاب، ایک شخص بھی اب اسٹارٹ اپ چلا سکتا ہے مگر انسانوں کی ضرورت ختم نہیں ہوئی

مصنوعی ذہانت نے اسٹارٹ اپ بنانے کے روایتی طریقے کو بدلنا شروع کر دیا ہے۔ ماضی میں ایک کاروبار شروع کرنے کے لیے پہلے ٹیم بنائی جاتی تھی، پروگرامرز، مارکیٹنگ ماہرین اور دیگر ملازمین رکھے جاتے تھے، لیکن اب کئی بانی افراد اے آئی کی مدد سے اکیلے ہی مصنوعات تیار، تحقیق، تشہیر، صارفین کی مدد اور کاروباری انتظام کے کام انجام دے رہے ہیں۔

ماہرین کے مطابق اے آئی نے ایک فرد کی صلاحیت کو کئی گنا بڑھا دیا ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ مستقبل میں ٹیموں کی ضرورت ختم ہو جائے گی۔ تبدیلی یہ آئے گی کہ کمپنیاں ملازمین کب رکھیں گی اور انہیں کن شعبوں میں استعمال کریں گی۔

انسانی تخلیقی سوچ، قیادت، تعلقات قائم کرنا، بڑے فیصلے کرنا اور کاروباری وژن جیسے شعبے اب بھی وہ ہیں جہاں اے آئی انسان کا مکمل متبادل نہیں بن سکتی۔ مستقبل کا کامیاب کاروباری ماڈل ممکنہ طور پر انسان اور مصنوعی ذہانت کے امتزاج پر قائم ہوگا

قومی خبریں سے مزید